نسلی امتیاز۔۔۔ سفید چمڑی والوں کی نسلی بیماری

نسلی امتیاز۔۔۔ سفید چمڑی والوں کی نسلی بیماری
نسلی امتیاز۔۔۔ سفید چمڑی والوں کی نسلی بیماری

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

گزشتہ دِنوں امریکی صدر باراک اوباما نے ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ امریکہ نسل پرستی کی سوچ ختم کرنے میں ناکام رہا ہے۔ باراک اوباما کو امریکہ کا پہلا سیاہ فام صدر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔بقول کسے وہ اس وقت دُنیا کا طاقتور ترین انسان ہے، لیکن وہ اس حقیقت سے اغماض نہیں برت سکتا کہ وہ ایک سیاہ فام ہے اور اُس کے امریکی سفید چمڑی والے ہم وطنوں نے اُسے اس حوالے سے ذلیل کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔امریکہ ایک طرف انسانی حقوق، حتیٰ کہ کتے بلیوں کے حقوق کے لئے ہمہ وقت آمادۂ کار نظر آتا ہے، لیکن امریکی صدر بھی اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا کہ نسل پرستی یا نسلی تعصب امریکی معاشرے سے تاحال ختم نہیں ہو سکا۔ دراصل یہ امریکہ کا مسئلہ نہیں ہے،یہ تمام سفید چمڑی والوں کی نسلی بیماری ہے۔ آج بھی جب سیاہ فام محض یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ’’سیاہ فاموں کی زندگی کی بھی کوئی قدرو قیمت ہے‘‘ تو امریکی صدارت کی امیدواری کی دوڑ میں شامل اور ری پبلکن میں اس دوڑ میں سب سے آگے ٹرمپ کے حامی ان سیاہ فاموں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔


سیاہ فاموں کے جہاز بھر بھر کر امریکہ لانے اور انہیں غلام بنانے میں بھی یہی فلسفہ کار فرما تھا، البتہ اُس وقت چرچ نے بھی سفید چمڑی کے اس فلسفے کو تقویت بخشی۔ امریکہ جن انسانی اور حیوانی حقوق کی حفاظت کا علم بلندکئے ہوئے ہے اور دوسری قوموں کو اس حوالے سے نکو بناتا ہے، انہیں دھمکیاں دیتا ہے، کیا وہ ان حقوق کی پاسداری کے دعوے میں حق بجانب ہو سکتا ہے، جبکہ خود وہاں نسل پرستی کی سڑاند انسانیت کا سانس لینا دوبھر بنا رہی ہے۔ کیا نسل پرستی اور نسلی تعصب کے ہوتے ہوئے انسانی حقوق کی حفاظت کی ڈینگ ماری جا سکتی ہے۔ نسلی تعصب اور سفید چمڑی کی برتری کا احساس سفید چمڑی والوں میں انفرادی طور پر بھی موجود ہے اور اجتماعی طور پر بھی۔ اس تنظیم پر پابندی اور اُس تنظیم کے خلاف کارروائی کے مطالبے کرنے والے امریکہ سے کبھی کسی نے پوچھا ہے کہ آخر کوکمس کلین(kkk) باوجود نام نہاد پابندی کے کیوں امریکہ میں اپنے جلسے کرتی ہے، کالوں کو مارتی ہے اور مخالفین کے چرچز کو جلاتی ہے؟ کیا مذہبی انتہا پسندی ہی دہشت گردی ہے، نسل پرستی کی بنا پر قتل و غارت دہشت گردی نہیں ہے؟


