خیبر پختونخوا اور سندھ میں لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج ، واپڈا دفاتر ،تھانے نذر آتش ، 2 افراد جاں بحق ، وزیر اعظم کا اظہار برہمی ،بجلی کی فراہمی یقینی بنانے کا حکم

خیبر پختونخوا اور سندھ میں لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج ، واپڈا دفاتر ،تھانے نذر ...

  

ر ، مالا کنڈ (آن لائن،این این آئی)پشاور اور مالا کنڈ بجلی کے ستائے عوام کا احتجاج واپڈا ہاؤس جلا دیا ۔ لیویز کی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ہونے والی ہوائی فائرنگ میں دوافراد جاں بحق اور 6زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق پیر کے روز مالا کنڈ کے علاقے درگئی میں بجلی کی ستائی دربندی اور وتیر کے لوگوں نے درگئی دفتر پر دھاوا ڈال دیا اور دفتر میں موجود فرنیچر اور سارے ریکارڈ کو آگ لگا دی ۔ حالات کو کنٹرول کرنے کے لئے لیویز اہلکاروں کو بلایا گیا ۔ لیویزنے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے ہوائی فائرنگ کی جس کے نتیجے میں فائرنگ سے 2افراد جاں بحق اور 6زخمی ہو گئے اور تمام مظاہرین منتشر ہو گئے جس کے بعد حالات کشیدہ ہونے کے تناظر میں لیویز اہلکاروں نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا ۔ دوسری جانب پشاور کے مختلف علاقوں کے بجلی کی لوڈشیڈنگ سے تنگ افراد نے ایم پی اے فضل الہی کی قیادت میں اچینی چوک اور رنگ روڈ ٹریفک کے لئے معطل کر دیا اور مظاہرین نے ڈنڈے اٹھا کر سڑک پر ٹائر جلائے ۔ بعدازاں پیسکو حکام کی جانب ایم پی اے فضل الہی سے مذاکرات کئے گئے اور یقین دہانی کرائی گئی کہ اب لوڈشیڈنگ نہیں ہو گی جس کے بعد احتجاجی مظاہرہ ختم کر دیا گیا ۔ ترجمان خیبرپختونخوا حکومت شوکت یوسفزئی نے نجی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ اگر پیسکو حکام کنڈا اور بجلی چوری کونے والوں کی نشاندہی کرا دیں تو صوبائی حکومت فوری طور پر کارروائی کرے گی اور ایسے لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرائی جائے گی لیکن پیسکو حکام صرف ہوا میں تیر چلاتے ہیں ۔دوسری طرف خیبر پختونخوا کے وزیر اطلاعات و تعلقات عامہ شاہ فرمان نے کہا ہے کہ وفاق اگر بجلی میں اس صوبہ کا آئینی حق دیتا تو آج لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام سڑکوں پر نہ نکلتے، بجلی کی پیداوار میں 13فیصدحق خیبر پختونخوا کا بنتا ہے لیکن وفاق اس صوبہ کو اس کاآئینی حق نہیں دے رہا ہے، یہاں سے جاری ایک بیان میں صوبائی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ وفاق اگر ہمیں بجلی کی مد میں اپنا حق دے دے تو یہاں لوڈشیڈنگ مکمل طور پر ختم ہو سکتی ہے لیکن وفاق ہماری بجلی چوری کر کے دوسرے صوبوں کو دے رہا ہے، انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ کے رہنما امیر مقام اپنی نوکری پکی کرنے کے چکر میں اپنے ہی عوام کو دھوکہ دے رہے ہیں، امیر مقام اپنی قیادت سے اس صوبہ اور عوام کے بجلی کے 13فیصد حق کی بات کیوں نہیں کرتے ہیں۔ادھر ترجمان پیسکو نے بتایا کہ احتجاج کرنیوالے مظاہرین کے علاقوں میں 88 فیصد خسارے کا سامنا ہے جس کی وجہ سے 18 گھنٹے تک لوڈشیڈنگ کر رہے تھے لیکن معاملات کو کشیدہ کرنے کی بجائے مذاکرات سے حل کیا جائے ۔

