ہر معاملے میں آئین سے رہنمائی حاصل کریں

ہر معاملے میں آئین سے رہنمائی حاصل کریں

وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نواز شریف لندن میں قیام کے دوران امورِ مملکت کی نگرانی کر رہے ہیں، پرنسپل سیکرٹری، ملٹری سیکرٹری اور دوسرے افسر اُن کی معاونت کر رہے ہیں۔ وزیراعظم کو مُلک کے معمول کے معاملات سے آگاہ رکھا جا رہا ہے اور ان کی ہدایات متعلقہ حکام کو بھجوائی جا رہی ہیں، وزیراعظم کابینہ کے ارکان اور دوسرے حکام سے رابطے میں ہیں۔ ریاستی امور کی انجام دہی میں کوئی تاخیر یا التوا روا نہیں رکھا جا رہا، انہوں نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نواز شریف پیر کے دن(آج)قومی اقتصادی کونسل(این ای سی) اور کابینہ کے اجلاس کی صدارت لندن کے پاکستانی ہائی کمیشن سے سکائپ ویڈیو لنک کے ذریعے کریں گے۔ وزیراعظم آج سہ پہر کو ہونے والے اِن اجلاسوں سے خطاب بھی کریں گے، سرجری کے بعد ڈاکٹروں کی ایڈوائس کے مطابق ہی وہ وطن واپس آنے کے لئے سفر کریں گے۔وزیراعظم سرجری سے پہلے اور بعد میں بطور چیف ایگزیکٹو اپنی ذمے داریاں انجام دیتے رہیں گے۔ ترجمان نے واضح کیا کہ وزیراعظم کے برطانیہ میں علاج اور ٹیسٹ وغیرہ کے تمام اخراجات(پہلے اور اب) وہ اپنی جیب سے ادا کر رہے ہیں اِس سلسلے میں قومی خزانے سے کوئی رقم نہیں لی گئی۔

وزیراعظم مُلک سے باہر ہیں اِس سے پہلے تو وہ چند دن کے لئے گئے تھے اور ٹیسٹ وغیرہ کے بعد واپس آ گئے، چونکہ وہ بظاہر بھلے چنگے نظر آتے تھے، ہشاش بشاش بھی تھے، لندن میں انہوں نے ایک بڑے سُپر سٹور کا چکر بھی لگایا، شاید تھوڑی بہت شاپنگ بھی کی، ایک سیلز مین نے اُن کے ساتھ تصویر کھنچوانے کی خواہش ظاہر کی جو پوری کر دی گئی، اِس تصویر کے منظرِ عام پر آنے کے بعد بڑے متنوع قسم کے تبصرے کئے گئے، کئی لوگوں نے تو یہاں تک کہا اور لکھا کہ ہم نہ کہتے تھے وہ کوئی بیمار شمار نہیں ہیں وہ تو لندن میں سیریں کرتے پھر رہے ہیں وہ تو پانامہ لیکس سے بھاگ کر گئے ہوئے ہیں، جس کا جواب وزیراعظم نے یہ کہہ کر دے دیا تھا کہ اگر ایسا ہوتا تو لندن نہیں پانامہ جاتا، لندن سے واپس آ کر پاکستان میں وزیراعظم نے چونکہ اپنی مصروفیات میں کمی نہ کی، شدید گرمی میں بھی عام جلسوں سے خطاب کرتے رہے تو بعض لوگوں کا یہ شک یقین میں بدل گیا کہ وزیراعظم کی بیماری محض بہانہ ہے، لیکن اب اوپن ہارٹ سرجری کی تیاریاں ہیں جو منگل کو ہو رہی ہے تو انہی لوگوں نے اپنے دلائل کا رُخ دوسری جانب موڑ دیا ہے۔

ایک حلقے کی رائے یہ ہے کہ وزیراعظم کی غیر موجودگی میں کسی دوسرے کو وزیراعظم بنا دیا جائے، اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو آئینی بحران پیدا ہو گا، جن لوگوں نے اپنے آپ کو آئینی ماہر منوانے کی کوششیں شروع کر رکھی ہیں اُن میں سے ایک کا خیال ہے کہ وزیراعظم اپنے اختیارات کابینہ کے کسی دوسرے ساتھی کے سُپرد نہیں کر سکتا، نہ کابینہ کے کسی رُکن کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ وزیراعظم کے اختیارات استعمال کرے۔ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری نے جو اب ایک سیاسی جماعت کے سربراہ بھی ہیں، باقاعدہ طور پر نئے وزیراعظم کے انتخاب کا مطالبہ کر دیا ہے، حالانکہ آئین پاکستان میں جو امورِ مملکت چلانے کی بنیادی اور مقدس دستاویز ہے وزیراعظم کی غیر حاضری میں قائم مقام وزیراعظم کے تقرر کی کوئی شق موجود نہیں، نہ آئین یہ تقاضا کرتا ہے کہ اگر وزیراعظم مُلک سے باہر جائے گا (مختصر مدت کے لئے یا لمبے عرصے کے لئے) تو اُن کی جگہ نیا وزیراعظم منتخب کیا جائے گا، آئین اگر کچھ کہتا ہے تو اس کے الفاظ کو غور سے پڑھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔

