سی این جی کی صنعت سازشوں کا شکار اپنے حقوق کیلئے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں

سی این جی کی صنعت سازشوں کا شکار اپنے حقوق کیلئے ہر حد تک جانے کو تیار ہیں

                                                     لاہور(کامرس رپورٹر) آل پاکستان سی این جی ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین پرویز خان خٹک نے کہا ہے کہ پنجاب میں سی این جی شعبہ سے زیادتی کی انتہا ہو گئی ہے۔ موجودہ حکومت نے سابق حکومت کے مقابلہ میں زیادہ مایوس کیا جس سے سی این جی مالکان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ہم مزید قربانی کا بکرا بننے کو تیار نہیں اورحقوق کے حصول کیلئے ہرحد تک جانے کو تیار ہیں۔ پرویز خان خٹک نے یہ بات اے پی سی این جی اے پنجاب کے ایک ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اجلاس میں سپریم کونسل کے چیئرمین غیاث پراچہ، اول نائب چیئرمین برگیڈئیر افتخار، چیئرمین پنجاب میاں شاہد، چودھری صلاح الدین، کیپٹن شجاع اور دیگر ممبران نے شرکت کی۔پرویز خٹک نے کہا کہ سی این جی کی صنعت سازشوں کا شکار ہے اور اسے بند کرنے کے لئے مختلف گروپ ہر ممکن کوششیں کر رہے ہیں تاکہ ملک میں تیل کی درامد بڑھانے کے علاوہ قدرتی گیس جیسے اہم قومی اثاثے کی لوٹ مار جاری رہے۔ان گروہوں کو بیوروکریسی میں بعض عناصر کی مکمل پشت پناہی حاصل ہے اسلئے سب سے مہنگی گیس خریدنے اور سب سے زیادہ ٹیکس ادا کرنے والے شعبہ کو تباہ اور کوڑیوں کے مول گیس لے کر اپنی تجوریاں بھرنے والوں کو مسلسل نوازا جا رہا ہے۔پرویز خٹک نے کہا کہ پنجاب میں سی این جی کی فراہمی کا دورانیہ مسلسل کم کیا جا رہا ہے جس دوران دانستہ پریشر کم کر کے ہماری تباہی کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے۔ گیس بچانے کے لئے صرف سی این جی سیکٹر کو نشانہ بنایا جا رہا ہے جبکہ چار سو ارب روپے کی قدرتی گیس ضائع کرنے والے نجی پاور پلانٹس کی خاطر سپریم کورٹ کے احکامات کوبھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ان غیر قانونی و غیر فعال نجی بجلی گھر بند کئے بغیربجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی ناممکن ہے۔ عدالتی احکامات، پلاننگ کمیشن، پانی و بجلی، پٹرولیم اور خزانہ کی وزارتوں کی کوششوںاور دیگر ماہرین کی رپورٹوں کو نظر اندار کر کے اشرافیہ کو نوازا جا رہا ہے بلکہ اب تو اس دھندے کوقانونی تحفظ دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے جو بیس کروڑ عوام کے استحصال کے مترادف ہے جسکی اجازت نہیں دی جا سکتی ۔ قومی احتساب بیورو نجی بجلی گھروں کو سستی گیس کی فراہمی کو جرم قرار دے چکا ہے مگر پھر بھی ان بجلی گھروں کے با اثر مالکان چار روپے فی یونٹ بجلی بنا کر انیس روپے کی غیر قانونی فروخت کر رہے ہیںجبکہ اوگرا اور نیپرا سمیت تمام محکمے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔سی این جی سیکٹر کے پاس گیس کا متبادل نہیں اور انھیں پہلے ہی ضرورت سے بہت کم گیس مل رہی ہے اسمیں مزید کمی اسے برباد کر دیگی۔نجی بجلی گھروں کے مالکان کی مضبوط لابی توانائی بحران کے خاتمہ اور زرعی خود کفالت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔اگر انھیں بند کر دیا جائے تو لوڈ شیڈنگ کے دورانیہ میں چارگھنٹے کی کمی، لاکھوں کاروبار رواں اور کروڑوں افراد کو روزگار ملے گا جبکہ سی این جی، فرٹیلائیزر و عام صنعتیں مفلوج نہیں رہینگی۔اسی لابی کی ایما پر سابق دور حکومت میں گیس کی فراہمی کی ترجیحی فہرست میں کئی بار غیر قانونی ترمیم کی گئی، انرجی بیوروکریسی کو سراسیمہ کیا گیا اور اب اس دھندے کو اقتصادی رابطہ کمیٹی کے زریعے قانونی تحفظ دینے کی سازش کی جا رہی ہے جو امتیازی سلوک ہے۔

پرویز خٹک

مزید : علاقائی