’’ بس کردو بس‘‘

’’ بس کردو بس‘‘
 ’’ بس کردو بس‘‘

  

شرمندگی کا احساس تو اس سطح کا ہونا چاہیے تھا کہ ایک دوسرے سے آنکھ ملانا مشکل ہو جاتا،لیکن کیا کریں؟ ڈھٹائی کی وہ لہر جو جنرل مشرف کے دور میں اٹھی اب تک سب کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔ امریکہ نے ملا اختر منصور پر بلوچستان میں وار کر کے یوں تو ایک تیر سے کئی شکار کیے ہیں مگر ان سب کا حتمی ہدف اسلامی جمہوریہ پاکستان ہی ہے۔ ہوش مندوں کو کافی عرصہ قبل ہی ادراک تھا کہ امریکہ کا اصل منصوبہ سعودی عرب اور پھر پاکستان کو گھیرے میں لینا ہے۔ سعودی قیادت ہماری لیڈر شپ سے کہیں زیادہ دور اندیش نکلی۔ سازش کو بھانپتے ہی نہ صرف امریکہ کو مخصوص فاصلے پر رکھنا شروع کر دیا ،بلکہ دیگر عرب اور مسلم ممالک کو بھی اپنا ہمنوا بناکر چیلنج سے نبردآزما ہونے کی تیاریاں شروع کر دیں اور ہمارا حال کیا ہے، بھارت تو بھارت، ایران اور افغانستان سے بھی سنگین خطرات لاحق ہیں۔ اس صورت حال پر چین کی قیادت کیا سوچ رہی ہو گی، کچھ وثوق سے نہیں کہا جاسکتا۔ یہ تبصرہ بہر طور بے جا نہ ہو گا کہ پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے والا واحد دوست پڑوسی ملک کسی نہ کسی حوالے سے تشویش یا تحفظات میں مبتلا ہو سکتا ہے۔

ملا اختر منصور پر حملے کے بعد پاکستان میں تو جیسے سب کو سانپ سونگھ گیا۔ حواس قدرے بحال ہوئے تو علاج کے لئے لندن گئے وزیراعظم نواز شریف نے تشویش ظاہر کر دی۔ پھر اطلاع آئی کہ امریکی سفیر کو دفتر خارجہ مدعو کر کے تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔ ٹویٹر والوں کو اس حملے کے حوالے سے ایسی چپ لگی کہ ہر کوئی حیران تھا بالآخر یہ کشمکش بھی ختم ہوئی۔ قوم کو بتایا گیا کہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے امریکی سفیر کے ساتھ جی ایچ کیو میں ملاقات کے دوران کھل کر شکوے، شکایات، بیان کر ڈالیں اور واضح کر دیا کہ ریڈ لائنز کسی صورت عبور نہ کی جائیں۔ اسی دوران وزیر داخلہ چودھری نثار نے بھی ایک پریس کانفرنس میں دھواں دھار طریقے سے مذمتی موقف کا اظہار کیا مگر یہ کہہ کر مضحکہ خیز صورت حال پیدا کر دی کہ ملا اختر منصورکو بلوچستان کی حدود میں نشانہ ضرور بنایاگیا، لیکن میزائل فائر کرنے ولا ڈرون طیارہ پاکستانی حدود کے اندر نہیں تھا۔

