لندن سے بدلتے سیاسی منظر نامہ پر ایک نظر

لندن سے بدلتے سیاسی منظر نامہ پر ایک نظر
 لندن سے بدلتے سیاسی منظر نامہ پر ایک نظر

  

پاکستانی سیاست کا حسن اس کی غیر یقینی ہے۔اس کے سٹیک ہولڈرز نے بلا شبہ اس کو کسی بھی لمحہ مستحکم نہیں ہو نے دیا۔ اگر عوام کسی سیاسی جماعت کو مکمل مینڈیٹ دے بھی دیں تب بھی غیر یقینی کی صورتحال ختم نہیں ہو تی۔ اسی لئے دو تہائی اکثریت کی حامل حکومتیں بھی اپنی مدت پوری نہیں کر سکی ہیں۔ شاید یہی غیر یقینی کی صورتحال اس سیاست کے بڑے سٹیک ہولڈر اسٹبلشمنٹ کی بقا اور طاقت کا سر چشمہ ہے اسی لئے وہ اس کو قائم رکھنے کے لئے بہت محنت کرتی ہے۔

اسٹبلشمنٹ سیاسی دور حکومت میں بہت محنت سے ایک ایسا ماحول قائم رکھتی ہے جس سے سیاسی حکومت کو چیلنج کیا جا سکے اور وہ خود کو سیاسی حکومت کا سب سے بڑا حریف ثابت کر سکے۔ جبکہ اسٹبلشمنٹ کے دور حکومت میں بلا شبہ سیاستدان خود کو اسٹبلشمنٹ کی حکومت کا سب سے بڑا حریف ثابت کرتے رہتے ہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ دونوں طرف ایسے گروپ موجود ہیں جو دوسری طرف تعاون کرتے رہتے ہیں۔

ویسے تو میاں نواز شریف کی حکومت کے پاس قومی اسمبلی میں واضح اکثریت موجود ہے۔ ان کی حکومت کسی چھوٹے گروپ کی بیساکھیوں پر قائم نہیں ہے۔ جسے اسٹبلشمنٹ پیچھے کر لے تو حکومت آئینی طور پر ختم ہو جائے۔ اسی لئے اسٹبلشمنٹ کے پاس 1999 کی طرح کوئی آئینی راستہ موجود نہیں ہے۔ جس سے وہ میاں نواز شریف کو راستہ سے ہٹا سکے۔شاید میاں نواز شریف کی یہی طاقت تب بھی ان کی کمزوری بن گئی اور اب بھی اسٹبلشمنٹ شاید خود کو 1999 کی طرح ایک بند گلی میں محسوس کر رہی ہے۔ جہاں میاں نواز شریف کو ہٹانے کے لئے کوئی آئینی راستہ موجود نہیں ہے۔

سیاسی طور پر میاں نواز شریف خو د کو ایک قلعہ میں محفوظ کر چکے ہیں۔ حزب اختلاف کی اکثریتی جماعتیں بھی ان کی پشت پر کھڑی ہیں۔ اے این پی، آفتاب شیر پاؤ اور متحدہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی میاں نواز شریف کے ساتھ ہیں۔ ایم کیو ایم ایک دن ادھر اور ایک دن ادھر کا حسب روایت کھیل کھیل رہی ہے اور آخری دن شاید میاں نواز شریف کے ساتھ ہی کھڑی ہو گی۔ پیپلزپارٹی کے حوالہ سے سیاسی منظر نامہ پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان موجود ہے اور تھا کہ پیپلزپارٹی کہاں کھڑی ہے۔

لندن میں میاں نواز شریف کے دل کی سرجری ہونے جا رہی ہے۔ پوری قوم ان کی صحت کے لئے دعا گو ہے۔ لیکن لندن سے متضاد اطلاعات آرہی ہیں۔ سیاسی حکومت کے دوست تو یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمٰن کا لندن مشن کامیاب رہا ہے۔ سابق صدر آصف زرداری کی ملاقات ہو چکی ہے۔ اور گیم پلان طے ہو چکا ہے۔ اسی لئے میاں نواز شریف نہائت مطمئن اور پر سکون دل و دماغ کے ساتھ دل کی سرجری کے لئے آپریشن تھیٹر میں جا رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ اعتزاز احسن سے پریشان نہ ہوں۔ وہ شور زیادہ مچائیں گے لیکن کریں گے وہی جو گیم پلان کا حصہ ہے۔ بلاول بھٹو آہستہ آہستہ درجہ حرارت نیچے لے آئیں گے۔ سابق صدر آصف زرادری نے میاں نواز شریف کو کہا ہے کہ پیپلزپارٹی بہت سیاسی نقصان اٹھا چکی ہے۔ اب گیم کو فوری ختم نہیں کیا جا سکتا۔ پیپلزپارٹی کو فائدہ اٹھانے دیں۔ اس لئے میاں نواز شریف کو اب اس میں سے پیپلزپارٹی کو اپنی بحالی کا فائدہ اٹھانے کی مہلت دینا ہو گی اور پھر وہی ہو گا۔ اس دوران دو چیف بھی جانے کے قریب ہو جائیں گے۔ چیف جسٹس کی بھی ریٹا ئر منٹ قریب ہے۔ اور آرمی چیف بھی ریٹائرمنٹ کے قریب ہیں، لیکن اسٹبلمشنٹ کے دوست لندن سے اطلاعات دے رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی نے میاں نواز شریف کی بجائے اسٹبلشمنٹ کے ساتھ معاملات طے کر لئے ہیں۔ اسی لئے ملاقات نہیں ہو ئی۔ اس لئے گیم اسٹبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہے۔

