نیٹو نیٹو فیصلہ کر چکا

نیٹو نیٹو فیصلہ کر چکا

ایک فوجی اتحاد ہے جس کا مقصد اپنے رُکن ممالک کا فوجی دفاع کرنا ہے۔ ان رکن ممالک کے علاوہ آسٹریلیا، بھارت، جاپان، روس اور پاکستان کئی امور میں نیٹو کے شراکت دار ہیں۔ یہ شراکت دار ممالک افغانستان، صومالیہ اور میڈیڑینین علاقوں میں اپنا تعاون نیٹو کو فراہم کر رہے ہیں۔اسرائیل کو مستقل دفتر مہیا کرنے کا نیٹو فیصلہ کر چکا۔ یوں اسرائیل برسلز میں قائم اہم فوجی اتحاد کی قربت کا فائدہ اُٹھا کر اپنے علاقائی کردار کو عالمی سطح پر پھیلا سکے گا۔ ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نیٹو تنظیم کے ہیڈ کوارٹرز میں اپنا دفتر کھول سکتا ہے۔ نیٹو اور اسرائیل کے مابین یہ پیش رفت طویل سفارتی کوششوں کا نتیجہ ہے۔ اسرائیل نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن کا رکن نہیں تاہم نیٹو کے ساتھ کئی شعبوں میں اس کے تعلقات اور دو طرفہ تعاون موجود رہا ہے۔ اسرائیل میڈیڑینین (آبی بندرگاہ جو سات ممالک کو آپس میں ملاتی ہے) ڈائیلاگ میں نیٹو کا شرکت دار ہے۔ یہ ڈائیلاگ نیٹو کے ایسے سات دوست ممالک کے ساتھ ہیں جن کی آبی گزرگاہوں کے ذریعے سرحدیں ملتی ہیں۔ نیٹو کے اس فیصلے سے یہ تاثرز ائل کرنے میں مدد ملے گی کہ اسرائیل کے بین الاقوامی تعلقات کمزور ہیں۔ کئی نیٹو ریاستوں کی طرف سے اسرائیل کے ساتھ قربت کی مخالفت کی جاتی رہی ہے۔ ان ریاستیوں کا کہنا ہے کہ ایسا کرنے سے نیٹو اور مسلم ریاستوں کے تعلقات خراب ہو سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں افغانستان قابل ذکر ہے کیونکہ نیٹو افواج وہاں پر موجود ہیں۔ آخری بار نیٹو میں توسیع دسمبر 2015ء میں روس کی مخالفت میں کی گئی جب روس کی جگہ ایک چھوٹی سی ریاست مونٹی نیگرو کو نیٹو نے اپنی رکنیت پیش کی۔ نیٹو میں اسرائیل کو آسٹریلیا، جنوبی کوریا اور جاپان کے برابر نان نیٹو اتحادی درجہ پہلے ہی حاصل ہے۔ جب نیٹو کی تشکیل ہوئی تو اس وقت اسرائیل کی عمر صرف ایک سال تھی۔ اس وقت اسرائیل کے تعلقات عرب ممالک کے ساتھ بگڑے ہوئے تھے جب غزہ میں آپریشن کاسٹ لیڈ کا فیصلہ کیا گیا تو اس سے قبل ہی نیٹو اسرائیل کے ساتھ خفیہ معلومات کا تبادلہ کر رہا تھا۔ مارچ 2013ء میں اسرائیل اور نیٹو کے مابین دس سال کی بات چیت کے بعد معاہدہ برسلز ہوا۔ نیٹو کی سیکیورٹی کا میڈیڑینین اور مشرق وسطیٰ کے علاقوں پر بہت گہرا انحصار ہے۔

نیٹو کو اکیسویں صدی میں سکیورٹی خطرات ہیں۔ اس لیے میڈیڑینین ڈائیلاگ ممالک سے پرانے تعلقات کو گہرا کرنے کی ضرورت ہے۔ امریکہ اور اسرائیل اپنے تعلقات کو کئی پردوں میں چھپا کر کام کرتے ہیں۔ بظاہر جب دونوں کے درمیان ہلکی پھلکی ناراضگی چل رہی ہوتی ہے تو در پردہ دو طرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے کی منصوبہ بندی ہو رہی ہوتی ہے۔ امریکی سینٹ کے ایک سو میں سے تراسی سینٹرز نے ایک خط کے ذریعے صدر بارک اوباما سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر غیر ملکی امداد کے ضمن میں اسرائیل کے لیے ایک بڑے پیکیج پر دستخط کر دیں۔ اس خط پر اکیاون ریپبلکن اور بتیس ڈیمو کریٹس سینٹرز نے دستخط کئے ہیں۔ اس وقت امریکہ اسرائیل کو تین اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی فوجی امداد دے رہا ہے۔ مگر اسرائیل کا مطالبہ ہے کہ یہ امداد پانچ ارب ڈالر سالانہ تک کی جائے۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے یہ اگلے امریکی صدر کریں۔اسرائیلوں کی اکثریت سمجھتی ہے کہ اگر وہ نیٹو کا رکن بن جائے تواس کا دفاع مضبوط ہو سکتا ہے اور ساتھ ہی نیٹو کی سٹرٹیجک طاقت میں بھی اضافہ ہو جائے گا۔ جون 2006ء کے آخر میں امریکی ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے خارجہ امور نے متفقہ طور پر نیٹو اسرائیل تعلقات میں قربت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے نتیجے میں اسرائیل اور نیٹو نے دنیا بھر میں 27 علاقوں میں ایک دوسرے سے تعاون پر اتفاق کیا۔ یوں اسرائیل پہلا نان یورپین اور پہلا مشرق وسطیٰ کا ملک بن گیا جس نے اس درجہ تک نیٹو کے ساتھ تعاون کیا۔

اسرائیل اور نیٹو کے بڑھتے تعلقات سے عرب ممالک کا بے خبر رہنا ممکن نہیں۔ سرکردہ عرب ممالک جس طرح ڈائیلاگ اور مشقوں کے پروگراموں میں اسرائیل کے ساتھ شریک رہے۔ وہ اس امر کا ثبوت ہے کہ وہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عالمی ایجنڈے سے واقفیت رکھنے کے باوجود اس کے متعلق آواز بلند نہیں کر رہے امریکی حکام اس معاملے پر منقسم ہیں۔ کچھ کا خیال ہے کہ اگر ایک بار اسرائیل کو نیٹو کا رکن بنا دیا گیا تو پھر نیٹو کو غزہ اور مغربی کنارے میں اپنے سیکیورٹی دستے بھیجنا پڑیں گے۔ ایک اطلاع یہ بھی ہے کہ امریکی افواج کے سابق سربراہ جنرل جیمز جونز مقبوضہ فلسطینی علاقوں پر کنٹرول بر قرار رکھنے کے مختلف منصوبوں پر کام کر ہے ہیں۔ لیکن ابھی تک اسرائیل کی نیٹو میں شرکت کی خواہش اور منصوبوں کے بارے میں عرب دنیا کی طرف سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔ عربوں نے ان کوششوں کو روکنے کی بات کی اور نہ ہی ان نتائج سے دنیا کو آگاہ کرنے کی طرف توجہ دی ہے جو اسرائیل میں نیٹو کی شمولیت کے بعد بدامنی ، تصادم اور جنگوں کی صورت میں سامنے آ سکتے ہیں۔ پاکستان اور مسلم ممالک کو مل کر نیٹو کو یہ باور کرانا ہو گا کہ اسرائیلی عزائم عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔

مزید : کالم