بجٹ کیسا ہونا چاہیے صنعتکاروں ، تاجروں اور عام صارفین کی تو قعات و تجاویز پر مبنی خصو صی رپورٹ

بجٹ کیسا ہونا چاہیے صنعتکاروں ، تاجروں اور عام صارفین کی تو قعات و تجاویز پر ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

اسد اقبال
توقع ہے کہ ماہ جون کے پہلے ہفتے میں وفاقی بجٹ پیش کردیا جائے گا جس پر بہت سے تاجروں اور عوام دونوں کی نگاہیں ٹکی ہیں کہ یہ بجٹ ان کے لیے کیا لیکر آتا ہے۔ یہ بات تو طے شدہ ہے کہ حکومت کو بڑے ڈیموں کی تعمیر اور توانائی کی پیداوار کے نئے منصوبوں پر کام کرنا ہی چاہیے کیونکہ صنعتوں کو رواں دواں رکھنے کے لیے وافر بجلی کی دستیابی ناگزیر ہے اور وہ بھی ہائیڈل ذرائع سے کیونکہ تھرمل ذرائع انتہائی مہنگے اور تجارتی خسارے میں اضافے کا سبب ہیں۔ میں یہاں خصوصی طور پر لاہور چیمبر کی اْن بجٹ تجاویز کا ذکر کرنا چاہتا ہوں براہِ راست صنعتکاروں اور تاجروں سے متعلقہ ہیں ۔ لاہور چیمبر کی جانب سے بھجوائی گئی بجٹ تجاویز میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذیلی منصوبے مکمل کرنے کے لیے اشیاء درآمد کرنے کے بجائے مقامی مینوفیکچررز کو ترجیح دی جائے جس سے انہیں موقع ملے گا کہ وہ اپنی پیداواری صلاحیت بڑھائیں۔ صنعتوں کو وسعت ملنے سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونگے اور حکومت کے محاصل بھی بڑھیں گے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ حکومت مقامی صنعتوں کو ترجیح دے۔ فی الوقت تو مقامی مینوفیکچررز کو مشکل صورتحال کا سامنا ہے کیونکہ حکومت نے سی جی او نمبر 3 ، 2015کے ذریعے پچیس میگاواٹ سے زائد کے پاور پراجیکٹس میں مقامی مصنوعات کا استعمال روک دیا ہے۔ ایس آر او 565کے زیر اثر آنے والی انڈسٹری سے خام مال پر کسٹم ڈیوٹیز میں رعایت واپس لے لی گئی ہے اور زیادہ تر کیسز میں خام مال پر امپورٹ ڈیوٹی دس فیصد سے بڑھاکر بیس فیصد کردی گئی ہے جس کا نتیجہ خام مال کی قیمتوں میں اضافہ کی صورت میں برآمد ہورہا ہے۔ اگر مقامی مینوفیکچررز کے لیے مسابقتی صورتحال پیدا نہ کی گئی تو وہ چین پاکستان اکنامک کاریڈور سے فائدہ اٹھانے میں ناکام رہیں گے لہذا یہ معاملہ خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ ٹیکس دہندگان کی حوصلہ افزائی کے لیے ضروری ہے کہ ٹیکسوں کے پیچیدہ اور بے رحمانہ سسٹم کو آسان، عام فہم اور تاجر دوست بنایا جائے، ٹیکس وصولی کے اہداف تب تک پورے کرنا ممکن نہیں جب تک تاجروں اور ٹیکس وصول کرنے اداروں میں اچھے تعلقات نہ ہوں۔ اسی سلسلے میں لاہور چیمبر نے یہ تجویز بھی دی ہے کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو بینک اکاؤنٹس تک رسائی جیسے اقدامات سے بھی گریز کرے کیونکہ ان کی وجہ سے کاروباری ماحول بہت خراب ہورہا ہے۔ ٹیکس دہندگان کو پہلے ہی بہت سے چیلنجز کا سامنا ہے ، ایسے میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو اْن کے بینک اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کرکے مزید مشکلات پیدا کررہا ہے۔ بینک اکاؤنٹس تک رسائی اور قوم نکلوانا آخری قدم ہونا چاہیے لیکن ریجنل ٹیکس آفسز/لارج ٹیکس پیئر یونٹس ٹیکس اہداف پورے کرنے کے لیے فوری طور پر انتہائی قدم اٹھا لیتے ہیں۔لاہور چیمبر نے حکومت سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ وہ سمگلنگ روکنے کے لیے انتہائی سخت اقدامات اٹھائے جس سے صرف مقامی صنعتیں ہی تباہ نہیں ہورہیں بلکہ حکومت کو بھی محاصل کی مد میں اربوں ڈالر کے نقصان کا سامنا ہے۔ ہماری تجویز ہے کہ سمگلنگ روکنے کے لیے بارڈرز پر جدید ترین مانیٹرنگ سسٹم لگانے سمیت تمام ممکن اقدامات اٹھائے جائیں کیونکہ یہ معاشی ترقی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن چکی ہے جبکہ سمگل شدہ اشیاء کی چیکنگ کے نام پر مارکیٹوں میں چھاپوں نے تاجر برادری میں خوف و ہراس کی فضا پیدا کررکھی ہے ۔افغانستان، ایران، چین اور بھارت سے سمگل شدہ اشیاء ایک سیلاب کی طرح بلا روک ٹوک آرہی ہیں ، چونکہ ان پر کوئی ڈیوٹی یا ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے حکومت کو بہت بھاری نقصان ہورہا ہے ، سستی ہونے کی وجہ سے صارفین انہیں مقامی اشیاء پر ترجیح دیتے ہیں جس کی وجہ سے مقامی صنعتیں بھی تباہ ہورہی ہیں،یہیصورتحال رہی تو صنعتیں تیزی سے بند اور لوگ بے روزگار ہونگے۔ڈیوٹیوں اور ٹیکسوں کی زیادہ شرح سمگلنگ کی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہی ہے لہذا حکومت اْن اشیاء پر ڈیوٹیاں اور ٹیکس کم کرے جو سمگلنگ کے لیے کشش رکھتی ہیں۔ بارڈرز پر جدید سکینرز نصب کیے جائیں تاکہ غیرملکی مصنوعات سمگل ہوکر ملک میں نہ آسکیں اور چیک پوائنٹس پر ایماندار اور باصلاحیت افسران تعینات کیے جائیں۔ ریفنڈ کلیمز کی ادائیگی میں تاخیر ایک دیرینہ مسئلہ ہے، تاخیر کی وجہ سے کاروباری افراد کا بھاری سرمایہ پھنسا ہوا ہے جس کی وجہ سے انہیں اپنے کاروبار چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔ میرا مشورہ ہے کہ ٹیکس ریفنڈ کلیمز ریٹرن فائل کرنے کے دو ماہ کے اندر ادا کیے جائیں جبکہ طویل عرصے سے التوا پذیر ریفنڈز کے لیے بینکنگ بانڈز جاری کیے جاسکتے ہیں۔ چھوٹے پیمانے پر کاروبار کرنے والے تاجروں کا دیرینہ مطالبہ ہے کہ حکومت اس وفاقی بجٹ میں اْن کے لیے کاٹیج سٹی کے قیام کا اعلان کرے لہذا حکومت کو یہ مطالبہ اب پورا کرہی دینا چاہیے۔ کاٹیج انڈسٹری کی طرف توجہ دیکر حکومت غربت اور بے روزگاری کے خاتمے سمیت بہت سے معاشی مسائل حل کرسکتی ہے لہذا حکومت کو وفاقی بجٹ میں اس کے لیے خصوصی اقدامات اٹھانا ہونگے۔ بنگلہ دیش ، چین اور بھارت نے کاٹیج انڈسٹری کو ترقی دیکر بے شمار معاشی فائدے حاصل کیے لہذا ہمیں بھی ایسے ہی اقدامات اٹھانا ہونگے۔

