کتابوں کی باتیں

کتابوں کی باتیں
 کتابوں کی باتیں

  

عذرا اصغر لکھنے والیوں کی اُس کھیپ میں شامل ہیں جو1960ء کی دَہائی کے بعد نمایاں ہوئی۔ بہت سی لکھنے والیوں میں سے ایک عذرا اصغر نے بھی شروع شروع میں کہانیاں لکھیں، افسانے لکھے جو مختلف اخبارات و رسائل و جرائد میں شائع ہوئے۔

پہلی بار وہ ایک ناول’’دِل کے رشتے‘‘ کے ذریعے بطور ناول نگار منظر عام پر آئیں، یہ دَور رضیہ بٹ، سلمیٰ کنول، سلمیٰ اعوان کا دَور تھا، رضیہ بٹ کی بطور ناول نویس خاصی پذیرائی تھی، ایسے میں کسی نو وارد ناول نگار خاتون کا الگ سے خود کو منوانا مشکل تھا مگر ناممکن نہیں، سو یہ ممکن مگر مشکل کام عذرا اصغر نے کر دِکھایا کہ اُن کے ناول کا اسلوب سکہ رائج الوقت سے مختلف تھا۔ سو احمد ندیم قاسمی اور ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا جیسے مستند اہلِ قلم نے ان کی تحریروں کو سراہا، چنانچہ افسانوں کے پہلے مجموعے ’’پت جھڑ کا آخری پتہ‘‘ پر ایک فلیپ احمد ندیم قاسمی اور ایک ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا کا چَھپا ہُوا ملتا ہے۔ اولین ناول ’’دل کے رشتے‘‘ کے بعد آگے چل کر ’’مسافتوں کی تھکن‘‘ کے عنوان سے ایک اور ناول عذرا اصغر نے لکھا جو عام معاشرتی انسانی، سماجی رویوں کا آئینہ دار تھا۔ افسانوں کے کئی مجموعے بھی ’’بیسیویں صدی کی لڑکی‘‘،’’تنہا برگد کا دُکھ‘‘، ’’گدلا سمندر‘‘، ’’یادوں کی طاق پہ رکھی کہانیاں‘‘ اور ’’کھڑکی میں بیٹھا وقت‘‘ کی صورت میں قارئین ادب تک پہنچے۔ ایک کتاب، یاد نگاری پر مبنی ’’تیری آنکھوں کے ساتھ مَیں‘‘ بھی انفرادیت لئے ہوئے ہے۔ عذرا اصغر کے شوہر اصغر مہدی شاعر،ادیب، دانشور تھے۔ بیٹی شبہ طراز شاعرہ، افسانہ نویس اور مصورہ ہیں۔ ایک بیٹے اور ایک پوتی دُعا بھی ادب و فن کے جراثیم لئے ہوئے ہیں۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ’’این خانہ ہمہ آفتاب است‘‘۔۔۔!

شخصی تعارفی تمہید قدرے طولانی ہو گئی۔ سر دست عذرا اصغر کی بہت سی مطبوعہ کاوشوں میں سے ایک ’’کھڑکی میں بیٹھا وقت‘‘ زیر نظر ہے۔ اس میں چھوٹی بڑی 22کہانیاں اور12افسانچے شامل ہیں۔ 36خوشگوار، تحیّر خیز تحریروں کا یہ مجموعہ لگ بھگ150 صفحات پر مشتمل ہے اور ایک نشست میں خود کو پڑھوانے پر اُکساتا ہے۔عہد ِ موجود کے منافقانہ دَور کا عکاس سب سے آخری افسانچہ ’’تجارت‘‘ کے عنوان سے ’’مشتے نمونہ از خروارے‘‘ پیش کیا جا سکتا ہے۔۔۔ محترمہ عذرا اصغر لکھتی ہیں:

بتی و الے چوک پر گاڑی رُ کی تو بیساکھی کا سہارا لئے لنگڑا فقیر اس کی ڈرائیونگ سیٹ کے قریب آ کر رقت آمیز آواز میں بولا:

’’بابو میرا باپ بے کفن پڑا ہے اللہ کے نام۔۔۔‘‘ ابھی اس کا جملہ مکمل نہ ہوا تھا کہ اس کی جیب میں پڑا موبائل یک لخت بج اُٹھا۔ فقیر نے اپنے کھیسے سے فون نکال کر کان سے لگا لیا۔

