امریکی صدر کے دورہ سعودی عرب سے بوئنگ کی شراکت داری مزید مستحکم ہوگی

امریکی صدر کے دورہ سعودی عرب سے بوئنگ کی شراکت داری مزید مستحکم ہوگی

  

ریاض (اے پی پی) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران دونوں ملکوں کے درمیان ہونے والے دفاعی و تجارتی معاہدوں کے ساتھ سعودی عرب کے ساتھ بوئنگ کی شراکت داری مزید مستحکم ہوگی۔اس سے دونوں خطوں کی سلامتی مستحکم اور روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار امریکی طیارہ ساز کمپنی ’’ بوئنگ ‘‘ کے چیئرمین، صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈینس اے ملنبرگ نے ایک انٹرویو کے دوران کیا۔انھوں نے کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان 280 ارب ڈالر کے دفاعی و تجارتی معاہدے دونوں ملکوں کی سلامتی و خوشحالی بار ے امریکی عزم کا اظہار ہے۔ان معاہدوں کے تحت بوئنگ مصنوعات اور خدمات کی فراہمی،چنوک ہیلی کاپٹرز اور خدمات فراہم کی جائیں گی۔اس کے علاوہ سعودی عرب گائیڈڈ ہتھیار، پی 8 میری ٹائم پٹرول اور جاسوس طیاروں کی فراہمی چاہتا ہے۔چیئرمین نے کہا کہ بوئنگ اور سعودی گلف ایئرلائن کے درمیان بھی ایک معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت اسے چوڑی جسامت والے 16 طیارے فراہم کیے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ بوئنگ کے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات 70 سال پرانے ہیں۔

ان کا آغاز 1945 ء میں اس وقت ہوا جب امریکی صدر فرینکلن ڈی روزن ویلٹ نے ایک ڈی سی ۔3 ڈکوٹا طیارہ سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبدالعزیز کو پیش کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب میں کئی عشروں سے سیکورٹی شراکت داری ہے اور علاقائی استحکام اور خوشحالی میں دونوں ملکوں کا اہم کردار ہے۔اس میں بوئنگ کا بھی حصہ شامل ہے۔انھوں نے کہا کہ بوئنگ کے سعودی انتظامیہ کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت اس وقت ملی جب 1970ء میں سعودی عرب کو ایف۔15 جنگی طیارے فراہم کیے گئے جو اس کے دفاع میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوئے۔ملنبرگ نے کہا کہ سعودی عرب اب ان تعلقات میں مزید وسعت چاہتا ہے۔اس کی خواہش ہے کہ اسے مزید جنگی طیارے، تجارتی بنیادوں پر جنگی جہاز ، ہتھیار اور ورٹیکل لفٹ پلیٹ فارم فراہم کیے جائیں۔

مزید :

کامرس -