آج کا بیمار زیادہ بیمار رہنے لگا ہے!

آج کا بیمار زیادہ بیمار رہنے لگا ہے!
 آج کا بیمار زیادہ بیمار رہنے لگا ہے!

  

میں اس فضول بحث میں پڑنا نہیں چاہتا کہ آیا بیماریاں اور دوسری جسمانی اور نفسیاتی تکالیف اللہ کریم کی طرف سے آتی ہیں یا خود انسان ان کے لانے کا ذمہ دار ہے۔ میرا تعلق موخرالذکر گروپ سے ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ بیماریاں خواہ جسمانی ہوں یا روحانی ان کی وجوہات میں احکامِ خداوندی کی عدم پاسداری پیش پیش رہتی ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ بیٹھے بٹھائے کوئی بدنی عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔ آپ کے ساتھ بھی کئی بار ایسا ہوا ہوگا اور میرے ساتھ بھی اس قسم کی ’’واردات‘‘ کئی بار ہوئی ہے۔ لیکن خدا کا احسان ہے کہ میں نے ہمیشہ اس قسم کے عوارض کو کارکنانِ قضا و قدر کے سر نہیں تھوپا بلکہ اس کی ذمہ داری اپنے سر لی ہے اور اس کا فائدہ یہ ہوا ہے کہ ان عوارض کا مداوا ڈھونڈنے میں بڑی مدد ملی ہے۔

آمدم برسر مطلب۔۔۔ کوئی ڈیڑھ دو ماہ قبل جب سو کر اٹھا تو دائیں گھٹنے میں شدید درد محسوس ہوا۔ درد کی شدت اس قدر تھی کہ اٹھ کر واش روم تک نہ جا سکا۔ کسی کو آواز دی تو اس کے سہارے اٹھ سکا۔ سخت حیران تھا کہ چنگا بھلا سویا تھا تو یہ اچانک درد کیوں ہوا۔ جب اس طرح کی بیماری کا ذکر آپ کسی دوست رشتے دار سے کرتے ہیں تو وہ آپ کو کم از کم تین چار ایسے مجرب نسخے بتاتا ہے کہ آپ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کو آزمانے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ چنانچہ میں بھی کسی ایسے ہی ہمدرد کے کہنے پر ایک ایسے مطب میں جاپہنچا جس کو پہلے دیکھ کر کئی بار کوس چکا تھا۔ لاہور کینٹ میں ایک باقاعدہ بازار ایسا ہے جس میں ’’ہڈی جوڑ‘‘ معالجوں کی ایک فوج ظفر موج بیٹھی خلق خدا کی ہڈیاں وغیرہ ’’جوڑ توڑ‘‘ رہی ہوتی ہے۔ ایک 75سالہ ریٹائرڈ پہلوان صاحب نے میرا گھٹنا ٹٹولا اور فرمایا کہ سوتے میں کروٹ بدلتے ہوئے کوئی جوڑ اِدھر اُدھر ہو گیا ہے۔ ابھی ٹھیک کئے دیتا ہوں۔۔۔ میں نے عرض کیا: ’’حضور! آپ اس ٹیڑھی ہڈی کو سیدھا نہ کریں بلکہ کوئی ایسی دوائی، کریم یا تیل وغیرہ عنایت کریں جس کی مالش کر سکوں‘‘۔ انہوں نے ایسا ہی کیا اور ایک سرخ رنگ کے تیل سے مالش کرکے پٹی باندھ دی۔ فرمایا کہ صبح پٹی کھول دیں انشاء اللہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔

