روسی زبان سے ڈاکٹرز فارماسسٹ ناواقف، خناق کیلئے روس سے منگوائی گئی ویکسین ضائع ہونے کا خدشہ

روسی زبان سے ڈاکٹرز فارماسسٹ ناواقف، خناق کیلئے روس سے منگوائی گئی ویکسین ...

لاہور(جاوید اقبال) محکمہ صحت کی طرف سے خناق سے بچاو اور علاج کے لیے ہسپتالوں کو سپلائی کی جانے والی واحد دوائی بے کار ہو گئی ہے ۔دوائی کے لیبل اور استعمال کا طریقہ کار روسی زبان میں ہے جس سے ڈاکٹرز اور فارماسسٹ کے لیے ڈوز کتنی دینی ہے ،کب دینی ہے اور کیسے استعمال کرنی ہے کا فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے اور اگر ڈوز دینا درکار بھی ہو تو کے سے مریض کو دوائی کی ڈوز دے دیتے ہیں اور مریض کو فائدہ ہوگا یا نقصان اس کا فیصلہ وقت پر چھوڑ دیا جاتا ہے جس سے ہسپتالوں میں بڑھتی ہوئی خناق کا ویکسین ضائع ہو رہا ہے جس کی مالیت کروڑوں میں ہے ۔بتایا گیا ہے کہ حال ہی میں محکمہ صحت نے روس سے خناق کے علاج میں استمعال ہونے والی دنیا کی واحد BIPTHERIA ویکسین منگوائی ۔دوائی کی ٹیچنگ ہسپتالوں کو 2سے 3سو ویکسین فراہم کی گئی اس طرح ضلعی ہسپتالوں کو 50اور تحصیل ہسپتالوں کو 20سے 30ویکسین فراہم کی گئی ۔ذرائع نے بتایا ہے کہ یہ دوائی ہسپتالوں کے سٹوروں میں رکھے گئے فریجوں کے شیلف میں سجا کر رکھ دی گئی ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دوائی کا لیبل اور لٹریچر روسی زبان میں ہے ۔لٹریچر میں کون سی عمر کے مریض پر دوائی کی کتنی ڈوز استعمال کرنی ہے اور طریقہ کار بھی روسی زبان میں ہے ۔روسی زبان سے ڈاکٹرز ،فارماسسٹ اور دسپنسر ز واقفیت نہیں رکھتے ہیں جس سے مریضوں پر استعمال کرنا دشوار ہو گیا ہے اور دوائی پڑی پڑی ضائع ہو کر مریضوں کے لیے بے کار ہو جائے گی ۔وزیر اعلیٰ نوٹس لیں کروڑوں روپے کی منگوائی گئی خناق کی دوائی روسی زبان سے ڈاکٹروں اور فارماسسٹوں کی واقفیت نہ ہونے سے ضائع ہو جائے گی اس پر مشیر صحت خواجہ سلیمان رفیق نے کہا کہ اس کا نوٹس لیا جائے گا اور روسی زبان میں خناق کی دوائی کا لٹریچر برائے استعمال اگر ڈاکٹر ز اور فارماسسٹ نہیں پڑھ سکتے تو اس کے ترجمے کا بندوبست کر دیا جائے گا ۔ڈاکٹروں اور فارماسسٹوں کا کہنا ہے کہ چونکہ روسی زبان میں دوائی کے استعمال کا طریقہ کار درج ہے جس سے ہم واقفیت نہیں رکھتے محکمہ صحت کو چاہیے تھا کہ اس کے حوالے سے روسی زبان کا ترجمہ کرایا جاتا اور ہر ویکسین کی پیکنگ میں اردو یا انگریزی ترجمہ کر کے ڈالا جاتا پھر دوائی کار آمد ہوتی ہے۔

ویکسین ضائع

مزید : صفحہ آخر