یکساں نظام تعلیم

یکساں نظام تعلیم

  

مکرمی !ہمارے ملک میں ا س وقت تین قسم کے تعلیمی نظام رائج ہیں۔ ایک نظام تعلیم تو وہ ہے جس میں امرا کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور دوسرا سرکاری تعلیمی ادارے جن میں غریب کے بچے تعلیم حاصل کرتے ہیں اور تیسر ا دینی مدارس ہیں ۔

امراء کے بچوں کو توہر قسم کی جدید سہولیات میسر ہوتی ہیں جبکہ سرکاری سکولوں میں تو بنیادی تعلیمی سہولیات بھی میسر نہیں ہوتیں اور دینی مدارس میں صرف مذہبی تعلیم دی جاتی ہے۔ اس تعلیمی نظام کی وجہ سے ہمارے ملک میں تین قسم کے نوجوان پروان چڑھتے ہیں امراء کے بچے تو اعلی تعلیم اور سفارش کی وجہ سے اعلی عہدوں پر فائز ہو جاتے ہیں جبکہ غریب کے بچے نہ تو اعلی تعلیم حاصل کر پاتے ہیں اور نہ ہی انہیں ملازمتیں ملتی ہیں جبکہ دینی مدرسوں کے فارغ التحصیل نوجوان جدید تعلیم سے ناواقف ہونے کی وجہ سے ملک کی ترقی میں کوئی کردار ادا نہیں کرپاتے۔

ان حالا ت کے پیش نظر میں آ پ کے موقّر جریدے کے توسط سے متعلقہ حکام کی توجہ اس جانب مبذول کروانا چاہتا ہوں کہ وہ ملک میں یکساں تعلیمی نظام رائج کرنے پر خصوصی توجہ دیں تاکہ نوجوان نسل کو یکساں تعلیمی اور روزگار کے مواقع میسر ہوں اور انہیں نفسیاتی مسائل کا شکار ہونے سے بچایا جا سکے۔ (نبیل احمد،لاہور)

مزید :

اداریہ -