تاریخ کے اوراق اگر دیکھے جائے تو ہمیشہ وہی قومیں تر قی کر تی ہیں جن کے حکمران عوام دوست اور محب وطن ہو ں ۔جو نہ صرف ملک میں خوشحالی کے لیے اقدامات اٹھاتے ہیں بلکہ عوام کو سستی تعلیم اور صحت سمیت دیگر بنیادی سہو لیات کی فراہمی کر تے ہوئے ملکی معیشت کو پروان چڑھانے کے لیے کلیدی کر دار ادا کر تے ہیں جس سے نہ صر ف پڑھا لکھا صحت مند معاشرہ تشکیل پاتا ہے بلکہ آنے والی نسلوں کا مستقبل بھی سنور جاتا ہے ۔ واضح رہے کہ وفاق اور پنجاب کے حکمران پیشے کے اعتبار سے تجارت سے وابستہ ہیں جو تاجروں اور صنعتکاروں کی مشکلات سے بخوبی شناسا ہیں ۔جو سمجھتے ہیں کہ توانائی کا بحران ،ٹیکسز کی شرح میں اضافہ سے کاروباری افراد کس طرح پریشان حال ہیں ۔لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ حکو مت وقت آئندہ مالی سال کے بجٹ برائے 2016_17میں انڈسٹری کو پروان چڑھانے ،کاروباری سر گر میوں کو بہتر اور بین الاقوامی منڈیوں میں باآسانی رسائی کے لیے صنعتکاروں اور تاجروں کی تجاویز کو عملی جامہ پہناتے ہوئے توانائی بحران کے خاتمہ کے لیے تھنک ٹینک منصو بہ بندی کی جائے ۔

