آپا مہناز رفیع کی باتیں (2)

آپا مہناز رفیع کی باتیں (2)
 آپا مہناز رفیع کی باتیں (2)

  

مہنازرفیع نے جنرل ضیا الحق کے دورِ حکومت کی یادوں کو اپنی کتاب میں تحریر کرتے ہوئے نواز شریف کے آغازِ سیاست کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ نواز شریف جب تحریک استقلال میں تھے تو انہیں سیاسی موضوعات پر بات کرنی تک بھی نہ آتی تھی اور مَیں حیران ہوتی تھی کہ جو شخص سیاست میں مکالمے، گفتگو اور معمولی بحث و مباحثہ کی بھی صلاحیت نہیں رکھتا وہ سیاست میں آگے بڑھنے کے لئے راستہ کیسے نکال سکتا ہے۔ کچھ ہی عرصہ گزرا کہمہنازرفیع کو ایک اور حیرت کا سامنا تھا۔ وہ نواز شریف جو سیاسی موضوعات اور قومی معاملات پر تبادل�ۂ خیالات سے ہچکچاہٹ محسوس کرتا وہ اصغر خان کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے لیڈر سے گورنر پنجاب غلام جیلانی خان کی کابینہ میں شمولیت کے لئے اجازت طلب کی۔اصغر خان نے مہناز رفیع کی موجودگی میں نواز شریف کو سمجھایا کہ وہ سیاست میں آگے بڑھنے کے لئے صبر اور حوصلے سے کام لیں اور مارشل لاء حکومت میں صوبائی وزارت قبول نہ کریں،کیونکہ ایک غیر جمہوری اور غیر آئینی حکومت کا حصہ بننے سے آپ (نواز شریف) کا مستقبل تباہ ہو جائے گا۔ اصغر خان نے نواز شریف سے کہا کہ ایک فوجی حکومت میں شامل ہونے سے آپ کی سیاسی زندگی پر ایک ایسا دھبہ لگ جائے گا جسے آپ اپنی پوری زندگی بھی دھو نہیں سکتے۔نواز شریف پر اصغر خان کی نصیحت کا کوئی اثر نہ ہوا اور وہ فوجی حکومت کی پنجاب کابینہ میں شامل ہو گئے،جس وجہ سے انہیں تحریک استقلال سے نکال دیا گیا۔1985ء کے غیر جماعتی انتخابات کے بعد نواز شریف پنجاب کے وزیراعلیٰ منتخب ہو گئے۔ ان کو یہ عہدہ بھی فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیا الحق کی نظر التفات کی وجہ سے ملا۔ محمد خان جونیجو کو پاکستان کا وزیراعظم منتخب کر لیا گیا،لیکن یہ نیم جمہوری نظام بھی فوجی صدر جنرل ضیا الحق کے لئے قابلِ برداشت نہیں تھا اور مئی1988ء میں قومی اسمبلی کو توڑ کر محمد خان جونیجو کی حکومت ختم کر دی گئی۔ اسی طرح صوبائی اسمبلیاں بھی توڑ دی گئیں۔ جب مسلم لیگ کی حکومت کو ختم کیا گیا تو نواز شریف نے مسلم لیگ کے صوبائی صدر ہونے کے باوجود محمد خان جونیجو کے بجائے فوجی صدر جنرل ضیا الحق کے ساتھ کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔اس کا مطلب تھا کہ مسلم لیگ کی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے خلاف جنرل ضیا الحق نے جو فردِ جرم عائد کی تھی اسے نواز شریف نے قبول کر لیا اور جنرل ضیاء کے حکم پر نواز شریف نے پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھال لیا۔مہنازرفیع اپنی کتاب میں اِس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں کہ قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ چونکہ سیاست میں مہنازرفیع کے لئے رول ماڈل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اِس لئے ان کو سیاست میں اس طرح کی بے اصولیوں پر سخت افسوس اور الجھن ہوتی تھی کہ کوئی انسان اپنے ذاتی مفادات کے لئے اپنی جماعت سے بے وفائی کر کے ایک فوجی ڈکٹیٹر کے غیر آئینی اقدام کا ساتھ دے۔

مہناز رفیع کا اپنی کتاب میں یہ نقط�ۂ نظر ہے کہ پاکستان میں سیاست میں کرپشن کو متعارف کروانے میں فوجی حکومتوں نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ وہ لکھتی ہیں کہ فوجی جرنیلوں نے اپنی سیاسی ضرورتوں کے پیش نظر سیاست میں ایسے افراد کو داخل کر دیا جن کا نہ کوئی سیاسی پس منظر تھا اور نہ ہی کوئی سیاسی تربیت تھی۔ یہ لوگ سرمایہ دار اور کارخانہ دار تھے۔ ان کے لئے سیاست بھی ایک کاروبار تھا اس لئے جن افراد نے سیاسی اقتدار کو اپنی تجارت اور کارخانوں میں اضافے کے لئے استعمال کیا وہ سیاست میں کرپشن کو داخل کرنے کا سبب بنے۔ مہناز رفیع کہتی ہیں کہ سیاست میں کرپشن کو پھیلانے میں وہی لوگ زیادہ سرگرم رہے ہیں،جنہوں نے فوجی آمروں کی سرپرستی میں اپنی سیاست کا آغاز کیا۔مہناز رفیع اپنی کتاب میں لکھتی ہیں کہ مَیں ان لوگوں کو سیاست دانوں میں شمار نہیں کرتی جو سیاست کو تجارت اور لوٹ مار کا ذریعہ بنا چکے ہیں، کیونکہ سیاست تو بے لوث قومی خدمت کا نام ہے۔