گزشتہ ہفتے کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ایک سو سال قبل کینیڈا کی طرف سے بدترین نسلی تعصب کے مظاہرے پر رسمی طور پر معافی طلب کی۔ گویا غلطی کو تسلیم کرنے اور معافی طلب کرنے میں پورے سو سال لگ گئے۔ یہ1914ء کا واقعہ ہے۔تاریخ میں اسے Komagata Maru کا واقعہ کہا جاتا ہے۔ جاپان کا جہاز کوما گاتا مارو 376 ہندوستانی مسلمانوں،سکھوں اور ہندوؤں کو لے کر کینیڈا پہنچا۔ اس جہاز کے مسافروں کو اُس وقت کے برٹش کولمبیا،آج کے کینیڈا کی ایک ریاست کے وزیراعظم سر رچرڈ میک برائیڈ نے جہاز کے مسافر اتارنے کی اجازت نہ دینے پر کہا: ’’ہمارے ذہنوں میں یہ ضرورت ہمیشہ رہی ہے کہ اپنے مُلک کو سفید فاموں کا ملک بنا کر رکھنا ہے‘‘۔ ایک بھارتی نژاد کینیڈین علی کاظمی نے اس واقعے پر ’’سفرِ مسلسل‘‘ کے نام سے ایک دستاویزی فلم بنائی ہے۔ اس موضوع پر اُس نے ایک کتاب بھی لکھی ہے۔علی کاظمی کا کہنا ہے کہ آج بھی صورتِ حال کچھ زیادہ اچھی نہیں ہے۔ کینیڈا میں سیاسی پناہ لینے والوں کو قید میں رکھا جاتا ہے اور سیاسی پناہ کے متعدد طلب گاران جیلوں میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ سو سال پیشتر کے اس واقعے کو بجا طور پر سفید فاموں کی ہندوستانی سیاہ فاموں سے نفرت کا شاخسانہ قرار دیا گیا۔


وزیراعظم کینیڈا نے کہا کہ مَیں آج سے سو سال پیشتر پیش آنے والے واقعہ پر معافی کا طلب گار ہوں۔ جب23مئی1914ء کو ایک دُخانی جہاز کو ما گاتا مارو وینکوور میں لنگر انداز ہوا۔ اس جہاز پر ہندوستان کے 376 مسافر تھے، جن میں ہندو سکھ اور مسلمان شامل تھے۔ یہ مسافر اسی طرح کینیڈا میں بہتر زندگی کا خواب لے کرآئے تھے، جیسے پہلے بھی آتے رہتے ہیں اور اب بھی آتے رہتے ہیں۔ ان مسافروں نے بہتر زندگی کے لئے کینیڈا کا انتخاب کیا تھا، لیکن انہیں دھتکار دیا گیا۔ اس عمل سے انہیں جو صدمہ اور دُکھ ہوا ہو گا، الفاظ اُس کا مداوا نہیں کر سکتے۔ وقت کا دھارا بہتے بہتے اتنا دور نکل گیا ہے کہ ان میں سے اب کوئی بھی زندہ نہیں رہا ، جو معافی کے ان الفاظ کو سُن سکتا۔ اس کے باوجود مَیں پورے خلوص کے ساتھ اس نسلی تعصب پر اور اس کے ارتکاب پر معافی چاہتا ہوں۔ جب ہم ماضی کی غلطیوں پر معافی مانگیں تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اس سے جو سبق ملتا ہے، وہ یہ ہے کہ آئندہ کبھی ان غلطیوں کا اعادہ نہ ہونے پائے۔
اس موقع پر علی کاظمی نے اس واقعے کی نقشہ کشی کرتے ہوئے کہا کہ یہ مسافر دو ماہ کے سفر کے بعد کینیڈا کے ساحل پر لنگر انداز ہوئے تھے۔ انہیں ساحل سے ایک کلو میٹر دور روک دیا گیا تھا۔ وہ برطانیہ کی رعایا تھے اور اُن کا خیال تھا کہ وہ کسی بھی برطانوی راج کے تحت علاقے میں جانے کی مکمل آزادی رکھتے ہیں، کیونکہ عام طور پر سلطنتِ برطانیہ نے یہ تاثر قائم کر رکھا تھا کہ ساری سلطنت میں تمام رعایا برابر کے حقوق رکھتی ہے، لیکن کینیڈا نے اپنے عمل سے اس تاثر کی دھجیاں اُڑا دیں۔ یاد رہے کہ سفید چمڑی والوں نے کبھی اس پالیسی کو ظاہر نہیں کیا۔ گویا نسلی تعصب پر مبنی پالیسی خفیہ پالیسی تھی اور تعصب کا یہ مظاہرہ دِلوں میں کینے کی طرح جاگزیں تھا۔ علی کاظمی کی دستاویزی فلم کے مطابق 1908ء میں وزیراعظم لوریئر نے اپنے ایک معتمد میکنزی کنگ کو یہ کام سونپا کہ وہ اس سلسلے میں ایک خفیہ پالیسی مرتب کرے۔ وزیراعظم نے خوب سوچ سمجھ کر میکنزی کو یہ کام سونپا تھا۔ میکنزی اپنی مرتب کردہ پالیسی میں لکھتا ہے: ’’کینیڈا کو صرف سفید فام لوگوں کا مُلک ہونا چاہئے، یہ محض ایک خواہش نہ ہو،اس پر عمل ہونا چاہئے۔ یہ سیاسی اور سماجی لحاظ سے نہایت ضروری ہے اور اس کی بے حد اہمیت ہے‘‘۔


