لاہورہائیکورٹ نے خاتون کو عدالت کی دہلیز پر سنگسار کرنے کا نوٹس لے لیا

لاہورہائیکورٹ نے خاتون کو عدالت کی دہلیز پر سنگسار کرنے کا نوٹس لے لیا

لاہور(نامہ نگار خصوصی )لاہورہائی کورٹ نے پسند کی شادی کرنے والی خاتون کو عدالت عالیہ کی دہلیز پر سنگسار کرنے کے واقعہ کا نوٹس لے لیا۔اس سلسلے میں سیشن جج لاہور کو ہدایت کی گئی ہے کہ پولیس کی طرف سے ملزموں کی گرفتاری کے لئے کئے گئے اقدامات کی رپورٹ فوری طور پر ہائی کورٹ میں پیش کی جائے ۔تفصیلات کے مطابق جڑانوالہ کے علاقہ سیدوالا میں رہائش پذیر محمد اقبال نے اپنے گاﺅں کے رہائشی عظیم کی بیٹی فرزانہ سے محبت کی دوسری شادی کی جس کا لڑکی کے گھر والوں کو رنج تھا اور انہوں نے اقبال کے خلاف تھانہ سیدوالا میں اغوا کا مقدمہ درج کرا دیا۔لیکن فرزانہ نے پولیس کو بیان دیا کہ محمد اقبال کے ساتھ اس نے مرضی سے شادی کی ہے اور ہائیکورٹ میں درخواست دی کہ اقبال کے خلاف اغوا کا مقدمہ ختم کیا جائے۔ اسی سلسلے میں منگل کو وہ عدالت آ رہے تھے کہ ہائیکورٹ کے قریب گھات لگائے بیٹھے اسکے باپ، ماموں زاد سابقہ منگیتر اور مسلح بھائیوں نے لڑکی کو دبوچ لیا اور اس کے سر پر اینٹوں کے وار کرکے لہولہان کر دیا اور فرار ہو گئے۔ عینی شاہدین کے مطابق فرزانہ راہگیروں سے مدد مانگتی رہی مگر کسی نے آگے بڑھ کر اسکی مدد نہ کی۔ متاثرہ لڑکی کو سر پر شدید چوٹیں آئی جس کی وجہ سے وہ موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ فرزانہ کے خاوند اقبال نے اس کے والد، دو بھائیوں، سابق منگیتر اور 15نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دیدی۔ فرزانہ 3ماہ کی حاملہ بتائی جا رہی ہے۔عدالت عالیہ لاہور کے شکایات سیل نے مذکورہ واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کو واقعہ کی تفصیلی رپورٹ فوری طورپر پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

نوٹس

مزید : علاقائی