"روزنامہ پاکستان "سے خصو صی گفتگو کر تے ہوئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبر زآف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی) کے ریجنل چےئرمین میاں رحمان عزیز نے کہا کہ حکو مت وقت کی ملکی معاشی پالیسیاں سرمایہ کاری کوفروغ اور انڈسٹری کو ریلیف دینے میں اہم کردا ر ادا کررہی ہیں ۔صنعتکاروں کو توقع ہے کہ وفاقی حکو مت آئندہ مالی سال کا بجٹ برائے 2016-17بزنس فرینڈلی پیش کر کے معیشت کو مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا کر ے گی۔انھوں نے کہا کہ حکو مت کی اقتصادی پالیسیاں تسلسل سے چلے تو ملکی معیشت میں انقلاب آ جائے گا کیونکہ پالیسی کے تحت حکو مت مختلف ریفارمز لے کر آ رہی ہے جبکہ ایس ایم ایز کے لیے شرائط میں نرمی کر دی گئی ہے کہ ایس ایم ایز پبلک سیکٹر کا حصہ بن سکتی ہیں جس سے چھوٹے صنعتکاروں کو ریلیف اور کاروبار کو فروغ ملے گا ۔ انھوں نے کہا کہ حکو مت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس دہندگان پر ٹیکسوں کا مذید بو جھ ڈالنے کی بجائے نادہندگان کو ٹیکس نیٹ کا حصہ بنائے ۔انھوں نے کہا کہ وزارت خزانہ اور ایف بی آر حکام کے ساتھ بجٹ کے حوالے سے کئی ایک اجلاس ہو ئے ہیں جس میں ایف پی سی سی آئی نے بجٹ تجاویز پیش کی ہیں اور امید ہے کہ وزارت خزانہ ملکی معیشت کو پروان چڑھانے کے لیے تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنائے گی ۔میاں رحمن عزیز نے کہا کہ توانائی بحران کو ختم کرنے کے لیے چھوٹے ڈیموں کی فوری تعمیر کا اعلان کیا جائے۔ سرکاری محکموں میں بجلی کا استعمال کم کرایا جائے۔ کم قیمت بجلی کے پیداواری منصوبوں کی شاٹ ٹرم اور لونگ ٹرم حکمت عملی بنائی جائے۔اُنھوں نے کہا کہ تاجر برادری پراُمید ہے کہ میاں محمد نواز شریف ملکی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے تاجر برادری کی توقعات پر پورا اُترتے ہوئے بجٹ میں معاشی استحکام کے لیے ہر ممکن اقدامات کرینگے کیونکہ اُنکا وسیع معاشی وسیاسی تجربہ ملک وقوم کو ترقی کی طرف لے جائے گا ۔

