مک مکا کی سیاست۔۔۔ اداروں کے فرائض

مک مکا کی سیاست۔۔۔ اداروں کے فرائض
مک مکا کی سیاست۔۔۔ اداروں کے فرائض

  

اقتدار کے ایوانوں اور سیاست کے میدانوں میں سیاستدانوں کی آپس میں نورا کشتی چلتی رہتی ہے اور بعض اوقات یہ نورا کشتی دھینگا مشتی تک بھی پہنچ جاتی ہے لیکن اس سے آگے بات نہیں بڑھتی کیونکہ فریقین کو معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس سے آگے بڑھیں گے تو دونوں کو نقصان ہوگا لہٰذا اپنے اپنے نقصان سے بچنے کے لئے دونوں فریق خاموش ہو جاتے ہیں اور ان کے خاموش رہنے میں ہی فائدہ اور بھلائی ہوتی ہے قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں عوام کو اکثر ایسے متناظر دیکھنے کو ملتے ہیں جب ان کے منتخب نمائندے کسی پسماندہ علاقے کی گلیوں اورکچی آبادی کی رہائشی عورتوں جیسی لڑائی لڑتے ہیں اور ایک دوسرے کو کرپشن اور بدعنوانی میں ملوث ہونے کے طعنے دیتے ہیں اور جگتیں مخول کرتے ہیں۔ منتخب نمائندوں کی اس فرضی لڑائی اور کاغذی کارروائی کو عوام اصلی سمجھ کر کچھ ہونے کی توقع لگا لیتے ہیں ،مگر ان کو نہیں معلوم ہوتا کہ سیاسی کھلاڑی ہر گز اناڑی نہیں ہوتے جو آپس میں لڑائی کر کے سارا کھیل ہی بگاڑ لیں ایک دن اسمبلی میں لڑتے ہیں اگلے دن سب کچھ بھول جاتے ہیں چونکہ ان کو آپس کی لڑائی میں دونوں کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہوتا ہے اس لئے یہ سیاسی کھلاڑی مداری کی طرح کا کھیل پیش کرتے ہیں اور ایک خاص حد عبور نہیں کرتے آخر گلشن اقتدار کا کاروبار بھی چلانا ہوتا ہے اور ذاتی مفادات بھی حاصل کرنے ہوتے ہیں۔ ہماری قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلیوں میں ہراجلاس میں نئے نئے طرز کے تماشے دیکھنے کو ملتے ہیں ۔عوام مزے کے ساتھ دیکھ کر انجوائے کرتے ہیں مگر ملک کے لئے دردِ دل رکھنے والوں کو تکلیف ہوتی ہے مگر کیا مجال جو ان منتخب نمائندوں کو اپنے کئے پر رتی بھر ندامت ہوتی ہو ۔اگر اس طرح کے تماشے کسی مہذب ملک میں ہوں تو عوام اپنے منتخب نمائندوں کا جینا محال کر دیں۔ پاکستانی عوام اپنے لیڈروں پر کرپشن اور بد عنوانی کے نہ صرف الزام، بلکہ ثبوت دیکھ کربھی ان کے کلمے پڑھتے ہیں اور انہی کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالتے ہیں اور کرپشن کی وجہ سے عدالتوں میں آئے ہوئے سیاستدان اپنی فتح حاصل کرنے کے لئے انگلیوں کو کھڑی کرتے ہیں۔ جیسے کرپشن اورفراڈ کارِ ثواب فعل ہیں۔ کرپشن کی سزا بھگت کر رہا ہو کر آنے والے لوگوں کے گلے میں مالا اور ہار ڈالتے ہیں اور شاید ان لوگوں کے ساتھ ان کے ذاتی مفادات وابستہ ہوتے ہیں اور مفاد حاصل کئے ہوتے ہیں۔ ان مفادات پرست لوگوں کے سامنے ملک و قوم کچھ نہیں ہے۔یہ جو بلوچستان میں ایک سیکرٹری کے گھر سے تقریباً 73کروڑ روپے برآمد ہوئے دوسرے وزیر کے گھر سے 65لاکھ روپے برآمد کئے گئے ،یہ لوگ بھی ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیں۔ اس طرح کے عوام دشمن، ملک دشمن، معاشرہ دشمن لوگوں کے کیس عدالتوں میں چلیں گے۔ ان کی سزائیں فوری اور چند گھنٹوں میں، تاکہ دوسروں کو سبق حاصل ہو۔

