حکومت طالبان دھڑوں میں پیدا ہونے والے اختلافات سے فائدہ اٹھائے : خورشید شاہ

حکومت طالبان دھڑوں میں پیدا ہونے والے اختلافات سے فائدہ اٹھائے : خورشید شاہ
حکومت طالبان دھڑوں میں پیدا ہونے والے اختلافات سے فائدہ اٹھائے : خورشید شاہ

  

سکھر(مانیٹرنگ ڈیسک ) قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ حکومت کو طالبان دھڑوں میں ہونے والے اختلافات سے بھرپور فائدہ اٹھانا چاہیئے ،طالبان رہنما سید خالد سجنا نے خود کہا کہ طالبان کا ایک گروپ مولوی فضل اللہ کی قیادت میں ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، دہشت گردی، کرپشن اور بھتہ خوری میں ملوث ہے تو حکومت کو طالبان دھڑوں کے آپسی اختلافات سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔نجی ٹی وی میڈیا سے بات کرتے ہوئے خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ جو طالبان گروپ بات کرنا چاہتے ہیں حکومت کو ان سے مذاکرات کرنے چاہیئیں، طالبان رہنما سید خالد سجنا نے خود کہا کہ طالبان کا ایک گروپ مولوی فضل اللہ کی قیادت میں ڈکیتی، اغوا برائے تاوان، دہشت گردی، کرپشن اور بھتہ خوری میں ملوث ہے تو حکومت کو طالبان دھڑوں کے آپسی اختلافات سے فائدہ اٹھانا چاہیئے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اتحاد سب کا بنیادی حق ہے مگر اس بات کا خیال رکھنا چاہیئے کہ یہ اتحاد صرف حکومت کے خلاف ہو اس سے ملک کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔خورشید شاہ نے کہا کہ حکومت کو عمران خان کے مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے 4 ن لیگ کے اور 4 تحریک انصاف کے جیتے ہوئے حلقوں میں ووٹوں کی دوبارہ گنتی کروا کے معاملے کو ختم کرنا چاہیئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے، اگر یہ معاملہ جلد حل نہ کیا گیا تو معاملہ دن بدن بدتر ہوتا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور مخدوم امین فہیم پر کرپشن کے الزامات پر بہت افسوس ہے، ہمیں یہ سمجھ نہیں آتا کہ حکومت یہ خود کر رہی ہے یا کسی کے ذریعے کروا رہی ہے، کسی کے کہنے پر کر رہی ہے یا پھر کسی کے دباو¿ میں آکر یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔قائد حرب اختلاف نے کہا کہ پیپلز پارٹی اس سسٹم کو بچانے کے لئے آگے بڑھ رہی ہے لیکن اگر حکومت نے ماضی کی سیاست کو جاری رکھا اور ہمارے رہنماو¿ں کو اسی طرح الزامات کا نشانہ بنایا جاتا رہا تو پھر مجبورا ہمیں اپنے راستے ڈھونڈنے پڑیں گے، جمہوریتیں انتقام پر نہیں چلتیں، وزیراعظم نواز شریف کو اپنی ٹیم کو بلا کر اس معاملے پر بات کرنی چاہیئے اور اگر نواز شریف کے ہاتھ سے معاملہ آگے بڑھ چکا ہے تو انھیں چاہیئے کہ پیپلز پارٹی کو اس حوالے سے اعتماد میں لیں۔

مزید : سکھر