پاکستانی اکابرین کا مجموعی ردعمل اپنی جگہ ،لیکن اوباما کا ایک ہی فقرہ ہر لحاظ سے بھاری ہے۔ امریکی صدر نے کسی لگی لپٹی کے بغیر پھر وارننگ جاری کردی کہ پاکستانی حدود میں اپنے اہداف کو نشانہ بنانے کا عمل جاری رکھیں گے یعنی ’’ کر لو جو کرنا اے‘‘ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے کوئی ضمانت نہیں دی جا سکتی ہے کہ امریکہ مستقبل میں بلوچستان سے بھی آگے بڑھ کر (پنجاب یا سندھ )میں کسی کو نشانہ نہیں بنائے گا۔ہو سکتا ہے کہ بعض احباب کی طبع پر گراں گزرے ،لیکن کوئی یہ تو بتائے کہ ’’بنانا ریپبلک‘‘ آخر کہتے کس کو ہیں؟ امریکی صدر کے اعلان کا مطلب ایک ہی ہے کہ پاکستان بھی عراق، شام، افغانستان ،یمن، لیبیا، صومالیہ وغیرہ کی طرح ’’ڈرون کلب‘‘ کا ایک ممبر ہے۔ہم تو اس قدر ’’فراخ دل‘‘ ہیں کہ پاکستان کی تباہی کے منصوبے بنانے والی این ڈی ایس نامی ایجنسی رکھنے والے افغانستان کو انگور اڈا کی چوکی بخش دی انہیں پھر بھی قرار نہیں آرہا، آخر ہمارے ساتھ یہ کیا ہورہا ہے۔ہمیں تو بتایا گیا تھا ایٹمی دھماکوں اور نت نئے میزائل تجربات کے بعد ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہو گیا،اب حالت یہ ہے کہ اندر چین ہے نہ باہر سکون،نوشکی حملے نے ہمیں پھر سے احساس دلا دیا کہ مشرف دور ابھی گیا نہیں۔ نائن الیون کے بعد جنرل مشرف امریکہ کے سامنے لیٹے تو اسلام آباد میں ایک مولانا خطبہ جمعہ کے دوران نہایت دردمندی سے کہتے پائے گئے ہم نے تو ایٹم بم اپنی حفاظت کے لئے بنایا تھا اور آج یہ نوبت ہے ایٹم بم کو ہماری حفاظت کی ضرورت آن پڑی ہے۔اے اللہ !ہمارے ایٹم بم کو محفوظ رکھ۔

سچ تو یہ ہے کہ پاکستانی فوجی اڈوں اور فضاؤں کو امریکہ کے لئے کھول کر جنرل مشرف نے ملک کی چولیں ہلا دی تھیں۔ اب تو یہ ڈر رہتا ہے کہ خدانخواستہ ملکی سالمیت کے دشمنوں کے گھناؤنے عزائم پورے نہ ہو جائیں۔ امریکہ، بھارت، ایران اور افغانستان کے عزائم اپنی جگہ ایک بہت سنگین مسئلہ ہیں۔ خود ہماری حالت کیا ہے، پارلیمنٹ سمیت کسی ادارے کو اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ آئین موجود ہے، اختیارات مگر کوئی اور استعمال کررہا ہے۔ لانگ مارچوں اور دھرنوں کے ذریعے پورے ملک کی جو درگت بنائی گئی یا آئندہ بنائی جائے گی اس کا ذمہ دار کون ہے؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ سرحدوں پر ہر طرف دشمنوں کی موجودگی کے باوجود ہمارا دل نہیں بھرا۔ ہم خود ایک دوسرے سے برسرپیکار ہیں۔ ادارے ایک دوسرے کے کام میں مداخلت ہی نہیں کر رہے، ناراضگی کی صورت میں سبق سکھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ حالات اسی طرح بگڑتے رہے تو کسی بیرونی طاقت کو پاکستان کے اندر گھس کر مذموم عزائم پورے کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ،بلکہ ملک کے اندر ہی موجود گروپوں اور قوتوں کے درمیان ایسا گھمسان کارن پڑے گا کہ سوچ کر ہی دل کانپ جاتا ہے۔ امریکہ اور پڑوسی ممالک کو دیگر کئی معاملات کے علاوہ سب سے بڑا اور فوری مسئلہ پاک چین اقتصادی راہداری کے حوالے سے درپیش ہے اور اس حوالے سے ہم خود کیا کررہے ہیں؟ کیا ان عناصر کو ملک میں دھرنوں، احتجاج وغیرہ کی کھلی چھوٹ نہیں دی جارہی جو اس منصوبے کے علانیہ مخالف ہیں۔ منصوبے کے حامی بھی اپنی غلط کاریوں کے سبب سب کچھ الٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ابھی دو روز قبل ہی ایف سی حکام کی موجودگی میں بلوچستان کے وزیر داخلہ نے جو ’’گل فشانی‘‘ کی وہ خانہ جنگی کو ہوا دینے کی کوشش نہیں تو اور کیا ہے؟ مخصوص قوتوں کے ایما پر مشکوک طریقے سے معمولی ووٹوں کے ساتھ الیکشن جیت کر وزیر بننے والے سرفراز بگٹی کا ریموٹ کس کے ہاتھوں میں ہے۔ فرماتے ہیں کہ صوبے سے افغان مہاجرین واپس نہ گئے تو بلوچ، پشتون اور دیگر قومیں مل کر دھکے مار مار کر نکال باہر کریں گی۔ پریس کانفرنس کے دوران ایسے اشتعال انگیز الفاظ کا استعمال آخر کن مقاصد کے لئے تھا؟ موصوف اتنے بھی سادہ نہیں کہ انہیں یہ علم نہ ہو کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجرین پشتون اور دیگر اقوام کے ذریعے دھکے مارنے (یعنی حملے کرنے) کی بات کیوں کی گئی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ وہ ہمارے وزیر داخلہ ہو کر بھی اصل ملازمت کسی اور کی کر رہے ہیں۔ذرا تصور کیجئے اگر صوبے کی سول آبادی دھائیوں سے وہیں پر قیام پذیر افغانوں پر ہلہ بولے گی تو کیا منظر سامنے آئے گا ۔پھر اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ صوبے میں طویل عرصے سے دبی بلوچ، پشتون مخاصمت کھل کر سامنے نہیں آ جائے گی۔ افراتفری اور خانہ جنگی کے اس ماحول میں صوبے کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا صورت اختیار کر سکتا ہے۔اس کا اندازہ لگانا ہرگز مشکل نہیں،بلوچستان ،کے پی کے اور ملک کے دیگر حصوں میں موجود افغانوں کو سول آبادی کے ذریعے دھکے مار کر نکالنے کی کوشش پورے افغانستان کو مشتعل کر سکتی ہے۔طالبان سمیت افغانستان کی کوئی بھی نمائندہ حکومت ابھی تک تو پاکستان کے ساتھ اپنی سرحدوں کے تعین کے لئے تیار نہیں۔ڈیورنڈ لائن کو اشرف غنی نے کجا خودملاعمر مرحوم نے بھی سرحد تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔

