رائل آرچرڈ ہاؤسنگ سکیم کے نقشوں میں تضاد، کالونی کی حدود میں غیر قانونی توسیع جاری، ایم ڈی اے تاحال خاموش

رائل آرچرڈ ہاؤسنگ سکیم کے نقشوں میں تضاد، کالونی کی حدود میں غیر قانونی ...

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app


ملتان (نمائندہ خصوصی) حبیب رفیق کنسٹرکشن کمپنی کی رائل آرچرڈ ہاؤسنگ سکیم کے نقشہ کے بارے میں سنگین بے قاعدگیاں سامنے آگئی ہیں۔ ابتدائی طور پر الاٹیز کو جونقشہ پیش کیا گیا۔ اس میں ’’جی‘‘ اور ایچ بلاک کی ملکیت رائل آرچرڈ کی ظاہر کی گئی دونوں بلاکوں کے پلاٹس بھی نقشہ میں ظاہر کئے گئے ہیں۔ کچھ عرصہ کے بعد الاٹیز کے لئے ریوائز نقشہ تیار کر کے ’’جی‘‘ اور ایچ اے بلاکس کو رائل آرچرڈ ہاؤسنگ سکیم سے ایک ریڈلائن کے ذریعہ علیحدہ دکھایا گیا۔ لیکن رائل آرچرڈ ہاؤسنگ کی ہی ویب سائٹ نے حبیب رفیق گروپ کا بھانڈا پھوڑ دیا ویب سائٹ پر بلاکس اے۔ بی، سی، ڈی، ای ایف کو فیز ون جبکہ بلاکس جی اور ایچ کو فیز ٹو قرار دیا گیا۔ جبکہ ایم ڈی اے میں جمع ہونے والے الاٹیز کے لئے تیار کئے گئے نقشہ جات میں تضاد پایا جاتا ہے۔ معلوم ہوا ہے رائل آرچرڈ ہاؤسنگ سکیم میں بے ضابطگیوں کے سامنے آنے کا عمل جاری ہے۔ تازہ ترین انکشاف رائل آرچرڈ کے اپنے ہی نقشوں سے ہوا ہے۔ حبیب رفیق کنسٹرکشن گروپ کے جانب سے الاٹیز کو جو پہلا نقشہ پیش کیا گیا۔ اس میں اے، بی، سی، ڈی ، ای ، ایف، جی، ایچ بلاک شو کئے گئے۔ پہلے مرحلہ میں جی اور ایچ بلاک کے پلاٹوں کی خریدو فروخت روک دی گئی اور اس کے بارے میں الاٹیز کو اندھیرے میں رکھا گیا۔ دونوں بلاکوں کے پلاٹس فروخت کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ اس دوران نزدیکی کاشتکاروں کو چاروں اطراف سے گھیر کر انکی زمینیں خرید لی گئیں۔ جبکہ چھوٹے اراضی مالکان کو مقامی زمینداروں کے ذریعہ ہراساں کیا گیا۔ ابتدائی نقشہ میں واضح ہی نہیں کیا گیا کہ رائل آرچرڈ ہاؤسنگ سکیم کتنے فیز میں ہوگی۔ اور ہر کتنے ایریا پر مشتمل ہوگی، ایم ڈی اے کو اپنی مٹھی میں کرنے کے بعد حبیب رفیق کنسٹرکشن اپنی مرضی پر اتر آیا اور شیطان کی آنٹ کیطرح کالونی کی حدود میں اضافہ کرتا گیا۔ توسیع کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔ ابتدائی نقشہ کے بعد جب اس کا ریوائز نقشہ مارکیٹ میں لایا گیا تو ایک ریڈ لائن کے ذریعہ جی اور ایچ بلاک کو علیحدہ کر دیا گیا۔ الاٹیز کو اس ٹیکنیکل تبدیلی کے بارے میں بھی پتہ نہ لگنے دیا گیا کہ کالونی کے یہ دونوں بلاک ریڈ لائن کے ذریعے علیحدہ کیوں کئے گئے ہیں۔ اس کا انکشاف رائل آرچرڈ ہاؤسنگ سکیم کی ویب سائٹ سے ہوا۔ جہاں پر بلاک اے، بی، سی، ڈی، ای، ایف کو رائل آڑچرڈ ہاؤسنگ سکیم ون اور جی اور ایچ کو رائل آرچرڈ ہاؤسنگ سکیم فیز ٹو ظاہر کیا گیا ہے۔ یہ دونوں بلاکس متی تل روڈ پر ویمن یونیورسٹی کے سامنے موجود ہیں۔ ان دونوں بلاکس کا مرکزی گیٹ بھی زیر تعمیر ہے۔ حبیب رفیق کنسٹرکشن گروپ کی اس بے ضابطگی کے بارے میں ملتان ڈویلپمنٹ اتھارٹی تاحال خاموش ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایم ڈی اے الطاف حسین ساریو ایک طرف تو شعبہ ٹاؤن پلاننگ کی کارکردگی کے بارے میں بلند بانگ دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔ لیکن اسی ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل کو رائل آچرڈ ہاؤسنگ سکیم میں نہ تو چائنہ کٹنگ نظر آرہی ہے اور نہ ہی رائل آرچرڈ ہاؤسنگ سکیم کی غیرقانونی توسیع کا عمل نظر آرہا ہے۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل اور شعبہ ٹاؤن پلاننگ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر محسن رضا کی خاموشی کئی سوالات کو جنم دے رہی ہے۔