آئین کے آرٹیکل90کے تحت مُلک کا انتظام و انصرام وفاقی حکومت صدر کے نام پر چلاتی ہے، حکومت کی تعریف آئین اِن الفاظ میں کرتا ہے کہ ’’حکومت وزیراعظم اور وفاقی وزرا پر مشتمل ہو گی اور وزیراعظم و فاق کا چیف ایگزیکٹو ہو گا۔ آرٹیکل90کی شق دو میں یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ آئین کے تحت اپنے کارہائے منصبی کی انجام دہی میں وزیراعظم یا تو براہِ راست یا وفاقی وزرا کے ذریعے عمل کر سکتا ہے‘‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ کابینہ کے دوسرے ارکان بھی وہ اختیارات استعمال کر سکتے ہیں، جو بنیادی طور پر وزیراعظم کو حاصل ہیں، لیکن وزیراعظم نے انہیں کسی وزیر کو تفویض کر دیا ہو، اس آرٹیکل کا منشا یہی ہے کہ حکومت کا انتظام چلانے کے لئے ہر معاملے پر وزیراعظم کا بنفسِ نفیس حکم دینا اور موقع پر موجود ہونا ضروری نہیں ہے، حکومت اپنے اختیارات صدر کے نام پر استعمال کرتی ہے اسی طرح وزیراعظم کے اختیارات حکومت کا کوئی رُکن (وزیر) استعمال کر سکتا ہے۔ اب جن لوگوں کی سوچ یہ ہے کہ وزیراعظم کا عہدہ کسی حالت میں خالی نہیں رہ سکتا اور چونکہ قائم مقام وزیراعظم کے تقرر کا آئین میں ذکر نہیں اِس لئے وزیراعظم اگر مُلک سے باہر ہو تو پھر اس کی جگہ نیا وزیراعظم منتخب ہونا چاہئے۔ اُنہیں یہ فیصلہ سپریم کورٹ سے کرا لینا چاہئے۔ سابق چیف جسٹس افتخار چودھری تو طویل عرصے تک خود آئین کے نکات کی تشریح کا فریضہ انجام دیتے رہے، معلوم نہیں یہ اہم مسئلہ اُس وقت اُن کے ذہنِ رسا میں کیوں نہیں آیا، چلئے تب نہیں تو اب یہ فیصلہ مُلک کی اعلیٰ ترین عدالت سے کرانے میں کیا حرج ہے کہ اگر وزیراعظم مُلک سے باہر ہو تو پھر کیا لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے؟ دوسری صورت یہ ہے کہ پارلیمینٹ اس مسئلے پر غور کرے اور کوئی آئینی شق آئین میں ترمیم کر کے اس میں داخل کر دی جائے تاکہ جو لوگ آئین کی من مانی تشریح کر رہے ہیں ان کی تسلی ہو جائے۔بھارت میں اس سے ملتا جُلتا واقعہ اُس وقت پیش آیا تھا جب وزیراعظم من موہن سنگھ کی ہارٹ سرجری ہوئی تھی، انہوں نے اپنے بعض اختیارات وزیر خارجہ پرناب مکھر جی کو سونپ دیئے جو اس وقت تک ان تفویض کردہ اختیارات کو استعمال کرتے رہے، جب تک من موہن سنگھ نے دوبارہ ذمے داریاں ادا کرنا شروع نہ کردیں۔

3جون کو وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کر رہے ہیں، اِس حوالے سے بھی ابہام پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ اگر کابینہ منظوری نہیں دے گی تو بجٹ کیسے پیش ہو گا، بعض نابغۂ روزگار تو اس بنیاد پر بجٹ کے معرضِ التوا میں پڑنے کی پیش گوئی بھی فرما چکے ہیں۔ آئین کے آرٹیکل73کے تحت مالی مسودہ قانون(بجٹ) قومی اسمبلی میں پیش کیا جاتا ہے جس کی ایک نقل سینیٹ کو بھیجی جاتی ہے جو اپنی سفارشات قومی اسمبلی کو بھیج سکتا ہے، قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد بجٹ سپیکر کے دستخطوں سے منظوری کے لئے صدر کو بھیج دیا جاتا ہے، آئین میں اس پورے معاملے پر وزیراعظم کا سرے سے کوئی ذِکر ہی نہیں، وفاق اور صوبوں میں محاصل کی تقسیم آرٹیکل 160کے تحت ہوتی ہے۔ قومی مالیاتی کمیشن صدر تشکیل کرتا ہے۔ اس کمیشن کی تشکیل میں بھی وزیراعظم کا کوئی کردار نہیں۔اگر قومی بجٹ سے قبل محاصل کی تقسیم کا کوئی سوال پیدا ہوتا ہے تو اس کے لئے قومی مالیاتی کمیشن موجود ہے، جس کا وزیراعظم رُکن نہیں ہوتا۔مملکت کے امور چلانے کے لئے آئین سے رہنمائی حاصل کریں تو کوئی ابہام نہیں رہتا اور جن کی اس طرح تسلی نہیں ہوتی، وہ آئین کی تشریح کے مجاز ادارے سے ہر وقت رجوع کر سکتے ہیں اِس لئے ٹی وی چینلوں پر بیٹھ کر آئین پڑھے بغیر من مانی تاویلات اور سُنی سنائی کچی پکی باتیں کرنے سے بہتر ہے کہ پہلے اس کا اچھی طرح مطالعہ کر لیا جائے اور پھر کوئی رائے قائم کی جائے، اختلاف رائے پھر بھی ہو سکتا ہے ہر کوئی اپنی رائے کا اظہار تو کر سکتا ہے، اس پر اصرار دانشمندی نہیں،حتمی رائے وہی ہو گی جو مجاز ادارے کی جانب سے آئے گی وہ جو فیصلہ کرے وہی حتمی ہو گا، اِس لئے آئین کا راستہ ہی بہترین راستہ ہے، جس سے بروقت رہنمائی لینی چاہئے۔

مزید : اداریہ