کینیڈا میں1867ء سے1967ء تک اس پالیسی پر عمل درآمد جاری رہا اور عملاً کینیڈا صرف سفید فام تارکین وطن کو قبول کرتا رہا۔ سفید فاموں کو اپنے عزائم کو الفاظ میں ملفوف کرنے کا فن بھی خوب آتا ہے،اسے ’’سفرِ مسلسل‘‘ کا قاعدہ قرار دیا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ اگر آپ کینیڈا تک پہنچ جاتے ہیں اور کینیڈا میں داخلے کی شرط سفید چمڑی سے محروم ہیں تو آپ کو یہاں ٹھہرنے کی اجازت نہیں ہے۔ آپ اپنا سفر جاری رکھیں اور کہیں اور چلے جائیں۔ اس لفظی ہیرا پھیری کا مقصد یہ تھا کہ برطانوی سفید فام آقاؤں کو اندیشہ تھا کہ اگر واضح طور پر اور کھلے لفظوں میں ہندوستانیوں کو روک دیا گیا تو ہندوستان میں اس پر شدید ردعمل ہو سکتا تھا۔ ہندوستانیوں کے لئے ہندو کا لفظ انہیں اُن مقامی باشندوں سے الگ پہچاننے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا، جنہیں ان سفید فاموں نے انڈینز کا نام دے رکھا تھا۔ میکنزی کنگ بعد میں کینیڈا کا وزیراعظم بھی رہا اور اس کے دور میں ’’صرف سفید فاموں کے لئے‘‘ کی پالیسی کو جاری رکھا گیا۔


جاپانی جہاز کو روکنے والا ایک امیگریشن ایجنٹ میلکم رائیڈ تھا، جسے آٹوا کے رہنے والے ایک وفاقی رکن پارلیمینٹ ایچ ایچ سٹیون نے تعینات کیا تھا۔ کاظمی کی دستاویزی فلم میں ایچ ایچ سٹیون کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا ہے کہ کسی ہندو نے گزشتہ دو ہزار سال میں کوئی ایک کام بھی انسانی بھلائی کے لئے نہیں کیا اور غالباً آئندہ دو ہزار سال تک بھی کوئی ہندو انسانی بھلائی کا کوئی ایک بھی کام نہیں کرے گا۔ ایچ ایچ سٹیون ایشیائیوں کے کینیڈا میں داخلے کا سخت مخالف تھا اور اُس کے ووٹر دِل و جان سے اُسے ووٹ دیتے تھے، جیسے آج ڈونلڈ ٹرمپ کو ری پبلکن کے اندر نفرت کے بھونڈے پرچار کے باوجود سب سے بڑھ کر پذیرائی حاصل ہے۔علی کاظمی جب 1983ء میں خود کینیڈا آیا تو اُسے کینیڈین امیگریشن کا تلخ تجربہ ہوا۔ ایک امیگریشن آفیسر نے اُسے کہا کہ وہ اس لئے اُسے کینیڈا میں داخلے کی اجازت دے رہا ہے، کیونکہ اُس کی انگریزی زبان کی مہارت اچھی ہے۔ اس پر کاظمی کو احساس ہوا کہ کسی امیگریشن افسر کو کس قدر اپنے اختیارات کا زعم ہے۔ وہ چاہے تو کسی کو داخلے کی اجازت دے اور چاہے تو اجازت نہ دے۔ علی کاظمی بے چارے کو شاید معلوم نہیں کہ نائن الیون کے بعد پیٹریاٹ ایکٹ کے تحت اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے امیگریشن کے امور سنبھالنے کے بعد ان امیگریشن افسروں کے کسی فیصلے کے خلاف کسی عدالت میں کوئی وکیل اور کوئی دلیل بھی نہیں ہے۔


