خطے میں بالادستی کی بھارتی خواہش

خطے میں بالادستی کی بھارتی خواہش

  

خارجہ امور کے متعلق وزیر اعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ بھارت پاکستان پر بالادستی کی خواہش میں نیو کلیئر جنگ کے سوا ہر سطح پر جارحانہ کارروائی کرنا چاہتا ہے ، اس کی یہ خواہش ہے کہ خطے میں بعض دوسرے ملکوں کی طرح وہ پاکستان پر بھی بالا دست ہو اور پاکستان کشمیر کے معاملے پر کوئی بات نہ کرے اور مذاکرات اگر ہوں تو کشمیر کی بجائے صرف دہشت گردی کے خاتمے پر ہوں جبکہ پاکستان کو یہ شرط کسی بھی صورت قبول نہیں۔ دوسری جانب بھارتی آرمی چیف پین راوت نے پاکستان کے ساتھ محدود جنگ کے امکان کو مسترد کردیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر مقبوضہ کشمیر کے عوام پتھراؤ کی بجائے فائرنگ کرتے تو ان کو جواب دینا آسان ہوتا بھارتی فوج ان کے خلاف کھل کر کارروائی کرسکتی ، انہوں نے کشمیری نوجوان کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کرنے والے افسر کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ جب وادی کے لوگ ہم پر پتھراؤ اور پٹرول بم پھینک رہے ہوں تو وہ ایسے میں اپنے جوانوں کو یہ نہیں کہہ سکتے کہ ’’انتظار کرو اور مرجاؤ‘‘ کشمیر کے لئے ایک جامع حل کی ضرورت ہے اور اس کے لئے سب کو شریک ہونا پڑے گا بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کہا کہ کشمیر میں بار بار بدامنی کی اجازت نہیں دے سکتے یہ مسئلہ جلد حل ہو جائیگا حل میں کشمیر ، کشمیری اور کشمیریت کاخیال رکھا جائیگا۔ مسئلے کے حل کا کوئی ٹائم فریم نہیں دے سکتے ۔ تمام سٹیک ہولڈروں سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں لیکن مذاکرات بلا شرائط ہوں گے، راج ناتھ سنگھ نے الزام لگایا کہ پاکستان کشمیر میں عدم استحکام پیدا کرکے بھارت کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے۔

بھارت کی خطے کے ملکوں پر بالادستی کی خواہش بڑی پرانی ہے، اس خواہش کو پورا کرنے میں اسے اس حد تک تو کامیابی ضرور ہوئی ہے کہ پاکستان کے سوا تمام ملکوں میں اس کا اثر ورسوخ نظر آتا ہے اور وہ ان ملکوں کو دباؤ اور دھمکیوں سے زیردست رکھنا چاہتا ہے، اتفاق سے یہ تمام ملک سارک کے بھی رکن ہیں اس لحاظ سے علاقائی تعاون کی یہ تنظیم بھی کوئی زیادہ موثر کردار ادا نہیں کرپا رہی اور بھارتی رویئے کی وجہ سے گزشتہ برس اسلام آباد میں اس کا سربراہی اجلاس بھی نہیں ہوسکا ویسے تو چارٹر کے مطابق کوئی ایک ملک بھی اگر غیر حاضر ہوتواجلاس نہیں ہوسکتا لیکن بھارت نے بعض دوسرے ملکوں کو بھی ساتھ ملالیا تھا اس لحاظ سے بھارت کو پاکستان کا نٹے کی طرح کھٹکتا ہے جو اس کے بالادستی کے ا رادوں کی راہ میں بری طرح حائل ہے۔