قومی اسمبلی کے ایک سابقہ اجلاس میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ اور وزیر داخلہ چودھری نثار علی کے درمیان جنگ چھڑی اور ایک دوسرے پر الفاظ کے تیر چلائے اور لفظوں کے گولے برسائے گئے۔ وفاقی وزیر نے جو اپوزیشن لیڈر پر الزام لگائے ،اس سے تمام پاکستانی واقف ہوئے اب عمران خان، نواز شریف پر اور آصف علی زرداری پر الزام لگا رہے ہیں کہ دونوں نے اقتدار کے لئے مک مکا کیا ہوا ہے، اسی اجلاس میں اعتزاز احسن نے کہا کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیں اور کابینہ کو ختم کر کے نئی کابینہ بنائیں۔ انہوں نے انکشاف کیا تھا کہ وزیر دفاع کہتے ہیں کہ میں نے چار سال سے وزیر داخلہ سے ہاتھ نہیں ملایا۔ یہ حیران کن بات نہیں کہ کابینہ کے اندر بھی اختلافات ہیں، جبکہ پاکستان کے نظام حکومت سے پوری دنیا محو حیرت ہے، لیکن اس حیرت اورحیرانی کا کسی کو احساس نہیں ہو رہا، شاید جس کو احساس ہونا تھا ،انہی کے دم قدم سے تو اس نظام کا حلیہ بگڑ ا ہوا ہے ۔ ایک پرانی بات ہے، جب اسلام آباد میں عوامی تحریک اورتحریک انصاف نے دھرنا دے رکھا تھا۔ اس وقت وزیرداخلہ اور سینیٹر اعتزاز احسن کے درمیان ایک جھڑپ ہوئی تھی، جس میں دونوں چودھریوں نے ایک دوسرے پر سنگین الزامات لگائے تھے، لیکن پھر بھی مفاہمت کے ماسٹر مائنڈ نے دونوں کے درمیان مصالحت کروادی اوربات ختم ہوگئی ورنہ جس شدت سے اس جنگ کا آغاز ہوا تھا، محسوس ہوتا تھا کہ بات بہت دور تک جائے گی، مگر بات دو ر تک کیا جاتی، وہیں ٹھپ ہو کر رہ گئی، دونوں رہنماؤں کو مصالحت کا کھلونا پکڑا کربچوں کی طرح خاموش کرا دیا گیا۔ عوام کوسمجھ نہیں آتی ہے کہ حکومتی وزراء اور اپوزیشن ایک دوسرے پر کرپشن اوربد عنوانی کے بڑے سنگین قسم کے الزامات لگاتے ہیں، مگر کوئی ادارہ ان کے خلاف حرکت میں نہیں آتا۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ اداروں کے اندربھی مک مکا ہو جاتا ہے ۔ سب اس کھیل سے محظوظ ہو رہے ہیں اور پاکستانی لوگ پریشانیوں کے عالم میں سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ کب یہ کھیل تماشا ختم ہو گا اورعوام کے حصے میں کچھ آئے اور ملک کے مفاد کے لئے کچھ ہو۔ شاید ان حالات میں قیامت آجائے، مگر ان لوگوں نے مک مکا کر کے کچھ نہیں ہونے دینا۔ بجٹ آنے والا ہے، شنید ہے کہ غیر ملکی معاشیات کے ماہرین بجٹ بنا رہے ہیں۔ غیرملکی ماہرین کا پاکستان کی اقتصادی حالت یا ملکی حالت سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ لوگ غیر ملکی بنکوں آئی ایم ایف اور دوسرے معاملات کو درست رکھنے کے لئے فنانس کے معاملات میں دخل اندازی کررہے ہیں، حالانکہ پاکستان میں معاشی ماہرین کی کمی نہیں جو غیر سیاسی بھی ہیں، مگر پاکستانی ماہرین معاشیات نے موجودہ حکومت کی کمزوریوں اور عوام کی حالت دیکھ کر بجٹ بنانا تھا۔

چند دنوں سے پاناما لیکس نے دنیا میں ایک کھڑاک کیا ہے۔ بیرونی دنیا کے کچھ ملکوں کے لوگوں نے حقیقت کو تسلیم کرکے ہار مان لی ہے ،مگر پاکستان میں پاناما لیکس نے جو پردہ اٹھایا ہے، بے شک پاکستانی لوگوں کو علم تھا کہ پاکستان کے چند سیاستدانوں بیوروکریٹ اور کاروباری لوگوں نے اپنے اپنے شعبے میں پاکستانی خزانہ لوٹنے ،کرپشن کرنے میں کوئی کسرنہیں چھوڑی، وہ انتہا کو چھو رہے ہیں اور ان لوگوں نے جس طرح پاکستانی عوام کو بے وقوف بنا کر اپنے اپنے کاروبار کی ترقی کے لئے عوام کا خون نچوڑا اوردن دگنی رات چوگنی ترقی کی۔ یہ بھی پوشیدہ راز تھا، عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں۔ بیماریوں کی وجہ سے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، جعلی روٹیاں کھا کھا کر مزید بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے جن کے ہاتھوں میں کتابیں ہونی چاہیں تھیں۔ وہ اپنا پیٹ پالنے کے لئے کم عمری میں محنت کر رہے ہیں۔ بھیک مانگ رہے ہیں، اپنے کمزور اور غریب ماں باپ کا سہارا بن رہے ہیں۔ پاناما لیکس نے پاکستانی عوام کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ پاکستانی عوام کو قطعی طورپر علم نہیں تھا کہ پاکستانی معیشت اورمعاشرہ کیوں تباہی سے دو چار ہوا ہے، جب حکومتی لوگ کرپشن میں پکڑے جاتے ہیں تو پھر ان کو اپوزیشن اورمخالفین کی کرپشن نظرآنا شروع ہو جاتی ہے۔ پہلے حکومت اپنی ذمہ داری کیوں پوری نہیں کرتی؟

مزید : کالم