اچھی بات ہے کہ ملااختر منصورپر حملے کے حوالے سے دفتر خارجہ کے حکام نے سعودی عرب ،ترکی اور چین کے سفیروں کے لئے خصوصی بریفنگ کا اہتمام کیا ،لیکن یہ بات فراموش نہ کی جائے کہ یمن جنگ کے موقع پرفوج نہ بھجوا کر سعودی عرب سے تعلقات کی نوعیت خاصی حد تک بدل چکی ہے ۔ترکی طاقتور ملک ہے ،لیکن امریکہ کو بری طرح سے کھٹک رہا ہے۔روس سے ترکی کا براہ راست تنازع ہے ایسے میں وہ ہماری کس حد تک مدد کر سکتا ہے۔ چین کی اولین ترجیح تجارت ہے،اقتصادی راہداری کی تعمیراور پھر اقوام عالم بشمول ایران ،بھارت ،افغانستان سمیت دنیا بھر سے اقتصادی روابط ہی چین کا اصل ہدف ہے۔اچھے دوست اور بڑی فوجی طاقت کی حیثیت سے ہمیں چین سے تعاون کی امید تو رکھنی چاہیے مگر یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ ممالک کے درمیان تعلقات باہمی مفادات کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ہم نے اپنے ملک میں ہی دھینگا مُشتی جاری رکھی،آئین اور قانون کو پامال کرتے رہے تو خود ہماری صفوں میں موجود غیر ملکیوں کے ایجنٹ دیمک کی طرح چمٹ کر پورا ملکی ڈھانچہ گرادیں گے۔کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ ریاستی ستون ہوں یا ادارے ،ایجنٹ ہر جگہ پر بیٹھے ہیں اور غیر ملکی آقاؤں کے مفادات کو پورا کرنے کے لئے اپنے ہی ملک پر وار کرنے کے لئے تیار ہیں۔ایک دوسرے کے معاملات میں مداخلت بند اور دھینگا مُشتی کرنے والے عناصر کی سرپرستی کا سلسلہ نہ رکا تو کھیل کسی کے ہاتھ میں بھی نہیں رہے گا۔پاکستان اب کٹھ پتلیوں کی سیاست کا متحمل نہیں ہو سکتا، شغل فرمانے والوں سے اتنی ہی درخواست ہے کہ ’’ بس کردو بس‘‘ ۔

مزید : کالم