چیف جسٹس صاحب کیوں نہ بولیں؟

چیف جسٹس صاحب کیوں نہ بولیں؟
 چیف جسٹس صاحب کیوں نہ بولیں؟

  

رات کو ٹی وی ٹاک شوز میں بقراطی اور سقراطی گفتگو کرنے والے بعض اینکرز اور مبصر یہ سمجھتے ہیں کہ سوائے اُن کے مُلک میں ایسا کوئی بول سکتا ہے اور نہ ہی اتنا دانشور ہے کہ اُن کے خیالات کا مقابلہ کر سکے۔ ایک ٹی وی چینل پر ایسے حضرات اس بحث میں الجھے ہوئے تھے کہ مُلک کی سب سے بڑی عدالت کے چیف جسٹس کو کیا اِس قسم کے بیانات دینے چاہئیں، جیسے چیف جسٹس آف پاکستان انور ظہیر جمالی دے رہے ہیں۔ اُن کا استدلال یہ تھا کہ چیف جسٹس کے پاس تو مُلک کی عدلیہ کا پورا نظام موجود ہے، پھر وہ ایکشن لینے کی بجائے مسائل کی صرف نشاندہی کیوں کرتے ہیں؟ اگر وہ بھی بے بس ہیں تو عام آدمی اور چیف جسٹس میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے از خود نوٹس لینے کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، اُس کے اثرات ابھی تک بعض لوگوں کے ذہنوں میں موجود ہیں۔ جس طرح افتخار محمد چودھری نے سمجھ لیا تھا کہ ہر مسئلہ وہی حل کر سکتے ہیں، اسی طرح کچھ لوگ اب بھی یہ توقع کرتے ہیں کہ سب کام سپریم کورٹ ہی کرے۔ وہ یہ نہیں سوچتے کہ افتخار محمد چودھری کے از خود نوٹسوں سے مُلک میں کیا تبدیلی آئی، کون سے مسائل حل ہوئے، کیا اُن کی وجہ سے نظام بہتر ہوا، انصاف ملنے لگا، عدالتی امور بہتر ہوئے؟ ہوا تو کچھ بھی نہیں، البتہ افتخار محمد چودھری کی دھاک بیٹھی رہی، افسروں پر وقتی طور پر پیشی کے وقت لرزہ طاری ہوتا رہا، لیکن کیا مُلک ایسے چلتے ہیں، ایسے کوئی ریلیف ملتا ہے، یہ تو صرف طفل تسلی دینے والی بات ہے، جس کا حقیقت میں کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔

افتخار محمد چودھری کے ہر اقدام پر واہ واہ کرنے والوں کو چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کی باتیں بھی تکلیف دے رہی ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ لٹھ لے کر سب کے پیچھے پڑ جائے۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ کیا آئین اور قانون میں اس کی گنجائش ہے یا نہیں؟غور کیا جائے تو انور ظہیر جمالی صحیح راستے کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ اُن کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ اگر مملکت کے تمام ادارے اپنا اپنا کردار ادا کریں تو سپریم کورٹ اور عدالتوں پر آدھا دباؤ کم ہو سکتا ہے۔ وہ بالیقین یہ کہتے ہیں کہ ہر کوئی اپنی ذمہ داری دوسروں پر ڈال رہا ہے۔ اُن کا یہ کہنا بھی تلخ حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ ہمارے ہاں قانون سازی ہمیشہ ذاتی مفادات کے لئے کی گئی، اجتماعی مفاد کو کبھی سامنے نہیں رکھا گیا۔ کسی ایک لابی کے خلاف کارروائی ہو تو دوسری بڑی لابی بچانے آ جاتی ہے۔ انہوں نے مارشل لاء کے تیس سالہ ادوار کو بھی نہیں بخشا اور کہا کہ30سال تک ڈنڈے کے زور پر حکومت کی گئی۔ اُن کی اس بات کو کیسے جھٹلایا جا سکتا ہے کہ کرپشن اور بُری حکومت کو درست کرنے کے لئے فرشتے آسمان سے نہیں اُتریں گے، زمین سے ہی کسی کو آگے آنا ہو گا، معترضین کا خیال ہے کہ مُلک کے چیف جسٹس کو ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں،اگر کہیں خرابی ہے تو اُس کا از خود نوٹس لینا چاہئے۔ میرا خیال ہے یہ اعتراض بالکل احمقانہ ہے۔ اگر مُلک کا چیف جسٹس اِن خرابیوں کی نشاندہی کر رہا ہے تو درحقیقت وہ انِ کا نوٹس ہی لے رہا ہے، یہ تو نہیں ہو سکتا کہ وہ مقننہ اور انتظامیہ کے اختیارات بھی سنبھال لے۔

