عراقی فوج داعش کے ’دارالخلافہ ‘میں داخل ،حتمی کارروائی کا آغاز ہو گیا

عراقی فوج داعش کے ’دارالخلافہ ‘میں داخل ،حتمی کارروائی کا آغاز ہو گیا
عراقی فوج داعش کے ’دارالخلافہ ‘میں داخل ،حتمی کارروائی کا آغاز ہو گیا

  

بغداد(مانیٹرنگ ڈیسک)عراقی فورسز اور داعش کے درمیان جنگ حتمی مرحلہ میں پہنچ گئی ہے۔عراق کی فوج کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہاگیا ہے کہ داعش کے خلاف فیصلہ کن معرکہ لڑنے کیلئے داعش کی خودساختہ ریاست کے نام نہاد’ دارالخلافہ ‘فلوجہ میں داخل ہو گئی ہیں۔

عراقی فوج کے مطابق فلوجہ شہر سے قبضہ چھڑانے کیلئے حتمی کارروائی کا آغاز کردیا گیاہے۔اور فوج اور انسداد دہشتگردی کے دستے شہر کے مختلف حصوں سے اندر داخل ہو رہے ہیں۔

بی بی سی کے مطابق فوج کا ہدف شہر سے باہر نصب داعش کی دفاعی تنصیبات ہیں۔ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ لڑائی میں کچھ لمحہ توقف کر کے پھنسے ہوئے شہریوں کو نکلنے کا موقع فراہم کیا جائے۔شہر میں اس وقت 50ہزار سے زائد افراد پھنسے ہوئے ہیں ۔اقوام متحدہ کے مطابق شہریوں کو خوراک اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے جس کی وجہ سے لوگ بھوک سے مررہے ہیں۔

دوسری جانب شدت پسند تنظیم ہریوں کو داعش کیلئے نہ لڑنے پر قتل کررہی ہے ۔اس جنگ میں وہ کار اورخودکش بم حملوں کی حکمت عملیپر زیادہ انحصار کرے گی۔واضح رہے کہ داعش نے عراق کے اس بڑے شہر پر 2014میں قبضہ کیا تھا جسے اب چھڑانے کیلئے عراقی فوج نے حتمی کاروائی کا آغاز کردیا۔

دریں اثنا بغداد میں ہونے والے ایک کار بم دھماکہ میں 11افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

مزید : بین الاقوامی /اہم خبریں