عملہ کی ناتجربہ کاری کے باعث لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرئزیشن سسٹم عوام کیلئے زحمت بن گیا

عملہ کی ناتجربہ کاری کے باعث لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرئزیشن سسٹم عوام کیلئے زحمت ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 لاہور(عامر بٹ سے)عدالتی ڈگری،ریونیو کورٹس فیصلہ جات ،وراثتی انتقال،رجسٹری شدہ انتقالات کی تصدیق ،لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کی انتظامیہ عوام الناس کو بنیادی کام مکمل کرنے کے حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہ دے سکی ،اراضی ریکارڈ سنٹر میں تعینات 80فیصد سٹاف جوڈیشلی زبان ،ریونیو فیصلہ جات کی تحریر سمجھنے سے قاصر،وراثت کی تقسیم کے حوالے متعارف کروائی گئی قانون سازی سے بھی نابلد نظر آئے ،شہریوں کی کثیر تعداد اپنے جائز کام کے لئے در بدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئی ،کسی بھی ڈگری یا ریونیو کورٹس کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے سائلین دفاتر کے چکر لگانے میں خوار،اراضی ریکارڈ سنٹر سٹاف اپنی ناتجربہ کاری اور قوانین سے نا آشنا ہونے کی بناء پر عوام کے لئے عذاب بن گیا تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت کا لینڈ ریکارڈکمپیوٹرائزیشن سسٹم عوام کے لئے رحمت کی بجائے زحمت کا باعث بننے لگا ہے ۔اربوں ڈالر کا حامل یہ پراجیکٹ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے آنے والے افسران اور نااہل انتظامیہ کی وجہ سے سائلین کے مسائل میں کمی کی بجائے ان میں اضافے کی راہیں ہموار کرنے میں مصروف ہے ۔جب کوئی سائل اپنے اراضی مسائل کے بارے میں عدالتی ڈگری۔ریونیو کورٹس سے موصول فیصلہ جات ،وراثتی انتقال۔رجسٹری شدہ انتقالات کی تصدیق کے بعد لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کی انتظامیہ کے رحم و کرم آجاتا ہے تو حیران کن طور پر اپنی نالائقی چھپانے کے لئے عوام الناس کو بنیادی کام مکمل کرنے کے حوالے سے کوئی ٹائم فریم نہ دیا جاتا ہے ۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ پنجاب کی 143تحصیلوں میں قائم اراضی ریکارڈ سنٹر میں تعینات 80فیصد سٹاف جوڈیشلی زبان کو نہ سمجھتا ہے بلکہ ریونیو فیصلہ جات کی تحریر وں اوروراثت کی تقسیم کے حوالے متعارف کروائی گئی قانون سازی سے بھی قطعی نا آشنا ہیں ۔وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے دیکھے گئے خواب کا ثمر اراضی ریکارڈ سنٹر میں آنے والے شہریوں کو سٹاف کی نالائقی اور نااہلی کی صورت میں ملتا ہے ۔ شہریوں کی کثیر تعداد اپنے جائز کام کے لئے لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن کے تحت کام کرنے والے اراضی سنٹروں پر بار بار چکر اور لگاتار ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئی ہے۔ریونیو ذرائع کے مطابق پبلک سروس کمیشن کے ذریعے منتخب ہونے والے اے ڈیل ایل آر اور سروس سنٹر آفیشل کی تعلیمی قابلیت اور اہلیت میں کوئی شک نہ ہے لیکن لینڈ ریکارڈ انفارمیشن سسٹم انتطامیہ ہی اتنی نا اہل ہے کہ ان افسران کو اس لیول کی ٹریننگ ہی نہیں دی گئی جس کے بعد وہ عدالتوں اور ریونیو کورٹس کی جانب سے جاری فیصلہ جات کو من و عن پڑھ کر اس پر عمل درآمد کے قابل ہو سکیں ۔اس سے ایک طرف تو اراضی سنٹر ز میں کا م التواء میں ڈالنے کی وجہ سے کام کا بوجھ دن بدن بڑھ رہا ہے تو دوسری طرف اس کا سارا خمیازہ شہریوں کو بھگتنا پڑ ھ رہا ہے جن کو ٹائم فریم کے بغیرہی "آج کل" کے چکر میں الجھا کر رکھ دیا گیا ہے۔بظاہر ایسا لگتا ہے کہ لینڈ ریکارڈ انتظامیہ خود اتنی اہل اور سمجھدار نہ ہے کہ وہ کسی بھی ڈگری یا ریونیو کورٹس کے فیصلے پر عمل درآمد کے لئے ان تحریروں کو سمجھ سکیں ۔پی ایم یو ترجمان کا کہنا ہے کہ پی ایم یو انتظامیہ اور سٹاف ویل ٹرینڈ ہے ۔ جو ہر قسم کی عدالتی اور ریونیو کورٹس کی تحریریں اور فیصلہ جات ان کے سیاق و سباق کے مطابق سمجھتے ہیں۔ ان پر کام میں نااہلی اور نالائقی کا تااثر غلط ہے ۔اراضی ریکارڈ سنٹر ز میں عوام کو حائل مشکلات عدالتی تحریروں کی وجہ سے نہیں بلکہ متعلقہ شخص کی اراضی کے ریکارڈ میں موجود کچھ تکنیکی مسائل کی وجہ سے ہوتی ہیں جن کو جلدحل کر کے سائلین کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جاتا ہے۔