ہمارے ہاں یہ دستور چل نکلا ہے کہ کسی ایک ادارے کو مُلک ٹھیکے پر دے دیا جائے اور اُس سے کہا جائے کہ وہ مُلک کو درست کرے۔ کبھی ہم فوج سے امیدیں باندھ لیتے ہیں اور کبھی عدلیہ سے۔ مُلک کے یہ دونوں چیفس ہماری امیدوں کا مرکز بنے رہتے ہیں، ساتھ ہی ہم سب یہ بھی چاہتے ہیں کہ مُلک میں آئین اور قانون کی حکمرانی بھی ہو۔ بیک وقت یہ دو خواہشیں کیسے پوری ہو سکتی ہیں؟ فوج کی اپنی ذمہ داری ہے اور عدلیہ کی اپنی، مقننہ اور انتظامیہ اپنا آئینی کردار رکھتی ہیں، اصل مسئلہ تو تب ہی حل ہو سکتا ہے،جب آئین میں دیئے گئے کردار کے مطابق ہر آئینی ادارہ اپنا فرض ادا کرے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو بذاتِ خود ایک بڑی خرابی جڑ پکڑ لیتی ہے۔ یہ درست ہے کہ جو باتیں چیف جسٹس انور ظہیر جمالی کر رہے ہیں وہ سیاست دانوں کو کرنی چاہئیں، لیکن وہ یہ باتیں اِس لئے نہیں کرتے کہ وہ اِن کے سب سے بڑے ذمہ دار اور فائدہ اٹھانے والے خود ہیں۔ پھر اُن کا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اُن میں سے کسی کے بھی ہاتھ صاف نہیں، کوئی کسی کی ایک کرپشن کی بات کرتا ہے تو دوسرا اُس کی بدعنوانی کے دس واقعات نکال کر لے آتا ہے، گڈ گورننس کا دعویٰ کرنے والوں کی بُری حکومت کے ستر قصے بیان کر دیئے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے ایسے میں کسی پر کیا اثر ہو سکتا ہے۔ جب سیاست حد درجہ گدلی ہو چکی ہو اور ہر طرف مختلف اقسام کی آلودگی نے ڈیرے جما لئے ہوں تو کوئی دوسرے پر کیسے اُنگلی اُٹھا سکتا ہے؟

اس صورت حال میں مُلک کا چیف جسٹس اگر خرابیوں کی نشاندہی کرتا ہے تو کم از کم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ سیاست دانوں کی طرح کسی پر کیچڑ اچھال رہا ہے، بلکہ اُن کی باتوں کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے اور حکومتیں بھی سوچنے پر مجبور ہو جا تی ہیں۔ یہ بات تو حقیقت ہے کہ مُلک میں اُس وقت تک اچھی حکومت قائم نہیں ہو سکتی، جب تک تمام آئینی ادارے اپنا کردار ادا نہیں کرتے۔ چیف جسٹس کی اس بات میں سو فیصد سچائی ہے کہ عدالتوں میں 60فیصد مقدمات حکومتی اداروں کے خلاف چل رہے ہیں۔اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ان اداروں کو بے لگام چھوڑ دیا گیا۔ افسران من مانے فیصلے کرتے ہیں اور لوگ اُن کے خلاف عدالتوں سے رجوع کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں، جب تک اے سی آر میں یہ خانہ بھی نہیں بنایا جاتا کہ کسی محکمے کے اُس افسر کے دورِ تعیناتی میں کتنے مقدمات عدالتوں میں دائر ہوئے اور اُس پر گرفت نہیں کی جاتی، اُس وقت تک ہمارے سرکاری محکمے بے لگام گھوڑے کی طرح دوڑتے ر ہیں گے۔ جب مُلک کا چیف جسٹس یہ کہنے پر مجبور ہو جائے کہ پولیس اور دیگر اداروں کی ناکامی بھی عدلیہ کے سر تھونپ دی جاتی ہے تو اِس بات کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

آج کل ہر روز یہ مطالبہ سامنے آ رہا ہے کہ چیف جسٹس کو پانامہ لیکس کا ازخود نوٹس لینا چاہئے۔ کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ کسی مُلک کے چیف جسٹس نے پانامہ لیکس کا از خود نوٹس لیا ہے، سارا کام وہاں کی پارلیمینٹ یا عوام نے کیا ہے۔ پاکستان میں پارلیمینٹ عضوِ معطل بنی ہوئی ہے۔ ٹی او آر تک طے نہیں ہو رہے اور صاف نظر آ رہا ہے کہ مقررہ مدت گزر جائے گی، مگر یہ معاملہ حل نہیں ہو گا۔ ایک طرف جمہوریت اور پارلیمینٹ کی بالادستی کا ڈھنڈوا پیٹا جاتا ہے اور دوسری طرف عدلیہ اور فوج سے امیدیں باندھ لی جاتی ہیں۔ یہ دوعملی آخر کب تک چل سکتی ہے؟ ایسے میں چیف جسٹس کی اس بات کو کیسے غیر متعلقہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ کرپشن کے خاتمے اور اچھی حکمرانی کے لئے فرشتے آسمان سے نہیں اُتریں گے۔ یہ درست ہے کہ خود عدلیہ میں بھی اصلاحات کی حد درجہ ضرورت ہے، اچھی حکمرانی انصاف کے بغیر ممکن نہیں، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم مُلک کے چیف جسٹس کو اُن دیرینہ مسائل کی نشاندہی سے بھی روک دیں جو ہمارے معاشرے کو اندر ہی اندر سے دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔

مزید : کالم