بجٹ میں کاروباری خواتین کی ترقی کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان کیا جائے

بجٹ میں کاروباری خواتین کی ترقی کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان کیا جائے

 اسلام آباد(اے این این )ایف پی سی سی آئی کے صدر عبدالرؤف عالم نے کہا ہے کہ ملکی آبادی کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہے جنھیں قومی دھارے میں لائے بغیر ملکی ترقی کی رفتار سست رہے گی۔ آمدہ بجٹ میں کاروباری خواتین کی ترقی کیلئے خصوصی پیکج کا اعلان کیا جائے کیونکہ معاشی سرگرمیوں میں خواتین کی بھرپور شمولیت کے بغیرترقی ممکن نہیں ۔ملک بھر کی کاروباری برادری خواتین کو با اختیار بنانے کی حکومتی کوششوں کی بھرپور حمایت کرتی ہے۔ایف پی سی سی آئی کے صدر عبدالرؤف عالم یہ بات اسلام آباد ویمن چیمبر کی بانی صدر ثمینہ فاضل کی قیادت میں آنے والے ایک وفد سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ بجٹ میں کاروباری خواتین کی ترقی کیلئے خصوصی پیکج نہیں دیا گیا تھا اسلئے آمدہ بجٹ میں اس پر غور کیا جائے۔شہری اور دیہی خواتین کو ترقی کے لئے بھرپور مواقع دینے کی ضرورت ہے جس کے لئے حکومت کے ساتھ نجی شعبہ کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہو گا جبکہ اس ضمن میں ویمن چیمبرز کا کردار انتہائی اہم ہے۔حکومت پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کے لئے خواتین کی ہر ممکن حوصلہ افزائی جاری رکھے جبکہ تاجر برادری ویمن چیمبر ز کی نمائش کی بھرپور مدد کرے کیونکہ ایسی نمائشوں سے خواتین کو با اختیار بنانے میں مدد ملتی ہے ۔ صدر عبدالرؤف عالم نے کہا کہ حکومت نے صنفی مساوا ت کے لئے متعدداقدامات کئے ہیں جبکہ خواتین کی فلاح و بہبود اور انکے کاروبار کے فروغ دینے میں خصوصی دلچسپی لی جا رہی ہے۔خواتین کی استعداد میں اضافہ، مسائل کے حل اور سازگارماحول اور یکساں مواقع کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے مزید اقدامات کی ضرورت ہے۔ ہم عورتوں کے لئے خوشحال اور محفوظ مستقبل چاہتے ہیں جس کے لئے انکی مصنوعات کو اندرون وبیرون ملک روشناس کروا نے میں ہر ممکن تعاون کرینگے ۔ہم انھیں نئی منڈیاں تلاش کرنے میں مدد جبکہ شہری خواتین کے ساتھ دیہی ہنرمند خواتین کو مواقع دینگے۔ خواتین کو زیادہ محنت کے باوجود مردوں کے مقابلے میں کم معاوضہ دیا جاتا ہے جس سے انکی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔اس موقع پر ایف پی سی سی آئی کی نائب صدر ساجدہ زولفقار اور ثمینہ فاضل نے کہا کہ خواتین ملکی آبادی کا 51 فیصد ہیں مگر انھیں ترقی کیلئے یکساں مواقع نہیں ملتے۔

انھیں قرضوں کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس سے انکے کاروبار کی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔ خواتین کو قومی دھارے میں شامل کرنے سے غریب کا خاتمہ یقینی ہو جائے گا۔انھوں نے کہا کہ یشیا میں ڈیڑھ ارب غریب اور 66 کروڑ انتہائی غریب ہیں جن کی اکثریت سارک ممالک میں رہتی ہے ۔

جبکہ پاکستان میں 60فیصد سے زیادہ غریب اور 71فیصد لڑکیاں ثانوی درجہ کی تعلیم سے محروم ہیں۔

مزید : کامرس