اپوزیشن کیا کر رہی ہے؟

اپوزیشن کیا کر رہی ہے؟
 اپوزیشن کیا کر رہی ہے؟

  

پانامہ لیکس کے معاملے پر متحدہ اپوزیشن انفرادی پوزیشن لیتے ہوئے ’ہم‘ کی بجائے ’میں، میں‘کر رہی ہے، ایک طرح کی سولو فلائیٹ ہے کہ جاری ہے ، ہر کوئی ثابت کرنا چاہتا ہے کہ ’میں بڑا طاقتور ہوں ۔کوئی ثابت نہیں کرنا چاہتا کہ ’ہم بڑے ہیں‘۔خاص طور پر عمران خان تو ابھی سے بتارہے ہیں کہ کوئی اور ہو نہ ہو، وہ سڑکوں پر ضرور ہوں گے۔یہی اپوزیشن کی ناکامی ہے کہ اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتیں اجتماعی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد کی اسیر ہیں کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ باہم خلط ملط ہونے سے ان کی شناخت گم ہونے کا خطرہ ہے !

یہ نتیجہ آسانی سے اخذ کیا جا سکتا ہے متحدہ اپوزیشن وزیر اعظم نواز شریف کے خلاف ہو نہ ہو، ایک دوسرے کے خلاف ضرور ہے، کبھی کبھی تو لگتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کی بجائے حکومت کے حق میں کام کر رہی ہیں۔ اب اگر اپوزیشن متحد نہیں ہے تو یکساں نتائج کیسے حاصل کر سکتی ہے ۔ Marriage of inconvenienceاسے ہی کہتے ہیں، ان کا پلیٹ فارم مشترکہ مگر ایجنڈا علیحدہ علیحدہ ہے، وہ احتساب بھی چاہتے ہیں اور استثناء بھی، تبھی تو حکومت ان کی سن رہی ہے اور نہ عوام !

اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں کو سمجھ نہیں آرہی کہ دھاگے کو کہاں سے پکڑیں، سرے سے یا درمیان سے !

دیکھا جائے تو پیپلز پارٹی دھاگے کا سرا پکڑے کھڑی ہے تو پی ٹی آئی اسے درمیان سے پکڑ کر سلجھانے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے ، خالی بڑھکیں مارتی ہے اور حکومت سے بڑھ کر وقت گزاری کر رہی ہے کیونکہ پانامہ لیکس کے حمام میں اس وقت وہ سب سے بڑھ کر ننگی نظر آرہی ہے لیکن پی ٹی آئی نے عجیب منطق گھڑ لی ہے کہ ہم تو ننگے ہیں مگر وزیر اعظم کا احتساب اس لئے سب سے پہلے ہونا چاہئے کہ وہ بھی ننگے ہیں۔یوں احتساب کی جو درگت بننے جا رہی ہے اسے دیکھ کر ہر کسی کی خواہش ہے کہ پہلے اس کا احتساب ہو جائے کیونکہ اس سے بہتر اور کوئی موقع نہیں ہو سکتا جب کوئی بھی اس میں سنجیدہ نہیں ہے، یہ ہے وہ اپروچ جو ہمارے سیاستدان اس وقت اپنائے ہوئے ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف ایک دوسرے سے با امر مجبوری بندھے ہوئے ہیں، انہیں ایک دوسرے کی ضرورت بھی ہے اور ایک دوسرے سے خطرہ بھی ہے ، یہ تعلق جتنا مضبوط ہے اتنا ہی کمزور بھی دکھائی پڑتا ہے، اس صورت حال سے اختلاف تو جنم لے سکتا ہے ، گرینڈ الائنس جنم نہیں لے سکتا!

اپوزیشن میں موجود سیاسی جماعتیں پانامہ لیکس پر سیاست کی دکان گرم کرکے اپنے لئے انتخابی سپیس پیدا کرنا چاہتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ حکومت کو اس قدر بدنام کیا جائے کہ لوگ آئندہ انتخاب میں اسے ووٹ دینے سے باز رہیں ۔اس ایجنڈے کی تکمیل کیلئے پی پی اور پی ٹی آئی کو اپنی اپنی طاقت کو اکٹھا کرکے ، باہم جوڑ کر حکومت کے خلاف استعمال کرنا ہے۔ مگر پیپلز پارٹی کا مسئلہ یہ ہے کہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد عمران خان تیزی کے ساتھ پاپولر ہوئے ہیں، خاص طور نوجوانوں کے ایک متاثر کن طبقے نے انہیں اپنا لیڈر مانا ہے اور ملکی سیاست میں حصہ لے کر پاکستان کی تقدیر سنوارنے کا عزم باندھے ہوئے ہے۔ یہ عزم پیپلز پارٹی کے جیالوں کا ہرگز نہیں ہے کیونکہ وہ اقتدار کامزہ چکھ چکے ہیں ۔ اپروچ کے اس بُعد کے بعد اپوزیشن کس طرح وزیراعظم کو بیک فٹ پر لے جانے میں کامیاب ہوگی، اس سوال کا جواب کم از کم چھوٹی عید کے ختم ہونے تک ملنے سے رہا!

اس ماحول میں یہ کہنا کہ متحدہ اپوزیشن حکومت کو چاروں شانے چت کرلے گی ، مشکل ہے۔ اصل میں اپوزیشن میں موجود جماعتیں اپنی اپنی جنگ لڑرہی ہیں ، کوئی بھی ایک محاذ پر یکسو نہیں ہے ۔ خاص طور پر پیپلز پارٹی ایک کھائی کے دہانے پر کھڑی ہے اور اچھی طرح جانتی ہے کہ ایک ذرا سی لغزش اسے گمنامی کی اتھاہ گہرائیوں میں گراسکتی ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی ہوا کے گھوڑے پر سوار ہے ، اسے اپنے سوا کچھ نظر نہیں آ رہا ہے۔ اسے یوں بھی بیان کیا جا سکتا ہے کہ پی ٹی آئی اپنے آپ کو اوور اسٹیمیٹ اور پیپلز پارٹی اپنے آپ کو انڈر اسٹیمیٹ تصور کئے ہوئے ہے چنانچہ نہ پی ٹی آئی پیچھے ہٹ پارہی ہے اور نہ پیپلز پارٹی آگے بڑھ پا رہی ہے!

مزید : کالم