صارفین کا ہوٹل کچن معائنہ اچھا اقدا م ہے

صارفین کا ہوٹل کچن معائنہ اچھا اقدا م ہے
 صارفین کا ہوٹل کچن معائنہ اچھا اقدا م ہے

  

ڈائرکٹر جنرل پنجاب فوڈ اتھارٹی محتر م نورالا مین مینگل نے تمام چھوٹے بڑے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس کو ہدایت کی ہے کہ وہ اوپن کچن پالیسی کے تحت صارف کی خواہش پر ہوٹل کے کچن کا معائنہ کرائیں تاکہ بھاری رقوم دے کر کھانا کھانے والے افراد کو معلوم ہو سکے کہ وہ جس ہوٹل یا ریسٹورنٹ میں کھانا کھا رہا ہے ، اس کے کچن میں صفائی اور پکوائی کے کیا انتظامات ہیں؟یہ بہت اچھا فیصلہ ہے ، اسے سراہا جانا چاہیے ۔محترم نورالا مین مینگل لا ہور میں تین سال بطور ڈی سی او کام کرچکے ہیں ، اس کے بعد وہ فیصل آباد میں بطور ڈی سی او خدمات انجام دینے کے بعد واپس لا ہور بڑے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے ڈائرکٹر جنرل فوڈ تعینات ہوئے ہیں ،ان کے وسیع تر انتظامی تجربے کی بنا پر توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ محکمہ فوڈ کو صرف ڈرامائی چھاپوں کی بجا ئے خوراک میں ملا وٹ کے مکمل خاتمے کی کوشش میں کامیاب ہوجائیں گے، اس سے بیشتر ایک دبنگ خاتون عائشہ ممتاز نے ہوٹلوں ،شادی ہالوں ، بیکریوں ، گوشت کی دکانوں میں چھاپے مار نے کاڈرامائی انداز اختیار کر رکھا تھا جو پنجاب حکومت کے لئے بھی پریشان کن تھا اور صوبائی وزیرخوراک بھی عوامی تنقید کا نشانہ بنتے رہے ۔ انہوں نے انتہائی مزاحیہ انداز اختیار کر رکھا تھا ۔ہوٹلوں کے دیگچوں کے ڈھکن اٹھا اٹھا کر سالن چیک کرنا ۔ہر جگہ کچن میں صفائی نہ ہونا ، کاکروج برآمد ہونا ،مٹھائی کے کارخانوں میں مکھیوں کا برآمد ہونا ۔یہ صرف سطحی چیکنگ تھی ۔اس ساری کارروائی کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر چلوانا ، سوائے لوگوں کی عزت نفس مجروح کرنے کے کوئی خاطر خواہ نتیجہ نہ نکل سکا ۔ ایک موقع پر ہمارا میڈیا بھی ان کے ان اقدامات کو سراہتا رہا، مگر جب حکومت کو بدنام کرنے کی سازش کا اندازہ ہوا تو میڈیا نے ہاتھ ہلکا کر دیا، با لآ خر ہائیکورٹ کی طرف سے مداخلت کر کے چھاپوں کی ویڈیو کو سوشل میڈیا پر چلانے کی پابندی لگائی گئی جس کے بعد ہوٹلوں ، بیکریوں ، مٹھائی کی دکانوں کے مالکان نے سکھ کا سانس لیا ۔

محتر م نورالامین مینگل جیسے تجربہ کار منتظم بخوبی جانتے ہیں کہ خوراک میں ملا وٹ کو کس طرح ختم کیا جا سکتا ہے ۔ان کے ذہن میں کئی منصوبے ہیں ۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ چند دکانوں پر چھاپوں سے معاشرہ ٹھیک نہیں کیا جاسکتا، جب تک اس کی اصل منصوبہ بندی نہ کی جائے۔ جس طرح شہر میں چند گداگروں کو بھیک دے کر غربت کا خاتمہ ممکن نہیں ، اسی طرح کھانے پینے کی چیزوں کی چند دکانیں بند کرکے ، انہیں جرمانے کرکے یا روزمرہ چالان کرکے انہیں ٹھیک نہیں کیا جا سکتا ۔آئے دن یہ خبریں اخبا رات میں نظر آتی ہیں کہ فلا ں جگہ سوڈا واٹر فیکٹریوں کو معروف برانڈ کی جعلی بوتلیں تیار کرنے پر سیل کر دیا گیا ۔ ایک اور فیکٹری سے آ ٹھ ہزار بوتلیں برآمد کر لی گئیں ۔معروف جوسز کے 26 ہزار پیکٹ برآمد کرلئے گئے ۔مجموعی طورپر نا قص اور جعلی بوتلیں تیار کر نے والی تین فیکٹریاں سیل کی گئیں اور 56 ہزار جعلی بوتلیں اور جوس کے ڈبے برآمد کئے گئے ۔