پاکستان انڈسٹریل اینڈ ٹریڈرز ایو سی ایشن فرنٹ (پیاف )کے چیئر مین ،لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق سینئر نائب صدر اور مسلم لیگ ٹر یڈرزونگ کے چیئر مین عرفان اقبال شیخ نے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت آئندہ مالی سال کا بجٹ تاجر دوست پیش کرے گی جس میں انڈسٹری کو ریلیف اورتاجروں پرکوئی نیاٹیکس نہیں لگے گاتاہم توانائی بحران کے خاتمہ کے لیے حکو مت کو تمام اقدامات کوبروئے کار لانے کی ضرورت ہے جبکہ سمگلنگ پر قابو پا کر کثیر ریو نیو اکھٹا کیا جاسکتا ہے علاوہ ازیں صحت اور تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کر کے معاشی انقلاب کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے جس کے لیے حکومت کو ووکیشنل انسٹیٹیو ٹ بنا نے کی اشد ضرور ت ہے ۔ عرفان اقبال شیخ نے حکو مت کی جانب سے انٹر سٹ ریٹ میں ایک فیصد کمی کو خوش آئند اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے مہنگائی کا گراف نیچے اور انڈسٹری کا پہیہ رواں ہو گا ۔ انھو ں نے کہا کہ حکو مت کو چائیے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سمگلنگ پر قابو پا نے کے لیے تھنک ٹینک اقدامات اٹھانے ہو نگے کیو نکہ اس وقت اربو ں روپے کی سمگلنگ بارڈز پر ہو رہی ہے اس پر قابو پانے سے حکو متی خزانہ کو کثیر ریو نیو اکھٹا ہو گا ۔ انھوں نے کہاکہ حکومت بجٹ میں خصو صی طور پر تعلیم اور صحت کے فنڈز میں زائد رقم مختص کر ے جس سے ایک صحت مند اور پڑھا لکھا معاشرہ تشکیل دیا جا سکتا ہے جبکہ ہیو من ریسو رس کے لیے و و کیشنل کالجز کا قیام وقت کی ضرورت ہے جس کے لیے ٹریننگ سینٹرز بنا کر افراد کو ہنر مند بنا یا جا سکتا ہے ۔انھوں نے کہا کہ ابھی تک پاکستانی معیشت کا دارومدار زرمبادلہ کے زخائر پر ہے جس کو بھی فو کس کر نا چائیے ۔عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکو مت سے تاجروں کوبہت سی امید یں وابستہ ہیں کہ آئندہ بجٹ میں انڈسٹری اور کارویار کو ریلیف دینے کے لیے معاشی اصلا حات وقت کی ضرورت ہے ۔انھوں نے کہاکہ بزنس کمیونٹی نے آنے والے بجٹ کیلئے مثبت تجاویز پیش کی ہیں اس لیے بجٹ کی تیاری میں ان کی تجاویز بھی شامل کی جائیں تو بجٹ میں مقرر کردہ حکومتی اہداف کو پورا کرنے میں مدد ملے گی ۔عرفان اقبال شیخ نے کہا کہ وفاقی حکومت براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ ،بلواسطہ ٹیکسوں میں کمی اور سیلز ٹیکس کی شرح کم کرنے پر توجہ دی جائے۔

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کے سینئر نائب صدر الماس حیدر نے کہا کہ موجو دہ حکومت کی مثبت معاشی پالیسیوں کی بدولت ملک معیشت مستحکم اور کاروباری سر گر میوں کو فروغ مل رہا ہے تاہم ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں توانائی بحران پر قابو پانے کے لیے خصوصی طورپر ڈیمز کی تعمیر کے لیے کثیر رقم اور سکلڈ ڈویلپنٹ سمیت تعلیم کے بجٹ میں اضافہ کر ے جبکہ لاہور سمیت ملک بھر میں قائم انڈسٹری ایریاز کو انڈسٹریل زون میں ڈکلیئر کر تے ہوئے صنعتکاروں کے حوصلے بلند کرے ۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ میں کالاباغ، داسو پاور پراجیکٹ، دیامیر بھاشا ڈیم، منڈا ڈیم، گومل زیم ڈیم، ستپارہ پاور پراجیکٹ اور کرم تنگی ڈیم کے لیے زیادہ سے زیادہ فنڈز مختص کیے جائیں۔
فرایا کے وائس چیئر مین اورلاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹر ی کی ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر عدنان بٹ نے توقع ظاہر کی ہے کہ وفاقی بجٹ 2016-17ء کاروبار دوست ہوگا اور اس میں توانائی و پانی کے شعبوں پر خاص توجہ مرکوز رکھی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ توانائی کی قلت پر قابو پانے کے لیے پالیسی میکرز آبی ذخائر کی تعمیر، تھرکول سے توانائی کے حصول اورپاکستا ن ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی جلد تکمیل کے لیے موزوں فنڈز مختص کرے۔ انہوں نے کہا کہ مو جو دہ حکو مت معیشت کر سمبھالا دینے میں کامیاب ہو گئی ہے تاہم معیشت کے پہیے کو آگے دھکیلنے کی ضرورت ہے ۔جس کے لیے صنعتکاروں کو ریلیف اور توانائی بحران کا خاتمہ اشد ضروری ہے۔انھوں نے کہاکہ ایک کمپنی کو سالانہ 47بار ٹیکس ادا کر نا پڑتا ہے جس کے لیے ایسا میکنزم بنایا جائے جس میں ٹیکس کی ادائیگی آسان ہو سکے ۔انھوں نے کہا کہ لاہور میں اس وقت چالیس ہزار کے قر یب چھوٹی و بڑی فیکٹریا ں ہیں جن میں سے صر ف 1200فیکٹریاں انڈسٹریل زون میں ہیں حکو مت کو چائیے کہ صنعتکاروں کو ریلیف دینے اور ملکی معیشت کو مذید مستحکم اور مظبو ط بنانے کے لیے انڈسٹری ایریاز کو انڈسٹری زون کا درجہ دیا جائے ۔