صبح ہوئی۔ پٹی کھولی گئی لیکن درد ویسے کا ویسا ہی تھا۔ رات بھر سو نہ سکا۔اگلے روز CMH (لاہور) چلا گیا۔ وہاں ہڈیوں کے ایک ہی ڈاکٹر صاحب ہیں جو دن بھر درجنوں فوجی مریضوں کو دیکھتے ہیں اور پھر شام سے رات 9بجے تک غیرفوجی (سویلین) مریضوں کو (فیس لے کر) دیکھتے ہیں۔ ان کی فیس صرف ایک ہزار روپے ہے جبکہ سول میں اس شعبہء امراض (Orthopaedic) کو دیکھنے کی فیس دو سے تین ہزار روپے تک ہے۔ میں دو گھنٹے بیٹھا رہا۔ جب باری نہ آئی تو ڈاکٹر صاحب کے PA کو کہا کہ میرا نام شام کے مریضوں میں لکھ لیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر صاحب شام کو صرف 25،30مریض ہی دیکھ سکتے ہیں۔ اور اگلے چار دنوں تک میری ڈائری میں کسی اور مریض کی گنجائش نہیں۔ چونکہ اس شعبے کے ایک ہی ڈاکٹر صاحب لاہور CMH میں پوسٹ ہیں اس لئے میں واپس آ گیا۔ مشورہ دینے والے ہمدردوں نے پھر یہ مشورہ دیا کہ میوہسپتال کے اس شعبے کے انچارج شام کو شادمان میں فلاں ہسپتال میں مریضوں کو دیکھتے ہیں۔ میں وہاں چلا گیا۔ انہوں نے 6،7 منٹ میں دیکھ کر فارغ کر دیا اور کہا کہ عمر زیادہ ہو جائے تو ہڈیوں کی شکست و ریخت شروع ہو جاتی ہے۔ کوئی بات نہیں انشاء اللہ آرام آ جائے گا۔ صبح نہا رمنہ اور رات کو سوتے وقت یہ گولی کھا لیا کریں۔ اس گولی کا نام تھا: Kledin 50mg ۔۔۔

تین دن تک وہ گولیاں کھاتا رہا۔ لیکن مرض جوں کا توں رہا۔ بلکہ الٹا یہ ہوا کہ ایک اور مرض کا اضافہ ہو گیا۔ منہ چھالوں سے بھر گیا اور پانی تک پینے میں درد محسوس ہونے لگا۔ یعنی بجائے اس کے کہ گھٹنے کے درد میں کمی آتی، ایک اور درد کا اضافہ ہو گیا۔۔۔ پھر کسی تیسرے ہمدرد نے ایک تیسرے ڈاکٹر صاحب کا ایڈریس دیا۔ یہ ڈاکٹر صاحب DHA لاہور کے میڈیکل سنٹر میں اس شعبے کے سربراہ ہیں۔ میں وہاں چلا گیا۔ انہوں نے بڑی محبت سے دیکھا اور اپنی میز پر رکھے گھٹنوں کے ماڈلوں سے سمجھانے کی کوشش کی کہ آپ کے گھٹنے میں جو مُرکنی ہڈی (Carlilage) ہے وہ زخمی ہو گئی ہے اور اس پر سوزش بھی آ گئی ہے۔ یہ گولی بازار سے لیں اور صبح و شام کھا لیں۔ انشاء اللہ آرام آ جائے گا۔ اس گولی کا نام تھا: Voltrol SR 10mg۔ اس سے درد کی شدت میں تقریباً 5،7 فیصد کمی ضرور آئی لیکن منہ کے چھالوں میں اضافہ ہو گیا۔

میں نے ان سے فون پر رابطہ کیا اور کیفیت بیان کی تو کہنے لگے وہ گولی بند کر دیں اور ایک اور گولی اس کی بجائے لے لیں۔ اس گولی کا نام تھا: Celbex 200 mg ۔۔۔ ساتھ ہی ایک کریم (Gel) بھی گھٹنے پر لگانے کے لئے تشخیص کی۔۔۔ اس تمام ایکسرسائز میں ایک ماہ گزر گیا اور افاقے کی صورت نظر نہ آئی تو ناچار دوبارہ CMH کا رخ کیا۔ ڈاکٹر صاحب نے فزیوتھراپی تجویز کی اور ساتھ ہی Celbexکی گولی بھی جاری رکھنے کو کہا۔ DHA میڈیکل سنٹر والے ڈاکٹر صاحب نے کہا چونکہ درد کو آرام نہیں آتا اس لئے آپ ٹیکہ لگوا لیں۔ چنانچہ انہوں نے ٹیکہ لگا دیا جس کا نام تھا: DMTLA۔

