اگر آپ کو بھی بہت زیادہ پیشاب آتا ہے تو یہ خبر آپ کیلئے ہے، بالآخر سائنسدانوں نے وجہ ڈھونڈ نکالی

اگر آپ کو بھی بہت زیادہ پیشاب آتا ہے تو یہ خبر آپ کیلئے ہے، بالآخر سائنسدانوں ...
اگر آپ کو بھی بہت زیادہ پیشاب آتا ہے تو یہ خبر آپ کیلئے ہے، بالآخر سائنسدانوں نے وجہ ڈھونڈ نکالی

  

لندن (نیوز ڈیسک)بار بار پیشاب کی تکلیف میں مبتلاءافراد کے لئے خوشخبری ہے کہ سائنسدانوں نے حیرت انگیز کامیابی حاصل کرتے ہوئے وہ مخصوص جین دریافت کر لیا ہے جو مثانے کی کمزوری کا سبب بنتا ہے ۔ میل آن لائن کی رپور ٹ کے مطابق سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس جین کی دریاف کے بعد دنیا بھر میں مثانے کی کمزوری کے مرض میں مبتلا کروڑوں افراد کو اس بیماری سے نجات ملنے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں کل خواتین میں سے تقریباً25 فیصد عمر کے کسی حصے میں مثانے کی کمزور ی کے مرض کا سامنا کرتی ہیں، جس کی وجہ سے انہیں روزمرہ زندگی کے معاملات جاری رکھنے میں شدید مشکلات پیش آتی ہیں۔ عموماً یہ صورتحال بچے کی پیدائش کے بعد یا مینوپاز (سن یاس) کے بعد دیکھنے میں آتی ہے ، البتہ کچھ خواتین کو کم عمری میں بھی اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ اسی طرح مردوں کی بھی بہت بڑی تعداد اس بیماری میں مبتلاءہے۔

’اگر آپ کا بلڈ گروپ یہ ہے تو دوسروں کی نسبت آپ کو دل کا دورہ پڑنے کا خطرہ زیادہ ہے‘ تاریخ ساز تحقیق میں سائنسدانوں نے انتہائی پریشان کن انکشاف کردیا

ماہرین کے مطابق خواتین میں تقریباًنصف کیسز میں یہ بیماری وراثتی طور پر ماں سے بیٹی میں منتقل ہوتی ہے۔ اکثر اوقات زور سے ہنسنے ، چھینکنے ، کھانسی آنے یا کسی بھی ایسی صورت میں کہ جب مثانے پر دباﺅ پڑتا ہے پیشاب کے اخراج کا مسئلہ پیش آجاتا ہے ، جسے ’سٹریس ان کانٹیننس‘ کہا جا تا ہے ۔

ایمپیئرل کالج لندن کے سائنسدان ڈاکٹر روفس کارڈ رائٹ کا کہنا تھا کہ مخصوص جین کی دریافت کے بعد اس مسئلے کا حل آسان ہو گیا ہے کیونکہ پہلے ہی کچھ ایسی ادویات دستیاب ہیں جن کے ذریعے متعلقہ جین کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا علاج کیا جا سکتا ہے ۔ اس تحقیق کے دوران فن لینڈ اور برطانیہ کی 9 ہزار خواتین میں مثانے کی کمزوری کے مسئلے کا مطالعہ کیا گیا تھا۔ ماہرین پر امید ہیں کہ اس بیماری کی جینیاتی وجہ معلوم ہونے کے بعد اس کا علاج بہت آسان ہو گیا ہے ۔

مزید :

تعلیم و صحت -