حکومت صحت و تعلیم کے بجٹ میں دگنا اضافہ کرے،میاں محمود الر شید

حکومت صحت و تعلیم کے بجٹ میں دگنا اضافہ کرے،میاں محمود الر شید

لاہور(نمائندہ خصوصی) پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف میاں محمود الر شید نے حکومت پنجاب کو اپوزیشن کی جانب سے بجٹ تجاویز پیش کر دیں جس میں کہا گیا ہے کہ حکومت صحت و تعلیم کے بجٹ میں دگنا اضافہ کرے، زرعی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کسانوں کو حقیقی ریلیف دینے، کرپشن اور توانائی بحران کے حل کیلئے عملی اقدامات کرے، اراکین اسمبلی کی طرح سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی91فیصد اضافہ کرے، غریبوں کی روز مرہ استعمال کی اشیاء پر مکمل ٹیکس ختم کرے، نئے ٹیکسوں کا زہریلا ٹیکہ لگانے سے گریز کرے، اللے تللے کاموں پر بھاری رقم خرچ کرنے کی بجائے وسائل اور پیسہ عوام پر خرچ کرے۔ پنجاب پبلک سیکرٹریٹ میں بجٹ تجاویز پر صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے میاں محمود الر شید نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بجٹ کو ہمیشہ عوام دوست ہی کہا جاتا ہے لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے، حکومت اگر اپنی عوام سے حقیقی معنی میں مخلص ہے تو آئندہ بجٹ میں غریبوں کی روز مرہ استعمال کی اشیاء کیلئے ٹیکس فری بجٹ بنائیں اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اسمبلی ممبران کی طرح91فیصد اضافہ کرے۔ انہوں نے کہا کہ عقل و دانش سے عاری حکمرانوں کو دانش سکولوں سے ہی فرصت نہیں وہ ٹاٹ سکولوں میں میں غربا ء کے بچوں کو کیا سہولتیں مہیا کریں،40فیصد سکولوں میں لیٹرین تک نہیں،25فیصد سکول چار دیواری سے محروم ہیں اور15فیصد کی چھتیں نہیں ہیں لہٰذا حکومت تعلیم کے بجٹ میں دو گنا اضافہ کرے اور اساتذہ کی تنخواہوں میں بھی91فیصد اضافہ کرے۔ میاں محمود الر شید نے زرعی پالیسی کے نفاذ کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت بجٹ میں کسانوں کو نظر انداز کرنے کی روایت ترک کر دے، بجٹ میں کسانوں کو حقیقی ریلیف نہ ملا تو وہ آئندہ فصلیں کاشت کرنے سے پہلے ہزار بار سوچیں گے، زرعی مراحل بجلی کھاد بیج اور کیڑے مار ادویہ کی قیمتیں کم کرے، بجلی، ڈیزل پر سبسڈی فراہم کرے۔

محمود الر شید

مزید : صفحہ آخر