نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم کیخلاف متفقہ قرار داد منظور

نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم کیخلاف متفقہ قرار داد منظور

  

لاہور(نمائندہ خصوصی )پنجاب اسمبلی کے ایوان میں نہتے کشمیریوں پر بھارتی فوج کے مظالم کے خلاف متفقہ قرارداد منظور کر لی گئی ہے جبکہ اپوزیشن کی طرف سے چیئر مین کشمیر کمیٹی کو تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا ‘ وقفہ سوالات کے دوران وزیر زراعت نعیم بھابھہ نے انکشاف کیا کہ کسانوں کو سبسڈی پر ٹریکٹر دینا بند کردئے گئے ہیں صرف زرعی آلات پرہی حکومت سببسڈی دیتی ہے ۔اجلاس کا ایجنڈا پورا ہونے پر اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا ۔تاہمپنجاب کا بجٹ اجلاس2جون کو ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب اسمبلی کا اجلاس مقررہ وقت سے 55منٹ کی تاخیر سے سپیکر رانا محمد اقبال خان کی صدارت میں شروع ہوا،اجلاس میں صوبائی وزیر خلیل طاہر سندھو نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ مجھے کسی نے سوشل میڈیا کے ذریعے ایک میسج بھیجا ہے جس میں اس نے یہ طاہر کیا ہے کہ خلیل طاہر سندھو اور ان کے دیگر ساتھی حکومت کے تعاون سے چرچز کی پراپرٹی فروخت کرنا چاہتے ہیں ،اور چرچز کو حکومتی تحویل یں لینا چاہتے ہیں،جبکہ حکومت نے تمام چرچز کی پراپرٹی کی خریدو فروخت پر پابندی لگائی ہو ئی ہے،انہوں نے کہا کہ یہ میسج اقلیتی لیڈرشپ اور چرچز کے متولیوں کے درمیان خلیج ڈالنے کی کوشش کی گئی ہے،انہوں نے کہا کہ حالانکہ جنہوں نے یہ میسج مجھے بھیجا ہے وہ خود چرچز کی پراپرٹی بیچنے میں ملوث ہیں جس کے ثبوت میرے پاس موجود ہیں ،اورہم ان سے وہ پراپرٹی واپس لیں گے جو انہوں نے فروخت کی ہے،انہوں نے کہز کہ میں سوشل میڈیا پر اس میسج کی مذمت کرتا ہوں، اوریہ لوگ حب الوطنی اور غداری کے سرٹیفکیٹ تقسیم کرنے بند کریں، پی ٹی آئی کی شنیلا رتھ نے بھی خلیل طاہر سندھو کی بات کی تائید کی۔ سپیکر نے 24مئی کو موخر کئے جانے والے سوالو کا آغاز کیا ۔میاں طارق کے سوال کے جواب میں صوبائی وزیر زراعت نعیم بھابھہ نے کہا کہ پنجاب حکومت صرف زرعی آلات ہی سبسڈی پر دیتی ہے ،پنجاب حکومت نے گرین ٹریکٹر سکیم ختم کردی ہوئی ہے اب ٹریکٹر سبسڈی پر نہیں دئے جاتے،میاں طارق نے ضمنی سوال میں کہا کہ کیا ٹریکٹر زرعی آلات نہیں اور ایک کسان ہاتھ میں رقم پکڑیٹریکٹر پھر بھی اسے نہ ملے تو حکومت اس کی کیا مدد کرے گی؟ جس پرصوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت اس پر کسان کی کوئی مدد نہیں کرسکتی جس پر رکن اسمبلی میاں طارق نے کہا کہ کسان نے اگر پیسے نقد دیکر بھی لائن میں لگنا ہے اور حکومت نے اس کی کوئی مدد نہیں کرنی تو کیا کاشتکاروں کی یہی خدمت ہے؟سپیکر رانا محمد اقبال خان ے مٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کیا ٹریکٹر کی قیمت کے ساتھ کسان کچھ اور بھی لیکر جائے؟جس پر صوبائی وزیر لا جواب ہو گئے۔سپیکر نے یہ سوال متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کردیا۔ پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں محکمہ خزاہ اور مواصلات و تعمیرات ے بارے میں سوالوں کے جوابات دئے۔بعد ازاں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الرشید کی طرف سے رولز معطل کرکے ایوان میں آؤٹ آف ٹرن ایک قراردادکشمیریوں کے حق اور بھارتی مظالم کے خلاف قراداد پڑی گئی جس میں کہا گیا کہ یہ ایوان مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں گذشتہ روز12مظلوم کشمیریوں اور کمانڈر سبزار بھٹ کی شہادت پر دکھ اور رنجیدگی کا اظہار کرتا ہے،شہداء کء درجات کی بلندی کے لئے دعا گو ہے اور بھارتی حکومت کے ظلم و استبداد کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے اور بھارت کو یہ پیغام دیتا ہے کہ پاکستان کی عوام ہر لمحہ اپنے کشمری بھائیوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لئے شانہ بشانہ کھڑی ہے،اور ان کی اخلاقی و سیاسی حمایت جاری رکھے گی،ئی حکومت پاکسیان سے مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم بند کروانے کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لایا تے ہوئے عالمی اداروں بشمول UNO,OIC اور عالمی قوتوں کو کشمیریوں کی حالت زار کا نوٹس لیتے ہوئے اپنا موثثر کردار ادا کرے۔ یہ قراداد ممتفقہ طور پر منظور کی گئی ۔ جس کے بعد اپوزیشن لیڈر میاں محمو د الرشیدنے نکتہ اعتراض پر کہا کہ کشمیر کمیٹی کا رول انتہائی مایوس کن ہے ددو ارب رولے سالانہ فنڈ بھی دئے جاتے ہیں لیکن اس کی کارکردگی زیر ہے اور یہ عالمی سطح پر کشمیریوں کی نمائندگی بھی کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے لہٰذا فوری طور چیئر مین کشمیر کمیٹی کو تبدیل کیا جائے ۔ جس کے بعد سیکر رانا محمد اقبال خان نے گورنر پنجاب کے اجلاس ملتوی کرنے کے احکامات پڑھ کر سنائے اور اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا۔پنجاب اسمبلی کے پارلیمانی سال کے گزشتہ روز سو دن پورے کر لئے گئے ہیں ۔پارلیمانی کیلنڈر کے مطابق پورا سال اسمبلی نے سو دن کی کاروائی آئندہ مالی سال کے بجٹ اجلاس سے قبل پوری کرنی ہوتی ہے جو گزشتہ ورز پوری کر لی گئی ہے اور اس کے ساتھ ہی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا ہے ۔یہاں یہ امر قابل زکر ہے کہ ان سو دنوں کی کاروائی میں محض چند دنوں کی کاروائی کے ایسے دن ہوں گے جب ایوان میں کورم پورا ہواہو گا اور ہر سیشن کی کاروائی کے دوران حکومت کو متعدد مرتبہ کورم کی نشاندہی کا سامنا رہا ہے۔

مزید :

علاقائی -