آل پاکستان انجمن تاجران کے مرکزی جنرل سیکرٹری نعیم میر نے کہا کہ بجٹ الفا ظ کا ہیر پھیر ہے جس میں آ ج تک کسی حکو مت نے عام آ دمی کو ریلیف نہ دیا ہے بلکہ معاشی حالا ت کو ابتر بنا تے ہو ئے ہمیشہ جاگیرداروں اور سر مایہ کاروں کو نوازا جاتا ہے ۔ جس ملک میں حکو مت کی آمدن کم اور اخراجات شاہی ہوں وہاں بجٹ عوام دوست کیسے ممکن ہے ۔فیڈرل بورڈ آ ف ریو نیواگر اپنا قبلہ درست کر تے ہوئے ایسا میکنز م بنائے کہ جس سے نادہند گان ٹیکس نیٹ میں آ سکیں اور امیر وں و جاگیرداروں پر ٹیکس لگاتے ہوئے ملکی معیشت کو مستحکم کر نے میں اپنا کلیدی کردار ادا کر سکیں۔انھوں نے کہا کہ جس ملک کا بجٹ ہمیشہ خسارے سے دوچار ہو وہاں عام آدمی اور چھوٹے تاجر کو کھبی ریلیف نہیں مل سکتا ۔ موجودہ حکو مت بھی تاریخ کو دہراتے ہوئے آئندہ مالی سال کا بجٹ خسارہ قرضے لے کر پورا کر ے گی جبکہ آئی ایم ایف سے کشکول اٹھائے ہمارے حکمران پھر قرضے پہ قر ضہ لے گے۔انھوں نے کہا کہ تاجر طبقہ کو موجو دہ حکو مت سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں خیر کی کوئی توقع نہیں تاہم مسلم لیگ ن کی حکو مت بھاری عوامی مینڈیٹ لے کر اقتدار میں آئی ہے ۔ جس کو عوامی مسائل اور مشکلا ت کو مد نظر رکھتے ہوئے فر ینڈلی بجٹ پیش کر نا چا ئیے ۔اگر روائیتی طرز پر حکو مت نے آئندہ مالی سال کا بجٹ عوام اور چھوٹے تاجروں کی امنگو ں کے عین مطا بق نہ ہوا تو بجٹ کا بائیکا ٹ کر تے ہو ئے حکو مت مخالف سڑکو ں پر نکل آئیں گے ۔نعیم میر نے کہا کہ ملک میں جاری توانائی اور گیس بحرا ن نے معیشت کی جڑ یں کھو کھلی کر دی ہیں ۔ جس سے سب سے زیادہ نقصان چھو ٹے کارخانہ داروں اور تاجروں کو پہنچ رہا ہے جبکہ چار سو مہنگائی نے عوام کا جینا دو بھر کر دیا ہے ۔ اشیائے ضروریہ تو درکنار اشیائے خوردو نو ش کی آ سماں سے باتیں کر تی قیمتو ں کے باعث عام آ دمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں ۔