لوڈشیڈنگ احتجاج

اسلام آباد(آن لائن)وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے سندھ میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر شدید احتجاج کیا جبکہ خواجہ آصف کی جانب سے لوڈشیڈنگ میں کمی کی یقین دہائی کرائی گئی ۔دونوں رہنماؤں کے درمیاں پیر کے روز ہونے والے رابطے میں وزیر اعلی سندھ نے وزیر پانی و بجلی سے استفادہ کیا کہ سندھ کے عوام لوڈشیڈنگ کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں حالانکہ آپ نے سحری و افطاری کے دران لوڈشیڈنگ نہ کرنے کا وعدہ کیا تھا خواجہ آصف نے کہا کہ میں اپنے وعدے پر قائم ہوں اور انشاء اللہ ماہ رمضان میں لوڈشیڈنگ کا خاص خیال رکھا جائے گا تاکہ سندھ کے عوام کو تکلیف کا سامنا نہ کرنا پڑے۔دوسری طرف لوڈشیڈنگ کے ستائے عوام نے میرپور خاص میں بھی ایک تھانہ نذر آتش کردیا۔

سندھ

اسلام آباد(آن لائن)وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ موسم گرما اور ماہ رمضان میں صارفین کو ریلیف کی فراہمی کیلئے متعلقہ محکمے قابل عمل حکمت عملی اپنائیں،عوام کو ریلیف کی فراہمی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے،بجلی کی قلت کے باعث حکومت کو عوام کے مسائل کا ادراک ہے۔تفصیلات کے مطابق پیر کے روز وزیراعظم محمد نوازشریف کی زیرصدارت توانائی کی کابینہ کمیٹی کا اجلاس ہوا،جس میں سیکرٹری پانی وبجلی نے لوڈمینجمنٹ،گردشی قرضے،بجلی کی تقسیم وترسیل کے نظام پر بریفنگ دی اور بتایا گیا کہ 2018ء میں مزید9107 میگاواٹ بجلی نظام میں شامل ہو جائے گی،وزیراعظم نے لوڈشیڈنگ کی موجودہ صورتحال پر اظہار برہمی کرتے ہوئے ہدایات جاری کیں کہ رمضان میں کم از کم لوڈشیڈنگ کی جائے،موسم گرما میں عوام کو ریلیف کی فراہمی کیلئے متعلقہ محکمے قابل عمل حکمت عملی اپنائیں۔انہوں نے کہا کہ بجلی کی موجودہ قلت کے باعث حکومت کو عوام کے مسائل کا ادراک ہے،عوام کو بجلی کی ریلیف کی فراہمی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جبکہ وزیراعظم نے بجلی کی حالیہ صورتحال کے پیش نظر توانائی کی کابینہ کمیٹی کا اجلاس کل دوبارہ طلب کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق حکام وزارتپانی وبجلی کی طرف سے وزیراعظم کو بریفنگ دی گئی ہے کہ ملک کے کسی علاقے میں غیر اعلانیہ یا اضافی لوڈشیڈنگ نہیں ہورہی ،پن بجلی سے5ہزار100 میگاواٹ بجلی حاصل ہورہی ہے،سرکاری تھرمل پاور پلانٹس2ہزار970 میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں،نجی شعبے کے بجلی گھر آئی پی پیز 9ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کر رہے ہیں،کئی دیہات میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 12سے14گھنٹے اور شہروں میں8سے10 گھنٹے ہورہی ہے،بجلی کی پیداوار17ہزار 10میگاواٹ اور طلب22ہزار550میگاواٹ ہے جبکہ ملک میں بجلی کا شارٹ فال5ہزار 430میگاواٹ ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ وزیراعظم نے ہدایات جاری کی ہیں کہ وزارت پانی وبجلی اور پٹرولیم بجلی پیداوار سے متعلق انتظامات مؤثر بنائیں۔وزیراعظم نے احکامات بھی جاری کئے کہ سحر وافطار میں لوڈشیڈنگ نہ کی جائے۔

نواز شریف

مزید :

صفحہ اول -