پولیس اپنے روایتی کلچر کے باعث مختلف القابات سے مشہور

پولیس اپنے روایتی کلچر کے باعث مختلف القابات سے مشہور

  

لاہور (ر پو رٹ :شعیب بھٹی )پولیس کی وردی تو بدل گئی لیکن عادات نہ بدلیں ،پولیس اہلکاروں کی کرپشن ،پرتشدد رویہ اور رشوت خوری سے تنگ عوا م ے نفرت کا اظہار کرتے ہوئے ان سے متعلق مختلف قسم کی "ضرب الامثال " اور ان کے مختلف "نام" رکھ دیئے جو چھوٹے بچے سے لے کر بوڑھوں تک زبان زدعام ہیں ۔گزرتے وقت کے ساتھ معاشرے میں پولیس اہلکاروں کے بارے میں لو گو ں میں غم وغصہ دن بدن بڑھتا جارہا ہے ۔تفصیلات کے مطابق پنجا ب میں پولیس کی کرپشن اور پولیس اہلکاروں کی جانب سے تشدد اور بے گناہ افراد کی اموات ایک عام بات بن چکی ہے۔ایسے واقعات کے باعث عوام نے پولیس اہلکاروں کے مختلف نام رکھ دیئے ہیں جن میں "چھلڑ" سب سے زیادہ مشہور ہے جس کا مفہوم یہ لیا جاتا ہے کہ پولیس اہلکار عوام کو اس قدر لوٹتے ہیں کہ ان کی کھال بھی اتارلیتے ہیں ۔اسی طرح سے "سپاٹا "،" نکا تھانیدار " بھی عام طور پر پولیس اہلکاروں کو کہا جاتا ہے ۔دوسری جانب پولیس اہلکاروں سے متعلق کئی ضرب الامثال بھی زبان زد عام ہو چکی ہیں جن میں ان کے مطلبی اور کرپٹ ہونے کو ظاہر کیا جاتا ہے ۔"پولیس کی دوستی اچھی نہ دشمنی "بھی مشہور ہے جس کا مفہوم ہے کہ جب ان کو ضرورت ہو تو پولیس اہلکار اپنے قریبی دوستوں کو بھی "بلی کا بکرا"بنا کر اپنا مطلب پورا کر لیتے ہیں۔پولیس کی جانب سے "سلوگن " متعارف کروایا گیا کہ" پولیس کا ہے کام مدد آپ کی " اس کے جواب میں یہ سلوگن کچھ اس طرح سے مشہور ہو گیا کہ "پولیس کا کام مدد آپ کی ،کریں جیب سے ان کی مدد آپ بھی"جبکہ پولیس اہلکاروں کی جانب سے بھی تھانے میں آنے والے سائلین کو مختلف ناموں سے نوازا جاتا ہے ۔ان میں "پارٹی "اور"سودا" سب سے زیادہ مشہور ہیں جن کا مطلب ہے کہ سائل پیسے دینے والا گاہک ہے ۔اسی طرح سے اگر کوئی خاتون سائل تھانہ میں درخواست لیکر آئے تو اسے "لڈو " کہا جاتا ہے ۔

مزید :

علاقائی -