وویمن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی صدر ارم شاہین نے کہا کہ وفاقی حکومت بجٹ میں خواتین کے لیے خصوصی طور پر فنڈز مختص کرے جس سے خواتین کی کاروباری سر گر میوں کو پروان چڑھایا جائے کیو نکہ ملک میں 52فیصد شرح خواتین کی ہے ۔انھوں نے کہا کہ حکو مت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مہنگائی کا قلع قمع کر نے کے لیے بجلی بحران پر قابو پاتے ہو ئے پٹرولیم مصنو عات کی قیمتو ں کو مستحکم رکھے ۔ کیو نکہ بجلی کی طو یل بند ش اور پٹرولیم مصنو عات کی قیمتو ں میں اضا فے کے ڈائر یکٹ اثرات عام آدمی کو لے ڈو بتے ہیں ۔انھو ں نے کہا کہ حکو متی ریو نیو میں اضافہ کے لیے ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے ایف بی آر کو تھنک ٹینک منصوبہ بندی کر نا ہو گی جبکہ حکو مت وقت کو بھی ملکی معیشت کو سمبھالا دینے کے لیے اپنے شاہی حکو متی اخراجات میں پچاس فیصد تک کمی کر نا چائیے ۔انھوں نے کہا کہ کرپشن کا قلع قمع کر نے کے لیے کرپٹ سیاستدانوں ، بیورکریٹس ،تاجروں اور جاگیرداروں کو احتساب کے کٹہرے میں لانا ہو گا۔

پاکستان پبلشرز ایسو سی ایشن کے مرکزی رہنماء کاشف حسین گوہر نے کہا کہ حکو مت آئندہ مالی سال کا بجٹ برائے 016-17متوازن اور تاجر دو ست پیش کر کے عوام اور انڈسٹری کو ریلیف سے ہمکنا ر کر ے ۔تاجر برادری حکو مت کے ساتھ شا نہ بشانہ ہے تاہم معاشی اصلاحات وقت کی ضرورت ہے جس میں توانائی و گیس بحران پر قابو پا نے سمیت ٹیکسو ں میں ریلیف دے کر مہنگائی کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے ۔ انھو ں نے وزیر خزانہ اسحا ق ڈار سے مطا لبہ کیا ہے کہ پیپر انڈسٹری کو اپنے پاؤں پر کھڑا کر نے کے لیے ایمپورٹ کر دہ کاغذ پر عائد کر دہ ٹیکسو ں کی شرح میں کمی کی جائے تاکہ سستے خام مال کی دستیابی سے ملک میں نظام تعلیم سستا ہو سکے ۔کاشف حسین گوہر نے کہاکہ مسلم لیگ ن کی حکو مت ملکی معیشت کو مستحکم کر نے میں کامیاب ہو گئی ہے ۔میاں برادران تاجر ہیں جو تاجر برادر ی کو در پیش مسائل سے بخوبی واقف ہے لہذا وفاقی حکو مت آئندہ مالی سال کے بجٹ پر تاجر برادری کو حکو مت وقت سے بہت سی تو قعا ت وابستہ ہیں ۔

انجمن تاجران کے جوائنٹ سیکر ٹری میاں سلیم نے کہا کہ حکو مت آئندہ مالی سال کے بجٹ بنکوں کے انٹر سٹ ریٹ میں واضع کمی کرے تاکہ کاروباری سر گر میاں پروان چڑ ھ سکیں ۔انھوں نے کہا کہ تاجر برادری نے موجودہ حکومت کی بہتر تاجر پالیسوں کی وجہ سے اُنھیں ووٹ دیئے ہیں تاکہ وہ تجارتی خسارے کو کم اور معاشی استحکام کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کا رلاکرمعاشی بحران حل کرنے کے علاوہ عوام کو گڈگورننس اور بہتر ترجیحات د ے سکیں ۔انھوں نے کہا کہ تاجر برادری حکو مت کے ساتھ ہے لہذا حکو مت کو بھی چائیے کہ وہ تاجروں کے مسائل پر تو جہ دیتے ہوئے ایسے مثبت اقدامات اٹھائے جس سے کاروباری سر گر میوں کو فروغ اور مہنگائی کی شر ح میں کمی واقع ہو سکے ۔ انھوں نے کہا کہ تاجروں کو قوی امکان ہے کہ حکومت وقت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس دہندگان پر مذید ٹیکسو ں کا بو جھ ڈالنے کی بجائے ریلیف دے گی ۔