جب کوما گاتا مارو واپس ہوا تو دوران سفر 26 مسافر مر گئے۔ جہاز مشرقی بنگال (موجودہ بنگلہ دیش) کے ساحل پر جا پہنچا، جہاں انہیں غدار قرار دے دیا گیا۔ مشرقی بنگال کے گورے حاکموں نے اس جہاز کو دوبارہ ساحل سے دور ٹھہرنے کی اجازت دی۔ گورا شاہی کو پختہ یقین تھا کہ یہ غدار لوگ ہیں۔ تین دن تک مسلسل جہاز کی تلاشی لی جاتی رہی، مگر جہاز سے کوئی اسلحہ برآمد نہ ہو سکا۔29ستمبر کو بالآخر جہاز کو کلکتہ کی طرف موڑ دیا گیا۔ جب جہاز کلکتہ کے نواح میں27 کلو میٹر دور ایک مقام پر لنگر انداز ہوا اور اس کے مسافر مایوسی، تھکن اور توہین کے مارے ہوئے نیچے اُترے تو انہیں گورا فوج نے گھیر لیا۔ کسی وارننگ کے بغیر اُن پر گولی چلا دی گئی،جو لوگ زندہ بچ گئے، اُنہیں گرفتار کر لیا گیا،اُن پر الزام تھا کہ انہوں نے بغاوت کا ارتکاب کیا ہے۔ علی کاظمی کے مطابق نسلی امتیاز اور تعصب کے یہ مظاہرے آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہیں۔ کینیڈا نے امریکہ کے ساتھ ایک معاہدے پر دستخط کئے ہیں، جس کی رُو سے سیاسی پناہ لینے کے لئے آنے والوں کو اپنے مُلک سے براہ راست کینیڈا آنا چاہئے۔ اگر وہ کسی اور مُلک سے ہو کر آئیں تو انہیں اس تیسرے محفوظ مُلک میں سیاسی پناہ کی درخواست دینی چاہئے، یعنی اگر کوئی شخص سیاسی پناہ کی غرض سے کینیڈا آنے کے لئے پہلے امریکہ میں اُترے تو اب اُسے امریکہ ہی میں سیاسی پناہ حاصل کرنی چاہئے، کینیڈا اسے سیاسی نہیں دے گا۔


ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس طریقہ کار کی سخت مذمت کی ہے اور اسے عملی طور پر سیاسی پناہ کے متلاشیوں کی حوصلہ شکنی کے مترادف قرار دیا ہے، یعنی ایک طرف صد سالہ نسل پرستی کے مظاہرے پر معافی طلب کی جا رہی ہے،دوسری طرف اب بھی سیاسی پناہ کی خاطر آنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں۔ نازی جرمنی سے یہودیوں کو لے کر آنے والے جہاز سے بھی کچھ ایسا ہی سلوک کیا گیا تھا۔ سفید چمڑی کے حوالے سے یہودی بھی سفید چمڑی سے محروم سمجھے جاتے ہیں۔ ایک اور جہاز ایم وی سن سی آج سے کوئی چار پانچ سال پہلے ٹامل کو لے کر کینیڈا آیا۔اُس کے مسافروں کے ساتھ بھی نہایت افسوسناک سلوک کیا گیا۔ انہیں وبائی امراض سے حفاظت کے سوٹ پہنائے گئے۔ انہیں وکلاء سے نہیں ملنے دیا گیا اور غیر معینہ مدت کے لئے زیر حراست رکھا گیا۔ انہیں اخبارات یا اخباری نمائندوں تک بھی رسائی نہیں دی گئی۔ یہی کچھ کوما گاتا مارو کے مسافروں سے کیا گیا تھا، تو پھر جس خطا پر معافی مانگی گئی، وہ تو مسلسل جاری ہے سو سال سے جو نسلی امتیاز جاری تھا، اب بھی کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔ تو معافی کس بات پر اور آئندہ غلطیوں کا اعادہ نہ کرنے کی باتیں چہ معنی دارد؟

مزید :

کالم -