اس طرح بڑا دکھ ہوتا ہے ، جب یہ خبریں پڑھنے یا الیکٹرانک میڈیا پر دیکھنے کو ملتی ہیں کہ فلا ں جگہ سے دس ہزار لٹر کھلا دودھ چیک کرنے کے بعد ضائع کر دیا گیا ہے ۔ یہ دودھ جعلی تھا ، پانی ملا ہوا تھا یا کیمیکل سے تیا ر کیا گیا تھا جو یقیناًصحت کے لئے نقصان دہ ہوگا،مگر سوال یہ بنتا ہے کہ کیا حکومت نے دودھ کی کوئی سٹینڈائزیشن کی ہے ، کوئی صوبے بھر میں ایک معیا ربنا کر دکانداروں کو کہا گیا ہے کہ اس معیا ر سے کم دودھ کو فروخت نہیں کرنے دیا جائے گا ۔ کیا پرچون فروشوں کو دودھ کے معیار پر کوئی پیمانہ دیاگیا ہے ۔ اس وقت جو صورت حال ہے ، وہ اس طرح ہے کہ لا ہور شہر سے با ہر سے آنے والے ددوھ کے بڑے بڑے ٹینکروں کو چیکنگ پارٹیاں اپنے مقرر کردہ معیا ر پر چیک کر تی ہیں اور معیا ر پر پورانہ اترنے والے دودھ کو وہیں ضائع کر دیا جاتا ہے ۔پرچون فروشوں نے تو وہی دودھ بیچنا ہے جو انہیں ہول سیل ریٹ پر بیرون لاہور سے ملنا ہے ۔

محترم نورالا مین مینگل صاحب سے گزارش ہے کہ ہوٹلوں ، بیکریوں اور تمام کھانے پینے والی دکانوں کے ملا زمین کے میڈیکل ٹسٹ کرائیں، اگر کوئی ملا زم ہیپاٹائٹس کا مریض ہو تو اسے اس کام سے ہٹا کر کوئی اور ڈیوٹی دے د ی جائے، تاکہ وہ بے روزگاری کا شکارنہ ہوجائے ۔ کھانے پینے کی ہول سیل مارکیٹوں میں صفائی کا کوئی معیا ر قائم کریں ۔مثا ل کے طور پر اکبری منڈی پنجاب کی سب سے بڑی منڈی ہے، ہر قسم کی اشیائے خوردنی یہیں سے جاتی ہیں ۔ اس منڈی کے معیا ر سے دکانداروں کو آگاہی دیں، تاکہ کوئی غلط چیز یہاں سے نکل کر جاہی نہ سکے ۔جب تک نظام ٹھیک نہیں ہوگا، اس وقت تک خرابیوں پر قابو نہیں پایا جا سکے گا ۔ مینگل صاحب کو کئی بیرونی ممالک میں جانے کا اتفاق ہوا ہوگا ۔چین ، سعودی عرب، یورپ ، امریکہ ،کہیں اشیائے خوردنی میں ملا وٹ نہیں ملے گی ۔ تمام چھوٹے بڑے سٹور تمام اشیا ء کی قیمتیں یکساں ہوں گی ۔وہا ں کسی ملک میں کوالٹی چیک کر نے والی کوئی اتھارٹی نہیں ہوگی ، کوئی ملا وٹ چیک کرنے والی اتھارٹی نہیں ہوگی ۔گوشت ، بیف چکن اور سبزیوں کی ہماری طرح کھلی دکانیں نہیں ملیں گی ، حفظانِ صحت وہا ں کی پہلی ترجیح ہے، باقی سب کچھ بعد میں ہے ۔ہمارے ہاں تو میڈیسن بھی ملا وٹ سے محفوظ نہیں ہیں ۔باہر کے ممالک میں ادویا ت کی ملا وٹ کرنے پر سزائے موت ہے۔ادویا ت ڈاکٹر کے نسخہ کے بغیر مل ہی نہیں سکتیں، اس لئے ملا وٹ کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا ۔ہماے ہا ں جعلی ادویا ت اصل ادویا ت سے زیادہ بنتی ہیں، جہاں جان بچانے والی ادویات خالص نہ ہوں ، وہا ں اشیائے خوردنی میں ملاوٹ تو معمولی با ت ہے ۔

مزید :

کالم -