’’ہاں ہاں۔ فوارہ چوک۔ٹھیک ٹھیک مَیں ابھی پہنچتا ہوں‘‘۔ فقیر نے موبائل واپس جیب میں رکھ لیا، بیساکھی بغل میں دبائی اور دوڑتا ہوا سڑک پار کر گیا‘‘۔۔۔

افکارِ اقبال:

پروفیسر خواجہ اعجاز احمد بٹ

ہمارے دیرینہ کرم فرما پروفیسر خواجہ اعجاز احمد بٹ کی زیر نظر کتاب’’افکارِ اقبال‘‘ بک کارنر جہلم سے شائع ہوئی ہے۔پروفیسر لیلیٰ شیرازی نے ٹائٹل کے بیک کور پر فاضل مصنف کا تعارف اس طرح رقم کیا ہے:

پروفیسر خواجہ اعجاز احمد بٹ2جنوری1942ء کو شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ کے محلے میں پیدا ہوئے، اُن کے والد کا نام محمد حسین بٹ تھا اُن کے خاندان میں زیادہ تر لوگ بلڈر تھے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اسلامیہ پرائمری سکول اڈہ پسروریاں، میٹرک اسلامیہ ہائی سکول اڈہ شہباز خاں، ایف ایس سی1957ء میں مَرے کالج سے اور بی اے جناح اسلامیہ کالج سیالکوٹ سے کیا۔ بی اے میں ضلع بھر میں اوّل آ کر نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ایم اے سیاسیات، ایم اے انگلش اور ایم اے اُردو پنجاب یونیورسٹی سے پاس کر کے1965ء میں معروف شاعر اصغر سودائی کے کہنے پر جناح اسلامیہ کالج سیالکوٹ میں بطور لیکچر اِن انگلش ملازمت کا آغاز کیا۔ گیارہ سال جناح اسلامیہ کالج سیالکوٹ میں انگریزی کی تعلیم دینے کے بعد ترقی پا کر مَرے کالج سیالکوٹ چلے گئے۔ یہاں 26سال تک انگریزی میں بطور پروفیسر اور دس سال بطورِ چیئرمین شعبۂ انگریزی، جبکہ مَرے کالج سیالکوٹ کی ملازمت کے دوران چیئرمین شعبۂ انگریزی۔ڈین آف پوسٹ گریجویٹ کلاسز اور وائس پرنسپل کے فرائض انجام دیئے اور 2002ء میں ریٹائر ہوئے‘‘!

پروفیسر لیلیٰ شیرازی مزید تعارف کراتی ہیں کہ خواجہ صاحب نے ہزاروں طلبا اور طالبات کو علم و ادب کے زیور سے آراستہ کیا۔ مولوی میر حسن کے بعد یہ دوسرے اُساد ہیں جن کی ادبی و تعلیمی خدمات پر کتب تحریر کی گئیں۔۔۔ ان میں ’’خواجہ اعجاز احمد بٹ۔۔۔ فن شخصیت اور خدمات‘‘۔ مرتب:امانت اللہ چودھری ’’مطالعاتِ اعجاز‘‘۔ مرتب:امانت اللہ چودھری۔۔۔

’’Prof Ijaz Butt as Lagend‘‘

مرتب:پروفیسر لیلیٰ شیرازی اور انٹرویوز اعجاز بٹ۔ مرتب: ڈاکٹر اصغر یعقوب شامل ہیں۔ ان کی کتب ’’اقبال اور مَرے کالج کی یادیں‘‘ ’’اقبال اور سیالکوٹ‘‘۔۔۔ ’’افکار اقبال‘‘۔۔۔ ’’اقبال شناسی اور مَرے کالج میگزین‘‘۔۔۔ سکالہ میں اقبال شناسی‘‘۔۔۔ اقبال بحیثیت ماہر تعلیم (انگریزی)’’اقبال اور اٹلی‘‘ (انگریزی) اقبالیات میں حوالے کا کام دیتی ہیں‘‘۔۔۔!

جناب پروفیسر خواجہ اعجاز احمد بٹ کا بھرپور اور کافی و شافی تعارف تو پروفیسر لیلیٰ شیرازی نے کرا دیا، ہم اس میں کیا اضافہ کریں سوائے اس کے کہ یہ ’’مولوی میر حسن کے بعد دوسرے نہیں پہلے اُستاد ہیں جن پر انگریزی میں بھی کتب مرتب کی گئیں یا تالیف کی گئیں۔۔۔

مزید : کالم