مہنازرفیع اِس بات پر افسوس اور حیرت کا اظہار کرتی ہیں کہ اب شاید کبھی بھی پاکستان کو لیاقت علی خان، حسین شہید سہروردی اور چودھری محمد علی جیسے وزیراعظم میسر نہ آ سکیں۔یہ وہ لوگ تھے جو سیاست میں ایک پیسے کی بددیانتی کو بھی حرام سمجھتے تھے۔ اب ہمیں ایسے حکمرانوں سے واسطہ پڑ گیا ہے کہ اربوں روپے کی کرپشن کے بعد بھی ان کی دولت کے لئے ہوس ختم نہیں ہوئی۔مہناز رفیع کا یہ تجزیہ ہے کہ کرپشن کے بعد خوشامد پسندی کے کلچر نے ہمارے مُلک میں سیاست کی اعلیٰ اقدار اور روایات کو تباہ کر دیا ہے۔نواز شریف اور ان کی طرح کے دوسرے سیاست دان یہ نہیں دیکھتے کہ سیاست میں کس سیاسی کارکن کی قربانیاں زیادہ ہیں، بلکہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ پارٹی لیڈر کی خوشامد اور چاپلوسی زیادہ کون کرتا ہے۔ پارٹی کے وفادار اور باضمیر سیاسی کارکنوں کے مقابلے میں ذاتی وفاداروں کو ترجیح دی جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ مخلص سیاسی کارکن مایوس ہو کر گھروں میں بیٹھ جاتے ہیں۔

خوشامد اور چاپلوسی کے کلچر کا ایک نقصان یہ بھی ہے کہ اس کی وجہ سے آمرانہ طرز عمل رکھنے والے سیاسی قائدین کی فرعونیت میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے۔مہناز رفیع نے اپنی کتاب میں ایک واقعہ یہ بھی تحریر کیا ہے کہ جب نواز شریف1997ء کے الیکشن کے بعد ایک آئینی ترمیم کے ذریعے مُلک کے مطلق العنان حکمران بننا چاہتے تھے تو جمہوری سوچ رکھنے والے ارکان اسمبلی نے اس سے اختلاف کیا۔خورشید محمود قصوری نے بھی اِس حوالے سے نواز شریف پر سخت تنقید کی۔ نواز شریف کی آمرانہ سوچ کو اس سے ٹھیس پہنچی اور انہوں نے خورشید محمود قصوری سے کہا کہ اگر آپ کو میری پالیسیوں سے اختلاف ہے تو قومی اسمبلی سے استعفیٰ دے دیں۔ غور کریں کہ نواز شریف کو خود سے اختلاف رکھنے والے ایک بااصول رکن قومی اسمبلی کا وجود بھی پارلیمینٹ میں گوارہ نہیں تھا۔نواز شریف مُلک کے ’’امیر المومنین‘‘ بننے کے لئے آئین کا چہرہ مسخ کرنے کے لئے بھی تیار ہو گئے تھے۔

مہناز رفیع نے اپنی کتاب میں اِس بات پر بھی دُکھ کا اظہار کیا ہے کہ اب سیاست میں سچ بولنے والے سیاست دان بہت کم رہ گئے ہیں اور سچ سننے والوں کا تو قحط الرجال ہے۔ہمارے سیاسی نظام پر منافقت اور جھوٹ مسلط ہو چکا ہے۔عوام اور مُلک کو لوٹنے والے سیاست دانوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ہے۔ عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لئے سوچنے والے سیاست دان دُنیا سے رخصت ہو گئے ہیں اور ہماری ملکی سیاست سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی غلام بن کر رہ گئی ہے جن کو صرف اپنے مفادات عزیز ہیں۔

مہنازرفیع اپنی کتاب کے آخری باب میں لکھتی ہیں کہ اب توازن کی زندگی اِسی سوچ بچار میں گزر رہی ہے کہ ہمارے مُلک میں وہ لیڈر دوبارہ کب پیدا ہوں گے جو پاکستان کو قائداعظمؒ اور علامہ اقبالؒ کا پاکستان بنانے کو اپنی زندگی کا مشن سمجھیں، جو سیاست کو ایک سماجی خدمت کا ذریعہ خیال کریں اور ہمارے مُلک کو اُن سیاست دانوں سے نجات کب ملے گی،جنہوں نے اپنے ذاتی مفادات کے باعث پاکستان کے غریب عوام کے لئے زندگی کو عذاب بنا دیا ہے۔مہنازرفیع کہتی ہیں کہ ایک غریب اور مقروض قوم کے حکمرانوں کو کیا یہ زیب دیتا ہے کہ وہ اربوں روپے کی مالیت سے تعمیر ہونے والے محلات میں رہتے ہیں، جس مُلک میں غریب عوام کو بنیادی ضرورتیں میسر نہیں، پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں،وہاں حکمرانوں کا اپنے لئے دُنیا بھر سے عیش و عشرت کا سامان اکٹھا کر لینا لعنت کے طوق سے کم نہیں۔ ہم تو اس بوریا نشین عظیم پیغمبر کی اُمت ہیں جن کی یہ دُعا تھی کہ ‘‘اے اللہ مَیں غریبوں میں رہا مجھے غریبوں کے ساتھ اٹھانا‘‘۔ لیکن ہمارے دُنیا پرست اور عیش پرست حکمرانوں کو اسوۂ رسولؐ کہاں یاد ہے۔(ختم شد)

مزید :

کالم -