کچھ دلچسپ واقعات (1)

کچھ دلچسپ واقعات (1)
 کچھ دلچسپ واقعات (1)

  

میں تقریباً 34 سال پی ٹی وی کے شعبہ نیوز کے ساتھ منسلک رہا اِس دوران سیاست اور معاشرے کے علاوہ میرے اپنے کریئر میں کافی اُتار چڑھاؤ آئے۔ بہت کچھ سیکھا، خوشگوار یادیں بھی سمیٹیں اور کچھ تلخیاں بھی۔ یہ تو زندگی کا حصہ ہے زندگی دو اور دوچار کی طرح ریاضی کا سوال نہیں زندگی بڑی پیچیدہ اور مشکل ہے ۔ ریٹائرمنٹ کے بعد زندگی کا ایک نیا دور شروع ہوا ۔ اس دور میں بھی سیکھنے کا عمل جاری ہے بلکہ اب شاید کینوس وسیع ہو گیا ہے ، ملازمت کے دوران انسانی سوچ کا دائرہ کافی محدود ہو جاتا ہے دفتری حالات اسے بہت زیادہ متاثر کرتے ہیں لیکن ریٹائرمنٹ کے بعد انسان ملازمت کی گھٹن اور کرسی کے نشے سے آزاد ہوتا ہے لہٰذامسائل کو صحیح تناظرمیں دیکھ سکتا ہے۔ میں نے پیشہ ورانہ زندگی کے بارے میں ایک کتاب ’’پی ٹی وی میں مہ و سال‘‘ کے نام سے لکھ دی ہے ۔مقصد ایک مکالمے کا آغاز کرنا تھا ۔ مکالمے کے نتیجے میں ریٹائر ہونے والے دوستوں کا ذہن بھی صاف ہو گا کہ انہوں نے اپنے دور میں کیا کیا اور کیا نہ کیا یا کیا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ چاہیں تو شعبۂ نیوز کی موجودہ قیادت اور آنے والے لوگ بھی اس سے کچھ فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔ اِن 34 سالوں میں بہت سے دلچسپ واقعات ہوئے۔ اُن میں سے کچھ کا آج ذکر کرتے ہیں۔ (زیادہ تر واقعات کتاب سے لئے گئے ہیں اور کتاب فون نمبر 0342-5548690 پر کال کرکے یا SMS کرکے حاصل کی جا سکتی ہے۔)

ہمارے ماضی قریب میں خبروں کے حوالے سے چار بڑے اہم واقعات ہوئے ہیں۔ ایک 1988ء میں اوجھڑی کیمپ کا واقعہ دوسرا 2005ء میں آزادکشمیر کا زلزلہ تیسرا 1988 ہی میں جنرل ضیاء الحق کے طیارے کا کریش اور چوتھا 1999ء میں جنرل پرویز مشرف کا مارشل لاء ۔اوجھڑی کیمپ کا واقعہ اپریل 1988ء میں ہوا۔ راولپنڈی ، اسلام آباد میں یہ قیامت صغریٰ تھی۔ میزائل بارش کی طرح برس رہے تھے۔ میں ان دنوں کوالالمپور میں ایک کورس میں شرکت کر رہا تھا بعد میں میری بیوی اور بچی پر کیا گزری، یہ ایک الگ کہانی ہے۔پی ٹی وی کیلئے اِس کی کوریج ہمارے مرحوم ڈائریکٹر نیوز مصلح الدین نے بڑی جرأت سے کی۔ آزادکشمیر کا زلزلہ آیا تو پی ٹی وی میں موجود بڑے بڑے رپورٹروں (نام لکھنا بہت بھاری گزرے گا) میں سے کوئی بھی مظفرآباد تک نہ گیا۔ البتہ لاہور سنٹر سے ایک خاتون رپورٹر شمائلہ جعفری نے والنٹیر کیا کہ اُسے رپورٹنگ کیلئے بھیجا جائے ۔جب رپورٹوں میں اُس کا نام ٹیلی کاسٹ ہونے لگا تو اُلٹا ہمارے کئی ساتھیوں کو یہ بہت ناگوار گزرا۔ میں نے بعد میں شمائلہ جعفری کو ایک غیرملکی تربیتی کورس کیلئے نامزد کیا لیکن وہ پی ٹی وی چھوڑ کر دنیا ٹی وی میں چلی گئی اور آجکل بی بی سی کی اُردو سروس میں کام کر رہی ہے۔

17 اگست کو جنرل ضیاء الحق کے طیارے کا کریش ہوا تو اس کی خبر نیوز روم میں تقریباً ایک گھنٹہ پہلے بریک کرنے کا مجھے موقع ملا۔ ہوا یوں کہ اُس دن سہ پہر کو میں نیوز روم میں خبرنامہ ڈیسک پر بیٹھا تھا کہ ایس پی خوشاب اعجاز ملک مرحوم جو میرے قریبی دوست تھے کا فون آیا۔(وہ ایف آئی اے میں ڈائریکٹر رہے اور دوران سروس ان کا انتقال ہو گیا۔) انہوں نے پوچھا کہ صدر صاحب آج کہاں گئے تھے پتہ چلا کہ وہ بہاولپور گئے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں بھی گئے ہوئے تھے اُن کا طیارہ کریش ہو گیا ہے اور غالباً وہ زندہ نہیں بچے۔ میں پریشان ہو گیا میری گفتگو سن کر اردگرد کے سارے ساتھی پریشان ہو گئے۔ میں نے یہ خبر انگلش ڈیسک پر بیٹھے ہمارے کنٹرولر نیوز حبیب اللہ فاروقی صاحب کو سنائی تو وہ بھی پریشان ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا (Source)سورس کیا ہے۔ خبروں میں سورس کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ میں نے تفصیل بتائی تو وہ سنجیدہ ہو گئے اور اپنے کمرے میں چلے گئے۔ انہوں نے خبر کی تصدیق کرنے کی کافی کوشش کی لیکن کوئی بھی فون پر کھل کر بات کرنے کو تیار نہیں تھا۔ آخرکار ہمارے قائمقام ایم ڈی فضل کمال کا فون آ گیا کہ جنرل ضیاء الحق کا پروفائل تیار کر لیں۔ یوں سرکاری طور پر تقریباً ایک گھنٹے بعد اِس خبر کی تصدیق ہو گئی۔ اس دن خبرنامہ 13,14 منٹ گیا اور کوئی تبصرہ وغیرہ نہیں کیا گیا۔ اے پی پی کے سینئر جرنلسٹ اشرف صاحب اُن دنوں امریکہ میں ایک کورس میں شرکت کر رہے تھے۔ جس وقت صدر ضیاء الحق کے طیارے کے کریش کی خبر امریکہ پہنچی تو ایک انگریز افسر نے اشرف صاحب کو یہ خبر سنائی۔ اشرف صاحب ظاہر ہے ہکا بکا رہ گئے اور کچھ دیر خاموش رہے اُس انگریز افسر نے کچھ وقفے کے بعد معنی خیر تبصرہ کیا کہ اشرف صاحب ضیاء الحق کو منظر سے ہٹانے کا کوئی اور راستہ بھی تو نہیں تھا۔

12 اکتوبر 1999ء کو آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ کر مارشل لاء نافذ کر دیا۔ اِس کی تفصیلات اور قومی زندگی پر اس کے اثرات مرتب ہو چکے ہیں اور یہ تاریخ کا حصہ ہے۔ عام آدمی کی دلچسپی کیلئے میں صرف اس پہلو پر روشنی ڈالوں گا کہ اس دن پی ٹی وی کے اندر کیا ہوا؟ کیونکہ واقعات کا صحیح سورس تو پی ٹی وی ہی تھا اور اب بھی ہے۔ یہ تو سب کو معلوم ہے کہ اسی دن شام کو وزیراعظم نوازشریف نے جنرل پرویز مشرف کوجو اُس وقت سری لنکا سے واپس آ رہے تھے برطرف کرکے جنرل ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف مقرر کر دیا تھا۔ نئے آرمی چیف کے تقرر کی تقریب وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی اور تقریباً چار ساڑھے چار بجے کے قریب اِس کی خبر پی ٹی وی پہنچی۔ خبر فوری طور پر خصوصی بلیٹن کے ذریعے نشر کر دی گئی پھر تھوڑی دیر بعد پانچ بجے کے باقاعدہ بلیٹن میں یہ خبر دوبارہ دی گئی۔ اس کے فوراً بعد دس بارہ سپاہیوں پر مشتمل ایک فوجی دستہ میجر نثار کی قیادت میں نیوز روم پہنچ گیا اور انہوں نے یہ خبر نشر کرنے سے منع کر دیا۔ کچھ دیر بعد یہی خبر اور اس کی فلم لیکر پی ٹی وی کے اُس وقت کے چیئرمین پرویز رشید اُس وقت کے ایم ڈی یوسف بیگ مرزا اور وزیراعظم کے ملٹری سیکرٹری بریگیڈیئر جاوید ملک الیٹ فورس کے ساتھ نیوز روم آ پہنچے۔ بریگیڈیئر جاوید ملک نے میجر نثار اور ان کے دستے کو سرنڈر کرنے کا حکم دیا اور الیٹ فورس نے اُس فوجی دستے کو ایک کمرے میں بند کر دیا۔ 6 بجے کے انگریزی بلیٹن میں شائستہ زید نے سپورٹس کے بعد یہ خبر دوبارہ پڑھی اور نئے آرمی چیف کے تقرر کی تقریب کی فلم بھی چلائی گئی۔

اسی دوران ایک فوجی افسر (غالباً آئی ایس آئی ) سفید کپڑوں میں نیوز روم پہنچ گئے۔ انہوں نے حکم دیا کہ کوئی شخص اپنی جگہ سے نہیں ہلے گا اور فون پر کوئی بات چیت نہیں ہو گی پھر انہوں نے پوچھا کہ ٹرانسمیشن کہاں سے ہوتی ہے کسی نے سٹوڈیو تک اُن کی رہنمائی کی۔ انہوں نے ٹرانسمیشن بند کرنے کا حکم دیا لہٰذا ٹرانسمیشن 7 بجے شام سے تقریباً رات 11 بجے تک بند رہی۔یہ پی ٹی وی کی تاریخ میں ایسا پہلا واقعہ تھا۔ جب ٹرانسمیشن بحال ہوئی تو تقریباً ایک بجے صبح جنرل پرویز مشرف کی تقریر تک صرف ملی نغمے چلتے رہے۔ اس دوران ٹرپل ون بریگیڈ کا ایک دستہ ٹی وی سٹیشن پہنچ گیا۔ گیٹ بند تھے، فوجی گیٹ پھلانگ کر اندر آ گئے (دیوار پھلانگنے کا یہ شارٹ دنیا بھر میں ٹی وی چینلز پر دکھایا گیا)۔(جاری ہے)

مزید :

کالم -