قارئین شائد درج بالا روئیداد پڑھ کر سمجھ رہے ہوں گے کہ میں اپنے ذاتی دکھ درد کو ان کے ساتھ کھول کر رکھ رہا ہوں تو اس سے مراد یہ ہے کہ آپ کو خواہ مخواہ اپنے ذاتی بکھیڑوں میں الجھانا چاہتا ہوں۔۔۔ بخدا ایسا نہیں۔۔۔ تو پھر کیا ہے؟

ہوا یہ کہ کل صبح (اتوار 28مئی 2017ء) جب اخبار دیکھے تو ڈیلی ٹائمز کے صفحہ A-3پر ایک سات کالمی خبر نظر سے گزری جس کا عنوان تھا :’’ درد ختم کرنے والی دوائیاں کس طرح آپ کا ہارٹ فیل کرسکتی ہیں‘‘۔۔۔ اس خبر کی جو تفصیل میں نے پڑھی اس نے مجھے پریشان کردیا، اس میں جن دردکُش (Pain Killer) ادویات کا ذکر تھا وہ ساری کی ساری بیشتر وہی تھیں جو ان چار ڈاکٹر صاحبان نے مجھے دی تھیں اور جن کو میں تقریباً دو ماہ سے کھا رہا تھا۔

جس زمانے میں میری پوسٹنگ کھاریاں میں تھی وہاں ایک ڈاکٹر صاحب سے دوستی ہوگئی تھی جو دل کے امراض کے معالج ہیں۔ وہ وہیں کے رہائشی تھے۔ چونکہ اب انہوں نے کسی کلینک میں جانا چھوڑ دیا ہے ۔ علاوہ ازیں ان کی سماعت اور بینائی بھی متاثر ہوچکی ہے۔ اس لئے سوچا کہ خود جا کر بات کروں۔ اس لئے کھاریاں گیا اور ڈاکٹر صاحب کو اس خبر کے درج ذیل حصے پڑھ کر سنائے:

1۔امریکہ میں ایک نئی سٹڈی کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ درد کش ادویات کے ذیلی اثرات خطرناک ہوسکتے ہیں۔ یہ معلومات ڈاکٹروں کو اگرچہ پہلے بھی تھیں لیکن اب مزید تحقیق و تفتیش نے ثابت کردیا ہے کہ ان ادویات کو کھانے سے اولین چند دنوں ہی میں اس کے ایسے اثرات ظاہر ہو سکتے ہیں جو جان لیوا ہوسکتے ہیں۔( ان دردکش ادویات میں زیادہ تر وہی ادویات شامل ہیں جن کا ذکر میں نے اس کالم کے آغاز میں کردیا ہے۔ یعنی درج ذیل گولیاں اور کیپسول وغیرہ:

(1)Nise(2)Celbex(3) Declofenic(4)Neproxin(5) اور Kledinوغیرہ)

2۔جو مریض درد ختم کرنے کے لئے یہ ادویات کھاتے ہیں ان میں دل کے دورے کے امکانات 20سے لے کر 50فی صد تک بڑھ جاتے ہیں ۔ دل کے دورے اور ادویات کے درمیان جو تعلق ہے اگرچہ اس کا علم تمام ڈاکٹروں کو ہے لیکن اس تازہ تحقیق نے اس حقیقت کی مزید توثیق کردی ہے۔

3۔ جو لوگ یہ ادویات لے رہے ہیں۔ جن کو اصطلاح میں این سیڈ (Nsaids) کہا جاتا ہے ان میں دل کے دورے کے اثرات (یہ ادویات کھانے کے)پہلے ہفتے ہی میں ظاہر ہونے لگتے ہیں۔