لاہور چیمبر آف کامر س اینڈ انڈسٹری کے اپو زیشن آزاد گروپ کے چیئر مین راجا حسن اختر نے کہا کہ وفاقی حکو مت آئندہ مالی سال کا بجٹ برائے 2016-17ملکی حالات اور مہنگائی کو مد نظر رکھتے ہوئے فرینڈلی پیش کر ے ۔موجو دہ حکو مت کی مثبت معاشی پالیسیوں سے جہاں ملکی انڈسٹر یز کی پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے وہیں صنعتکاروں کو ریلیف ملنے سے ملکی و غیر ملکی سر مایہ کاری بھی بڑھی ہے ۔انھوں نے کہا کہ حکو مت اگر پٹرولیم مصنوعا ت کی قیمتیں تین ماہ تک فکسڈ کر دے تو اس سے انڈسٹری کو فائد ہ ہو گا کیو نکہ ماہانہ قیمتوں میں ردو بدل ہو نے سے جہاں اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں وہیں گھریلو بجٹ متاثر ہوتا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ حکوم ت تجارتی خسارے کو کم کر نے کے لیے ایکسپورٹرز کو ریلیف دے اور برآمدات میں کھڑی رکاوٹوں کو ہٹایا جائے تاکہ ذرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے ۔ انھوں نے کہا کہ حکومت بجٹ میں ملکی زراعت کو تباہی کی جانب بڑھنے سے روکے اور فصلوں میں زہریلی زرعی ادویات کی استعمال پر پابندی عائد کر ے کیو نکہ زرعی ادویات کے اثرات انسانی جسم پر منفی اثرات مر تب کر رہے ہیں ۔

پاکستان فلور ملز ایسو سی ایشن کے گروپ لیڈر اور سابق مرکزی چیئر مین عاصم رضا نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکو مت سے بہت سی امید یں وابستہ ہیں کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں انڈسٹری اور کاروبار کو ریلیف دینے کے لیے معاشی اصلا حات وقت کی ضرورت ہے ۔ کیو نکہ غیر ملکی سر مایہ کاری رکنے اور برآ مد ی آرڈر پورے نہ ہو پا نے سے زرمبادلہ کے زخائر میں کمی واقع ہو گئی ہے جس کی وجہ توانائی کا بحران ہے انھو ں نے کہا کہ بجلی کی طو یل بند ش سے کارخانوں اور فلور ملوں میں پیداواری عمل کم ہو کر رہ گیا ہے جس سے مہنگائی کا گراف بھی بلند ہوا ہے اور اشیائے ضروریہ تو در کنار اشیائے خوردو نو ش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر نے لگی ہے ۔انھو ں نے کہا کہ حکومت آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ریٹیلر ز دکانداروں کو بے جا ٹیکسز کے شکنجو ں سے نکالتے ہو ئے ریلیف دے اور نا دہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لا تے ہوئے خزانہ میں اضا فہ کر ے جبکہ ٹرن اوور کو ختم کر تے ہو ئے تمام ریٹیلرز سے ایک فیصد سیلز پلس انکم ٹیکس لیا جائے جس سے ٹیکس نیٹ میں یقینی اضافہ ہوگا۔
نے کہا کہ بجلی بحران کے خاتمہ کے لیے اقدامات ہو نے چائیے جس نے کاروبار کو تباہی کے دھانے پر پہنچا دیا ہے ۔

پنجاب سر مایہ کار ی بورڈاینڈ ٹر یڈ کی چیف ایگزیکٹو آفیسر آمنہ ظفر چیمہ نے کہا کہ وفاقی حکو مت ایسا بجٹ پیش کر ے جس سے انڈسٹری اور کاروباری طبقہ کو ریلیف مل سکے جبکہ بجٹ میں ٹیکسوں کا بو جھ بڑھانے کی بجائے بیلنس رکھا جائے تاکہ ٹیکس دہندگان بخوشی ٹیکس ادا کر سکے ۔ آمنہ چیمہ نے کے کہا کہ وزیر اعلی پنجاب شر یف پنجاب کے بجٹ میں عام طبقہ کو ریلیف دینے کے لیے بھر پور اقدامات اٹھا رہے ہیں جبکہ پرائیویٹ پارٹنر شپ کی تر قی کے لیے خصو صی طور پر انڈسٹری مالکان اور کاروباری افراد کے ساتھ اجلاس ہو رہے ہیں تاکہ بزنس کلائمیکس آگے بڑھ سکے ۔انھوں نے کہا کہ پنجاب حکو مت تعلیم اور صحت کے لیے خصو صی طور پر بجٹ میں فنڈ ز میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔ انھو ں نے تو قع ظاہر کی ہے کہ حکو مت آئندہ مالی سال کا بجٹ تاجر دوست پیش کر ے تاکہ سر مایہ کاری کو فروغ مل سکے اور ملک تر قی و خو شحالی کی راہ پر گامز ن ہو نے سے معیشت ترقی کی پٹری پر رواں ہو سکے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -