انٹرنیٹ پر وہ جگہ جہاں آپ خواتین ’غلام ‘ خرید سکتے ہیں، کون بیچ رہا ہے؟ انتہائی حیران کن انکشاف

انٹرنیٹ پر وہ جگہ جہاں آپ خواتین ’غلام ‘ خرید سکتے ہیں، کون بیچ رہا ہے؟ ...
انٹرنیٹ پر وہ جگہ جہاں آپ خواتین ’غلام ‘ خرید سکتے ہیں، کون بیچ رہا ہے؟ انتہائی حیران کن انکشاف

  

واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے اغوا کی گئی ہزاروں شامی اور عراقی خواتین کو بطور جنسی غلام استعمال کیے جانے کی خبریں تو ایک عرصے سے سامنے آرہی تھیں لیکن پہلی دفعہ یہ انکشاف بھی سامنے آ گیا ہے کہ ان خواتین اور لڑکیوں کو شدت پسند فیس بک پرفروخت بھی کر رہے ہیں۔

اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق 20 مئی کو فیس بک پر سامنے آنے والی دو لڑکیوں کی تصاویر نے خواتین اور لڑکیوں کی آن لائن خریدوفروخت سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ اخبار کے مطابق فیس بک پر ابواسد المانی نامی شدت پسند نے ایک لڑکی کی تصویرپوسٹ کی، جس کی عمر تقریباً 18 سال نظر آتی ہے۔ اس شخص نے تصویر کے ساتھے لکھا، ” ان تمام بھائیوں کیلئے جو لونڈی خریدنے کے بارے میں سوچ رہے ہیں ، اس کی قیمت آٹھ ہزار ڈالر ہے۔ “ چند گھنٹے بعد اسی فیس بک اکاﺅنٹ پر ایک اور لڑکی کی تصویر پوسٹ کی گئی جس کے بارے میں بتایا گیا، ” ایک اور لونڈی ، اس کی قیمت بھی آٹھ ہزار ڈالر ہے۔ ’ہاں‘ یا ’ناں‘ میں جواب دیں۔ “

مزیدپڑھیں:نوجوان ایسا شرمناک کام کرتا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا کہ لوگوں نے سڑک پر ہی لٹا کر کوڑے برسادئیے

فیس بک پر ان لڑکیوں کی تصاویر ہی پوسٹ نہیں کی گئیں، بلکہ ان پر شرمناک تبصرے اور ان کی خوبیوں اور خامیوں پر افسوسناک بحث بھی کی گئی۔ تصاویر پوسٹ کرنے والے فیس بک اکاﺅنٹ پر کئی لوگوں نے ان لڑکیوں میں دلچسپی ظاہر کی اور اکثر نے ان کی قیمت کو زیادہ قرار دیتے ہوئے ان کا مذاق بھی اڑایا۔ ایک شخص نے لکھا ’ ’ اس کی اتنی قیمت ؟ اس کے پاس کوئی خاص مہارت ہے ؟ “اس کے جواب میں ابواسد المانی نے لکھا ”نہیں کوئی خاص بات نہیں، بس طلب اور رسد نے اس کی قیمت اتنی بڑھا دی ہے۔ “

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عراق اور شام میں داعش کی کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن کی وجہ سے اس کے شدت پسند مالی مشکلات کا شکار ہیں اور غلام بنائی گئی خواتین اور لڑکیوں کو فروخت کر رہے ہیں۔ ان کی بڑی تعداد شمالی عراق سے اغوا کی گئی یزیدی لڑکیوں پر مشتمل ہے، جنہیں تقریباً دو سال سے جنسی غلاموں کے طورپر استعمال کیا جارہا ہے۔انہیں جانوروں کی طرح خریدا اور بیچا بھی جاتا رہا ہے ، البتہ فیس بک جیسی سوشل میڈیا ویب سائٹ کے ذریعے ان کی تجارت کا معاملہ پہلی دفعہ دیکھنے میں آیا ہے ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس