سرینگر ، کشمیر یوں کا کرفیو کے باوجود احتجاج ، فورسز پر پتھراؤ، جھڑپوں میں مزید23زخمی

سرینگر ، کشمیر یوں کا کرفیو کے باوجود احتجاج ، فورسز پر پتھراؤ، جھڑپوں میں ...

  

سرینگر(اے این این) مقبوضہ کشمیر میں حزب کمانڈر سبزار بھٹ اور دیگر افراد کی شہادت کے بعد حالات کشیدہ، کشمیری عوام نے دوسرے روز بھی کرفیو اور پابندیوں کی دھجیاں اڑا دیں ،قابض فورسز پر پتھراؤ،جھڑپوں میں مزید 23زخمی ،وادی میں ریاستی دہشتگردی عروج پر ،پیلٹ فائر سے 3سالہ حرمت عبداللہ بینائی سے محروم ،فردوس شاہ سمیت متعدد افراد گرفتار،بھارتی فوج نے دراندازی کے الزام میں 65سالہ شہری فائرنگ کر کے قتل کر دیا،کرفیو،پی ایس اے اور دفعہ 144کے نفاذ اور ہڑتال کے باعث وادی میں زندگی تھم گئی،کئی علاقوں میں لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے،جگہ جگہ خار داریں نصب،لوگوں کا فوجی کیمپوں پر پتھراؤ،کئی مقامات پر شہداء کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی،وادی میں حالات برہان وانی کی شہادت کی طرح حالات کشیدہ ،جلاؤ گھیراؤ اور توڑ پھوڑ جاری ،تمام کاروباری اور تجارتی مراکز تعلیمی ادارے بند،سڑکیں سنسان ،بھارت نے موبائل اور نیٹ سروس بھی بند،یاسین ملک جیل منتقل ،سید علی گیلانی ارو میرواعظ عمر فاروق بدستور نظر بند،مزاحمتی قیادت کا آج ترال چلو مارچ کا اعلان ۔تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں سبزار بھٹ سمیت 13نوجوانوں کی شہادت کے دوسرے روز بھی ترال سمیت وادی کے مختلف علاقوں میں کرفیو،پی ایس اے اور دفعہ 144کے تحت لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندیوں کا سلسلہ جاری رہا ۔ڈسٹرکت مجسٹریٹ انت ناگ سید عابد رشید کے مطابق کرفیو اور پابندیوں کا مقصد قیام امن کو یقینی بنانا ہے انت ناگ میں مکمل کرفیو نافذ ہے ۔ ڈسٹرکتٹ مجسٹریٹ سری نگر کے مطابق شہر کے سات تھانوں کی حدود میں کرفیو جاری رہا ان تھانوں میں خانیار، رینا واڑی،نو ہٹہ ،ایم آر گنج،صفا کدل ،کرال کھڈ اور مائسمہ میں بھی کرفیو کا نفاذ جاری رہا۔اس کے علاوہ شوپیاں ،کولگام ،پلوامہ ،بڈگام ،گاندر بل،بانڈی پورہ ،کپواڑہ اور بارہ مولہ کے اضلاع میں بھی کرفیو اور پابندیوں کا سلسلہ جاری رہا تاہم مقامی لوگوں نے کرفیو اور پابندیوں کے باوجود سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا اور بھارتی فورسز پر دن بھر پتھراؤ کا سلسلہ جاری رہا ۔حزب کمانڈر سبزار بٹ انکے کمسن ساتھی اورایک شہری کی یاد میں مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال کال کے دوران انتظامیہ کی جانب سے سخت ترین بندشوں کی وجہ سے پوری وادی میں ہوکاعالم رہا۔کنٹرول آر پار مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال سے عام زندگی کی رفتار تھم گئی۔سرینگر، کپوارہ،سوپور، گاندربل،پلوامہ،کولگام اور شوپیاں میں سنگبازی سے نپٹنے کیلئے ٹیر گیس کے علاوہ پیلٹ بندوق کا استعمال کیا گیا جس کے دوران 10افراد زخمی ہوئے۔ہڑتال اورکرفیو جیسی بندشوں اور سخت ترین سیکورٹی انتظامات کی وجہ سے شہر سرینگر اور دیگر کئی علاقوں میں ہزاروں لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔شہر سرینگر سمیت پوری وادی میں دوسرے روز بھی مکمل ہڑتال رہی جبکہ اہم شاہراہوں اور سڑکوں پر ٹریفک کی نقل وحرکت مسدود ہو کر رہ گئی۔ ادھر جنوبی کشمیر میں پلوامہ ، ترال ، پانپور ، اونتی پورہ ، بجبہاڑہ ، اننت ناگ، شوپیان، کولگام اور دیگر کچھ حساس قصبوں کے ساتھ ساتھ شمالی کشمیر کے کچھ علاقوں میں بھی دفعہ 144کے تحت سخت بندشوں کے ساتھ ساتھ اضافی سیکورٹی اقدامات اٹھائے گئے تھے۔ سرینگر کو شمالی ، وسطی اور جنوبی کشمیر سے ملانے والے شاہراہوں پر جگہ جگہ پولیس اور سی آر پی ایف اہلکاروں پر مشتمل دستے تعینات رکھے گئے تھے تاکہ لوگوں کی سرینگر اور ترال کی جانب روانگی یا پیش قدمی کو روکا جاسکے۔

کشمیر

مزید :

علاقائی -