تا ہم سیاسی تجزیہ نگاروں کی رائے میں اگر پیپلزپارٹی نہ اسٹبلشمنٹ کے ساتھ جائے اور نہ میاں نواز شریف کے ساتھ جائے اور نیوٹرل رہے تو کیا ہو گا۔ تب بھی میاں نواز شریف کا فائدہ ہے۔ ٹی او آرز کمیٹی میں ڈیڈ لاک رہے گا۔ کبھی رہے گا کبھی ٹوٹ جائے گا ۔ پھر ہو جائے گا۔ ایسے میں دونوں چیف چلے جائیں گے اور پھر معاملہ آسان ہو جائے گا۔ کیونکہ چیف جسٹس کے بیانات بھی حکومت کو کچھ زیادہ پسند نہیں آرہے۔ سوال اٹھائے جا رہے ہیں کہ چیف جسٹس کیا ماحول بنانے جا رہے ہیں۔ اس لئے ان کے بھی جانے کے بعد ہی معاملات کو عدالت میں لیجانے کی کوشش کی جائے گی۔ یا تب جائیں جب ان کا جانا بہت قریب ہو۔

اگر یہ سارا منظر نامہ تسلیم کر لیا جائے تو سوال یہی ہے کہ کیا اس بار بھی اسٹبلشمنٹ پھر ہار تسلیم کر لے گی۔ اور پھر کسی نئے حملہ کی تیاری کرے گی۔ لیکن شنید یہ بھی ہے کہ اسٹبلشمنت اس بار فائنل راؤنڈ کھیلنا چاہتی ہے۔ وہ کہہ رہی ہے کہ اب اس کے پاس مہلت نہیں کہ دوبارہ پر بات چھوڑ دی جائے۔ اب نہیں تو کبھی نہیں۔ لیکن اسٹبلمشنٹ کے پاس گیم کو آئین و قانون کے دائرہ میں رکھنے کے لئے عدالت کا سہارا لینے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں اور عدلیہ کس قدر اسٹبلشمنت کے ساتھ ہے۔ یہ سوال ا پنی جگہ موجود ہے۔ دھاندلی کے مقدمہ میں تو عدلیہ نے میاں نواز شریف کو کلین چٹ دے دی تھی۔ اس بار کیا ہو گا۔

چودھری نثار علی خان اور میاں شہباز شریف کی جنرل راحیل شریف سے ملاقات کو بھی مختلف تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ ایک حلقہ اس کو بریک تھرو کہہ رہا ہے کہ معاملات ڈیڈ لاک پر نہیں۔ اور دوسری طرف یہ کہا جا رہا ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور چودھری نثار علی خان تو 1999 میں بھی آخری لمحہ تک مفاہمت کی کوششیں کر رہے تھے۔ وہ اس بار بھی کر رہے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اسٹبلشمنٹ خود اس وقت 1999 جیسا کوئی فیصلہ اور ایکشن کرنے والی پوزیشن میں ہے۔ اسٹبلشمنٹ کے دوستوں سے جب یہ سوال کیا جاتا ہے تو وہ ابھی تک تو یہی کہہ رہے ہیں اسٹبلشمنٹ شاید ابھی ایسی پوزیشن میں نہیں ہے۔ اسی لئے کوئی آئینی راستہ تلاش کیا جا رہا ہے۔ اور اس کی راہ میں رکاوٹیں جلد عبور کرنا شاید اسٹبلشمنٹ کی سمجھ میں نہیں آرہا۔ یہ سیاسی قوتیں معاملہ کو اتنا لمبا کر تی جا رہی ہیں کہ اسٹبلشمنٹ پریشان ہوتی جا رہی ہے۔ اسی لئے عمران خان سڑکوں پر آنے کی باتیں کر رہے ہیں۔

مزید : کالم