تھانہ سمن آباد کا علاقہ جرائم پیشہ افراد کا گڑھ ، چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ ، پولیس ناکام ہو گئی

تھانہ سمن آباد کا علاقہ جرائم پیشہ افراد کا گڑھ ، چوری ڈکیتی کی وارداتوں میں ...

 لاہور(وقائع نگار)تھانہ سمن آباد کا علاقہ جرائم پیشہ افراد کاگڑ ھ بن گیا،چوری ،ڈکیتی اور راہزنی کی وارداتوں میں خطر ناک حد تک اضافہ ہو گیا ، پولیس جرائم کو کنڑول کرنے میں ناکام ہوگئی جبکہ مقامی ایس ایچ او "جعلی "گینگ پکڑ کر افسران کی گڈ بک میں رہنے کی بازی لے گیا۔علاقے میں منشیات فروشی ،پرچی جوا،قمار بازی کے اڈے اورقحبہ خانوں کی بھرمار نے شہریوں کا جینا محال کر دیا ۔ نمائندہ ’’پاکستان‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اہل علاقہ نے بتایا کہ سمن آباد کے علاقہ میں منشیات کا کالا دھندا کرنے والوں میں یونس عرف باؤ،منظور،منیر ،ندیم عرف دیما،امتیاز عرف بلیا،شاکر مسیح اور بدنام زمانہ منشیات فروش ٹیڈی، لڈو، شاکو، شاکا، شفیق عرف یقو،یاصر،ملک نیامت،یوسف عرف مونا، بلا، عارف کاتوتی اپنے بیٹے سمیت شامل ہیں۔ان منشیات فروشوں کی وجہ سے علاقے کے متعدد نوجوان نشے کی لعنت میں مبتلا ہوکر اپنے گھروں کو چھوڑ کر "قبرستانوں"کے مکین بن گئے۔ شاہد،طارق محمود، الیاس،ارشد،بھولا بٹ،جان عرف جانا،ریاض عرف راجو،شریف،ایوب عرف گلو،علی عرف باوا،بلاگجروغیرہ پرچی جوا اور قماری بازی کے اڈے پولیس کی سرپرستی میں چلارہے ہیں۔ان اڈوں پر روزانہ لاکھوں روپے کا جوادن رات جاری ہے جہاں پر پولیس بغیر ناغہ کیے اپنا "حصہ"وصول کرتی ہے۔علاقے میں انورخان،عمران عرف سائیں،رقیہ بی بی ،جاوید عرف جیدا،باؤ الطاف، شہناز بی بی،کلثوم بی بی،مائی رکھو وغیرہ فحاشی کے اڈے چلاکر مالا مال ہوگئی ہے جبکہ نوجوان نسل اس چکر میں سنگین جرائم کی "سیڑیاں"چڑھنے لگی ہے۔نواز،شکیل ،بلال، جمیل ، طاہر، شوکت، اشرف، ناصر، قیوم میو،صدیق اشرف وغیرہ علاقے کے بد کردار افراد میں سرفہرست ہیں۔ مقامی رہائشیوں شکیل،ضیاء الحسن،نعیم خان،اسد رفیق، عمران ،مبشر،آصف بٹ، جاوید وغیرہ نے بتایا کہ پولیس کی مرضی کے بغیرکوئی بھی علاقے میں چوہدری نہیں بن سکتا جبکہ ڈکیتی کی واردات ہونا توبہت دور کی بات ہے لیکن ہماری پولیس نے تمام جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے کیونکہ وہ پولیس کو ہمیشہ خوش کرنے کے بعد ہی اپنے دھندے کا آغاز کرتے ہیں۔شہریوں کا کہنا تھا کہ متعدد بار ان جرائم پیشہ عناصر کی پولیس کو درخواستیں دینے کے ساتھ ساتھ نشاندہی بھی کی گئی ہے، پولیس انہیں گرفتار تو کرلیتی ہے لیکن قانونی کارروائی کی طفل تسلیاں دینے کے بعد انہیں تیل پانی ملنے کے بعد باعزت بری کر دیا جاتا ہے ۔عوام کا کہنا تھا کہ پولیس اگر اپنے فرض کی صحیح ادائیگی کرنے کی ٹھان لے تو علاقے سے جرائم پیشہ عناصر کا قلع قمع ہو سکتا ہے۔اس حوالے سے تھانہ سمن آباد میں رابطہ کیا گیا تو پولیس کا موقف تھاکہ الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے ۔پولیس کی جانب سے جرائم پیشہ افراد کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے جلد ہی تمام علاقہ کو جرائم سے پاک کر دیں گے۔

مزید : علاقائی