چارسدہ ہسپتال کے ایم ایس کیخلاف کرپشن کے سنگین الزامات

چارسدہ ہسپتال کے ایم ایس کیخلاف کرپشن کے سنگین الزامات

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

چارسدہ (بیورورپورٹ)ڈسٹرکٹ ہیڈ کوآرٹر ہسپتال چارسدہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے خلاف کرپشن کے سنگین الزامات سامنے آگئے ۔ ضلع ناظم فہد ریاض خان نے صوبائی حکومت کو میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد علی کی مالی کرپشن اور انتظامی نا اہلی کے حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کیا مگر وزیر صحت اور محکمہ صحت کے اعلی حکام ایم ایس کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کر رہے ۔ انکوائری کمیٹی نے ایم ایس کے کرپشن کے تحریری رپورٹ اور ثبوت اعلی حکام کو پیش کرکے موصوف کو ا یڈ منسٹریشن اورمالیا تی امور کیلئے نااہل قرار دیا ہے ۔ایم ایس کی ضلع بدری تک احتجاجی تحریک جاری رکھنے کا اعلان ۔ تفصیلات کے مطابق تنگی چارسدہ کے شہریوں صدیق خان ،سرتاج حلیم،عنائت خان ،عبدالغفار ،لطیف ،اسد خان ،سلیم خان ،مقصود ،نور الامین ،شاہد اللہ ،استخار خان ،محمد نعیم ،محمد عثمان ،فرمان خان ،عثمان خان ،صنوبر خان اور ودود خان نے چارسدہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے ڈ سٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چارسدہ کے میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر محمد علی پر کرپشن اور انتظامی نااہلی کے سنگین الزامات لگاتے ہوئے کہاکہ ڈاکٹر محمد علی پر جمال آباد ہسپتال میں لاکھوں روپے کرپشن کرنے کے حوالے سے صوبائی حکومت کی تحقیقاتی کمیٹی کی سفارشات میں موصوف کو کرپشن میں ملوث قرار دیا گیا ہے اور ان کو ایڈ منسٹریشن اور مالیات کے کسی بھی عہدے پر تعینات نہ کرنے کی سفارش کی گئی مگر صوبائی حکومت نے تحقیقاتی کمیٹی کے رپورٹ کو نظر انداز کرکے ڈاکٹر محمد علی کو پہلے ڈی ایچ او اور بعد ازاں ڈی ایچ کیو ہسپتال چارسدہ کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کے عہدے پر تعینات کیا ۔انہوں نے کہاکہ چارسدہ کے ضلع ناظم فہد ریاض خان نے 12اپریل 2016کوصوبائی حکومت کو میڈیکل سپرٹنڈ نٹ ڈاکٹر محمد علی کے نااہلی اور کرپشن میں ملوث ہونے کے حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کرکے ان کے تبادلے کی سفارش کی مگر ڈیڑھ مہینہ گزرنے کے باوجود صوبائی حکومت ،وزیر صحت اور محکمہ صحت کے اعلی حکام موصوف کا تبادلہ نہیں کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوآرٹر ہسپتال چارسدہ میں عوام کو گو نا گوں مسائل اور مشکلات کا سامنا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چارسدہ ہسپتال میں کروڑوں روپے لاگت سے ڈئیلائسسز مشینیں نصب کی گئی ہے جو اب زنگ آلود ہو رہی ہے مگر گردوں کے مریضوں کو پشاور اور دیگر شہروں کو جانا پڑتا ہے ۔ گائنی یونٹ میں دن 12بجے کے بعد کوئی لیڈی ڈاکٹر موجود نہیں ہو تی ۔ گائنا کالوجسٹ سمیت سپیشلسٹ ڈاکٹروں نے ہسپتال سے باہر کلینکس آباد کئے ہوئے ہیں جہاں مریضوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا جا رہا ہے جبکہ سپیشلسٹ ڈاکٹر ہسپتال کے او پی ڈی میں مریضوں کا معائنہ توہین سمجھتے ہیں۔ انڈرو ہسپتال میں مریضوں کا داخلہ کلینکس میں معائنہ سے مشروط ہو تا ہے ۔ ہسپتال کے مردہ خانہ میں پانی و بجلی کی سہولت میسر نہیں ۔ مر دہ خانہ میں جگہ جگہ گندگی کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے ہسپتال کے مردہ خانہ میں ہر وقت بدبواور تعفن ہوتا ہے ۔ پریس کانفرنس کے شرکاء نے صوبا ئی وزیر صحت پر شدید تنقید کی اور کہا کہ ایم ایس ڈاکٹر محمد علی اگر غیر معمولی صلاحیتوں کے مالک ہیں تو ان کو صوابی تبدیل کیا جائے یا ان کو ڈی جی ہیلتھ بنایا جائے مگر چارسدہ کے 18لاکھ عوام پر رحم کرکے انکو ضلع بدر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ عنقریب سول سوسائٹی ،تاجروں اور سیاسی پارٹیوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرکے اس حوالے سے بھرپور احتجاج کیا جائیگا ۔ انہوں نے ڈی جی نیب سے مطالبہ کیا کہ ڈاکٹر محمد علی کی کرپشن کے حوالے سے انکوائری کی جائے تاکہ قومی خزانہ کی لوٹی ہوئی دولت ان سے واپس لیکر قومی خزانہ میں جمع کیا جائے