1998ء میں جب بھارت نے یکے بعد دیگرے پانچ ایٹمی دھماکے کرلئے تھے تو اس زمانے کے بھارتی رہنما آپے سے باہر ہو کر پاکستان کو دھمکیوں پر اتر آئے تھے۔ پاکستان میں اگرچہ رائے عامہ کی اکثریت جوابی دھماکے چاہتی تھی لیکن بعض محتاط حلقوں کا خیال تھا کہ اس کے مضمرات دھیان میں رکھ کر ہی کوئی فیصلہ کرنا چاہیئے۔ خود اس زمانے کی کابینہ کے وزرأ کی رائے بھی منقسم تھی تاہم وزیر اعظم نواز شریف تمام تر عالمی دباؤ اور ترغیب و تحریص کے حربوں کے باوجود جوابی دھماکے کرنے کے حق میں تھے اور انہوں نے ایٹمی سائنس دانوں کو اس کی تیاریاں کرنے کی ہدایت بھی کردی تھی تاہم انہوں نے اس سے قبل مشاورت کا وسیع تر سلسلہ بھی شروع کررکھا تھا اور مشاورت کا یہ عمل مکمل ہونے کے بعد انہوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان بھی چند دن میں دھماکے کردے گا، چنانچہ ایسا ہی ہو، اس زمانے میں بھارت نے پہلے تین ایٹمی دھماکے 11مئی کو کئے تھے اس کے بعد 13مئی کو مزید دو دھماکے کردئے، اس تمام عرصے میں بھارتی رہنماؤں کی زبان پر جارحانہ الفاظ تھے اور دھمکیوں کا رویہ اپنا رکھا تھا۔ بھارت کا غالباً خیال یہ تھا کہ پاکستان کے پاس ایٹمی دھماکوں کی صلاحیت ہے تو بھی وہ دھماکے نہیں کرے گا اور بھارت یونہی بھڑکیں لگاتا رہے گا کیونکہ عالمی دباؤ کی وجہ سے اس کے لئے ایسا کرنا ممکن نہیں لیکن جب وزیر اعظم نے 28مئی کو دھماکے کردئے تو بھارتی رہنماؤں کے چہرے لٹک گئے اور دھمکیوں کی زبان بند ہوگئی۔

پاکستان کے اس فیصلے کے بعد سے بھارت کو اپنی بالادستی کا خواب منتشر ہوتا ہوا محسوس ہوا اور کئی مواقع پر یہ ثابت ہوگیا کہ اگر پاکستان کے پاس ایٹمی صلاحیت نہ ہوتی اور اس نے اپنے دفاع کو میزائل سسٹم سے ناقابلِ تسخیر نہ بنایا ہوتا تو یہ جارح بھارت کو اپنے عزائم کی تکمیل کا موقع مہیا کرنے کے مترادف ہوتا، کارگل بحران کے زمانے میں یہ جنگ صرف ایک جنگی تھیٹر تک محدود رہی ورنہ یہ پھیل کر عالمی سرحدوں کو بھی لپیٹ میں لے سکتی تھی جس طرح بھارتی وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے 1965ء کی جنگ سے چند روز قبل کہا تھا کہ بھارت اپنی پسند کا محاذ کھولے گا اس کے بعد اس نے ستمبر 65ء کو پاکستان پر تین محاذوں سے حملہ کردیا لیکن 99ء میں اسے جنگ کو پھیلانے کا حوصلہ نہ ہوسکا، ایٹمی ڈیٹرنس کی وجہ سے وہ اپنے آپ کو کارگل کے محاذ تک محدود رکھنے پر مجبور ہوگیا۔

اس وقت کشمیر میں حریت پسندوں نے آزادی کی جو جنگ شروع کررکھی ہے بھارت تمام تر حربے استعمال کرنے کے باوجود کشمیر میں تحریک آزادی کو نہیں روک سکا،کئی روز سے کشمیر میں ایک بار پھر آگ اور خون کا کھیل کھیلا جارہا ہے برہان وانی کے ساتھی سبزار بھٹ کو شہید کردیا گیا ہے اور وادی کے مختلف حصوں میں شہدا کی تعداد 13تک پہنچ گئی ہے، کرفیو کی پابندیوں کے باوجود شہدا کے جنازوں میں لوگ جوق درجوق شریک ہوئے ہیں اور شہید اجسام کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر سپردخاک کیا جارہا ہے، بھارتی رہنما اور سیکورٹی فورسز تلملاہٹ کا شکار ہیں اور پاکستان پر عدم استحکام کا الزام لگایا جارہا ہے لیکن کشمیری نوجوانوں کو کنٹرول کرنا اب ان کے بس میں نظر نہیں آتا ان حالات میں نہ جانے کس طرح بھارتی وزیر داخلہ کشمیر کے من پسند حل کی بات کرتے ہیں جو ان کے خیال میں بہت قریب ہے، معلوم نہیں ان کے ذہن میں حل کا کیا نقشہ ہے لیکن ایسے لگتا ہے کہ حالات کے جبرنے انہیں ایسی بات کرنے پر مجبور کردیا ہے، سرتاج عزیز کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ بھارت کشمیر پر نہیں صرف دہشت گردی پر مذاکرات کرنا چاہتا ہے ایسے میں وہ کشمیرکا کس قسم کا حل تلاش کررہے ہیں جس سے ریاست میں امن قائم ہو جائے اس سے پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ۔

مزید :

اداریہ -