میں نے ڈاکٹر صاحب سے جب یہ کہا کہ مجھے بفضلِ خدا آج تک دل کا کوئی عارضہ لاحق نہیں ہوا، نہ ہی شوگر کا مریض ہوں اور نہ بلڈپریشر کا کوئی مسئلہ ہے۔ لیکن ایک دو ماہ سے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے دل کے اوپر کوئی بوجھ سا ہے اور گاہے گاہے ہلکا سا درد بھی ہونے لگتا ہے تو انہوں نے یہ سن کر مشورہ دیا کہ آپ صرف فزیو تھراپی پر زور دیں اور اس کو باقاعدگی سے کروائیں لیکن یہ درد کش گولی /کیپسول جو آپ لے رہے ہیں وہ چھوڑ دیں۔ خدانہ کرے کہیں ایسا نہ ہو جائے کہ یہ ہلکا درد کسی ’’جاری‘‘ درد میں تبدیل ہو جائے۔

پھر انہوں نے انگریزی طریقہ علاج پر ایک مفصل بحث کی اور بتایا کہ یہ طریقہ، علاج، علاماتِ مرض پر منحصر ہے اور اس کوSuppresiveطریقہ علاج کہتے ہیں Curative نہیں۔ یعنی یہ طریقۂ مرض کی علامت کو دبا دیتا (Supress) ہے اس کو Cure نہیں کرتا۔ دوسرے یہ کہ اس طریقہ علاج کے تمام اجزاء میں ذیلی اثرات (Side Effects) ناگزیر ہوتے ہیں۔ یعنی آپ کو ایک مرض کا عارضی علاج مل جاتا ہے لیکن آپ ایک دوسرا مرض خرید لیتے ہیں۔ مثلاً یہ گولیاں جو آپ لیتے رہے ہیں یا لے رہے ہیں وہ نہ صرف دل کو متاثر کرتی ہیں بلکہ معدے اور گردے کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ اگرآپ اپنے معالج سے یہ شکائت کریں گے کہ ان دوائیوں کے کھانے سے میرا پیٹ خراب ہوگیا ہے تو وہ دوسری گولی اور دوا لکھ دے گا لیکن اس کا ذیلی اثر بھی لازماً کوئی نہ کوئی ہوگا۔ یہ درست ہے کہ آپ کا درد ان درد کش ادویات کے کھانے سے ایک حد تک کم ہو جاتا ہے لیکن دوسرے ’’اَن دیکھے درد‘‘ ساتھ ہی مل جاتے ہیں ۔ یہ خرابی اس طریقہ علاج کے خمیر(In- built)میں ہے۔ مریض چونکہ فوری علاج مانگتا ہے اس لئے اس کو فوری علاج تو مل جاتا ہے لیکن دوسرے قابلِ علاج امراض بھی ساتھ ہی مل جاتے ہیں!

قارئین گرامی! میں نے یہ سطور اس لئے آپ کی خدمت میں پیش کی ہیں کہ آج سوشل میڈیا کے اس دور میں آپ ایسے نیم حکیموں سے خبردار رہیں جو چٹکی بجا کر درد کا درمان کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں اور ہم ان کی باتوں میں آجاتے ہیں۔۔۔۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ زندگی اور موت تو اللہ کے ہاتھ میں ہے لیکن بیماری اور اس کی شفا بندے کے ہاتھ میں ہے۔ اسی لئے تو مریضوں او ڈاکٹروں کی بھرمار ہے۔ کوشش کی جانی چاہئے کہ صحت کے ان اصولوں کی پیروی کی جائے جو ازلی ہیں اور ابدتک رہیں گے۔ دورِ حاضر نے مسیحا تو بہت پیدا کردئے ہیں لیکن آج کا بیمار، ماضی کی نسبت زیادہ بیمار رہنے لگا ہے:

مشکلے نیست کہ اعجازِ مسیحا داری

مشکل این است کہ بیمارِ تو بیمار تراست

مزید :

کالم -