، رمضان المبارک، سیکورٹی پلان کی ترتیب مشاورت سے کی جائے، آئی جی سندھ

، رمضان المبارک، سیکورٹی پلان کی ترتیب مشاورت سے کی جائے، آئی جی سندھ

کراچی(اسٹاف رپورٹر)آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے پولیس کو ہدایات جاری کی ہیں کہ پولیس رینج ، ڈسٹرکٹ ، اور زونز کے لحاظ سے مساجد ، امام بارگاہں وں ، مدارس اور دیگر کھلے مقامات کی فہرستوں کا جائزہ لیکر رمضان المبارک سیکیورٹی پلان جلد مرتب کرکے برائے ملاحظہ ارسال کیا جائے جس میں رینجرز سندھ اور دیگر تمام اسٹیک ہں ولڈرز کے تعاون اور مشاورت کے عمل کو یقینی بنایا جائے تاکہ تاکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے مجموعی امور غیر معمولی بنائے جاسکیں ۔ترجمان سندھ پولیس کے دفتر سے جاری اعلامیئے کے مطابق آئی جی سندھ نے کہا کہ تمام مساجد امام بارگاہں وں مدارس اور نماز و تراویح کے دیگر کھلے مقامات سے متعلقہ تھانہ حدود میں کرائم انالیسسز کو پیش نظر رکھ کر انتہائی حساس ، حساس اور نارمل کٹیگریز پر مشتمل سیکیورٹی پلان ترتیب دیا جائے ۔ جسکے تحت تینوں عشروں بشمول یوم شہادت حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہا ، طاق راتوں / شب قدر کے موقع پر سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کو یقینی بنایا جائے ۔انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک کے تینوں عشروں میں تھانہ جات نفری کے علاوہ پولیس کی اضافی نفری کی تعیناتیوں کے اقدامات بھی کیئے جائیں جس میں پولیس کمانڈوز کو ممکنہ حساس علاقوں میں خصوصی ذمہ داریاں سونپی جائیں ۔رمضان المبارک سیکیورٹی پلان کے تحت مرکزی مساجد ، امام بارگاہں وں ، مدارس ، نماز تراویح کے دیگر کھلے مقامات ، سہ روزہ ، پانچ روزہ ، پندرہ روزہ تراویح کے مقامات پر متعلقہ ایس ایس پیز ، ایس ڈی پی اوز کی نگرانی کے تحت نا صرف سیکیورٹی کو مربوط اور موثر بنایا جائے بلکہ منتظمین کی معاونت سے کڑی نگرانی جیسے اقدامات بھی کیئے جائیں ۔ٹیکنکل سوئپنگ ، کلیئرنس ، ایڈوانس انٹیلی جینس کلیکشن شیئرنگ ، رینڈم اسنیپ چیکنگ ، پکٹنگ ، پیٹرولنگ ، داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی ، سرچنگ ، نمایاں مقامات پر پولیس ڈپلائمنٹ ، جرائم کے خلاف جاری آپریشنز کو مذید تیز کرنے اور مفرور و اشتہاری ملزمان سمیت مقدمات میں مطلوب ملزمان کی گرفتاریوں جیسے اقدامات کو رمضان المبارک سیکیورٹی پلان کی حکمت عملی اور لائحہ عمل میں باالخصوص شامل کیا جائے ۔آئی جی سندھ نے کہا کہ رمضان المبارک سیکیورٹی پلان میں صوبے کے تمام اہم سرکاری نیم سرکاری عمارتوں ، دفاتر ، حساس تنصیبات ، قونصل خانوں ، اقلیتی برادری کے مذہبی مقامات ، تمام پبلک مقامات وغیرہ پر سیکیورٹی تفصیلات کا بھی احاطہ کیا جائے علاوہ اذیں پولیس افسران اور جوانوں کو سیکیورٹی فرائض سے متعلق بریفنگ اقدامات سمیت شہریوں سے پولیس کے جملہ سیکیورٹی اقدامات میں ہر ممکن تعاون جیسے عمل کو بھی پلان کا حصہ بنایا جائے ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر