ایران نے شہریوں کیلئے احتجاج کی اجازت مانگی جو ناقابل قبول ہے:سعودی عرب

ایران نے شہریوں کیلئے احتجاج کی اجازت مانگی جو ناقابل قبول ہے:سعودی عرب
ایران نے شہریوں کیلئے احتجاج کی اجازت مانگی جو ناقابل قبول ہے:سعودی عرب

  

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران نے حج کے دوران اپنے شہریوں کیلئے ایک ایسا مطالبہ کیا جو سعودی حکام نے سختی سے مسترد کردیا ۔سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیرنے حج کو سیاست زدہ کرنے کا الزام لگاتے ہوئے ایران پر سخت تنقید کی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق برطانوی ہم منصب فلپ ہیمنڈ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سعودی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایرانی حکام نے مطالبہ کیا تھا کہ اس کے شہریوں کو گزشتہ برس ہونے والے حادثہ جس میں کئی افراد جاں بحق ہوئے تھے پر احتجاج کرنے کی اجازت دی جائے عادل الجبیر نے کہا کہ اس مطالبے کی کسی صورت میں بھی اجازت نہیں دی جا سکتی۔انہوں نے کہا ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات اور ہوائی رابطہ نہ ہونے کے باوجود سعودی عرب نے ایران سے آنے والے حجاج کو سفری سہولیات کی فراہمی کے انتظامات کرنے پر اتفاق کیا لیکن ایرا ن کی جانب سے ابتدا سے ہی اپنے شہریوں کو حج سے محروم رکھنے کیلئے حیلے بہانوں سے کام لیا جاتا رہا ہے اور اب ایرانی اللہ کو جوابدہ ہیں۔

الجبیر نے عراق میں بدامنی کا الزام بھی ایران پر عائد کیا۔انہوں نے کہا کہ عراق میں ہونے والی تقسیم اور کشیدگی کی بڑی وجہ ایران کی جانب سے عراق میں کئی ملیشاو¿ں کو سپورٹ کرنا ہے۔اگر ایران عراق میں امن چاہتا ہے تو وہ فوری طور پر ملیشا و¿ں کو سپورٹ کرنا بند کرے اور وہاں سے نکل جائے۔

سعودی وزیرخارجہ نے ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ”آپ عراقیوں کے خلاف قاسم سلمانی (ایرانی جنرل)کی سربراہی میں مہم چلا کر عراق میں امن نہیں لا سکتے۔عادل الجبیر نے کہا کہ عراق میں ایران کی کسی بھی قسم کی موجودگی ناقابل قبول ہے۔عادل الجبیر نے مزید کہا کہ ایران کو اپنے ہمسائیوں کی خودمختاری اورعالمی برادری کے تحفظات کا خیال رکھتے ہوئے ہمسائیہ ممالک کے معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔

عرب نیوز کے مطابق ایران کا کہنا ہے کہ اس نے دوممالک میں وہاں کی حکومتوں کی درخواست پر اپنے فوجی اہلکار روانہ کئے ہیں۔

مزید : عرب دنیا