استقبالِ رمضان خواتین سے چند باتیں

استقبالِ رمضان خواتین سے چند باتیں

  

ماہِ رمضان کا آغاز ہو چکا ہے۔ تین دہائیوں کے بعد ایک بار پھر تپتے جون میں لوگوں نے ماہِ صیام کا استقبال کیا ہے جو ان پر فرض کیا گیا ہے۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنہیں رب کریم نے صحت اور استقامت بخشی ہے کہ وہ اس فرض کی ادائیگی کماحقہ ‘ کر سکیں اور اچھے نصیب والی ہیں وہ خواتین جو اس مہینے میں سحر و افطار کا اہتمام کرتی ہیں، روزے رکھتی ہیں، گھر کی دیکھ بھال کرتی ہیں اور پورا مہینہ اپنی تکالیف اور جسمانی عوارض کو بھولے رہتی ہیں۔

ماہ رمضان رحمتوں، برکتوں اور مغفرتوں کا مہینہ ہے۔ اس مہینے کے اجر کی عطا رب ذوالجلال نے اپنے پاس رکھی ہے۔ بھوک اور پیاس سے وہ اپنے بندوں کی آزمائش کرتا ہے۔ عبادت میں ان کی بندگی، یکسوئی اور خلوص پر خوش ہوتا ہے اور دنیاوی اور اخروی زندگی میں ان کے لئے آسانیاں پیدا کرتا ہے۔

اس بار خواتین کی ذمہ داریوں میں یقیناًاضافہ ہوگا کیونکہ بچوں کی گرمیوں کی تعطیلات بھی اسی مہینے سے شروع ہو گئی ہیں۔ تاہم قابلِ ستائش ہیں ہماری خواتین کہ اپنے فرائض سے پہلو تہی نہیں کرتیں۔ جون کے دن طویل اور موسم سخت ہے۔ پھر سحری کے اوقات بھی مختصر ہیں۔ موسم کے پیش نظر خواتین کو ایسے کھانوں کا اہتمام کرنا پڑے گا جو موسم کی سختی میں بھی کھائے اور ہضم کئے جا سکیں اور روزہ دار کی بھوک اور پیاس کو اس سے سارا دن دور رکھ سکیں۔ سمجھ دار لوگ دہی کا استعمال کرتے ہیں اور مرغن غذاؤں سے پرہیز کرتے ہیں تاکہ روزے سے ہوتے ہوئے وہ اپنے روزمرہ کے کام بنا کسی الجھن اور بوجھ کے کر سکیں۔ ہماری خواتین کو بچوں کا خیال بطور خاص رکھنا چاہیے۔ ماہ رمضان میں ایک ایسی کشش اور کھینچ ہے کہ چھوٹی عمر کے بچے بھی بوقت سحری خودبخود بیدار ہو جاتے ہیں اور روزہ رکھنے پر اصرار کرتے ہیں۔ مائیں ان کی خوشی کا احترام کرتی ہیں اور انہیں ایک دن میں دو روزے رکھنے پر آمادہ کر لیتی ہیں۔ مجھے خوشی ہوتی ہے جب میں اس مبارک مہینے میں اپنی خواتین کا مشاہدہ کرتی ہوں۔ اس مہینے میں دن رات وہ اپنی نیند اور صحت سے لاپرواہی برتتی ہیں۔ سحری و افطار کے ساتھ ساتھ ان کے ذکر و اذکار اور نفلی عبادتیں اس مہینے میں زور پکڑ لیتی ہیں۔ پوری تندہی سے وہ اپنے خالق کی طرف متوجہ ہو جاتی ہیں اور اس ذات بے ہمتا کی برکتوں سے اپنی جھولیاں بھرتی ہیں۔

افطار کے اوقات پر کھانے پینے کا اہتمام خواتین کے لئے زیادہ دقت لئے ہوتا ہے۔ اب ٹھوس اور بھاری غذا کی بجائے سیال مشروب کی طلب ہوگی۔ ایک ہی گھر میں مختلف لوگ مختلف فرمائشیں کرتے ہیں۔ طرح طرح کے مشروب میزوں کی زینت بنتے ہیں تاہم اس بار سکنجین ہی واحد مشروب ہے جو موسم کے تقاضوں پر پورا اترتا ہے۔ مشروب کے بعد دوسری مرغوب چیز بیسن کے پکوڑے ہیں۔ ان کی طلب یقیناًبدن میں نمکیات کی کمی کو پورا کرتی ہے۔ رہا کھانا تو نہ چاہتے ہوئے بھی تھوڑا بہت حلق سے نیچے اتارنا پڑتا ہے۔ لیکن اس بار دھیان رہے کہ پانی اتنا ہی پینا چاہیے جتنا آپ کا بدن مانگے۔ زیادہ پانی خوراک کے انہضام کو متاثر کرتا ہے اور طبیعت کو بوجھل بناتا ہے۔

اس بار مہنگائی نے اگرچہ لوگوں کی کمر توڑ رکھی ہے تاہم اپنی اپنی بساط کے مطابق وہ اس مہینے میں اپنی روح کی مانگ کو پورا کرنے کا جتن ضرور کرتے ہیں۔ اشیائے ضرورت بازار میں وافر موجود ہیں لیکن قوت خرید میں وہ دم نہیں ہے۔ بھلا ہو حکومت کا کہ جس نے رمضان بازاروں کی صورت سفید پوش لوگوں کا بھرم رکھ دیا ہے۔ چیزیں کم معیاری صحیح لیکن دستیاب تو ہیں ناں! گو رمضان کے بابرکت مہینے میں بھی انسانی فطرت اپنی تمام تر پستیوں کے ساتھ ان بازاروں میں دکھائی دیتی ہے۔ ذخیرہ اندوزی، بھاری منافع کا لالچ اور غریبوں کا استحصال اس مبارک و مقدس مہینے میں بھی ان لوگوں کا اشعار ہے جو آخرت بھولے ہوئے ہیں اور اس چند روزہ زندگی ہی کو ابدی زندگی سمجھتے ہیں۔

ماہِ رمضان میں یہ دیکھ کر مجھے خوشی ہوتی ہے کہ مسجدوں کی رونق بڑھ جاتی ہے۔ نئی نسل جسے ہم غیر ذمہ دار اور لاپرواہ سمجھتے ہیں، دین سے اپنی رغبت کا اظہار خوب کرتی ہے۔ ذوق و شوق سے روزے رکھتی ہے اور جوق در جوق نماز تراویح میں شریک ہوتی ہے۔ صاحب ثروت لوگ جو سخی بھی ہیں نادار لوگوں کی مدد خاموشی سے کرتے ہیں، مستحق روزہ داروں کے روزے افطار کراتے ہیں اور ان لوگوں کی احتیاج پوری کرتے ہیں جو منہ سے کچھ نہیں مانگتے۔

میرا یقین ہے کہ اس مہینے میں آسمان سے رحمت اور سکینت اترتی ہے۔ رب کریم کی حلیمی مضطرب دلوں کو سکون آمیز کیفیت سے دوچار کرتی ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان اپنے اپنے ملکوں میں اپنے خالق کا حکم اس مہینے بجا لاتے ہیں اور اپنے سماجی اور ثقافتی رویوں کے تحت سحر و افطار کے لوازمات پورے کرتے ہیں۔ مسلمان چاہے کرّہ شمالی میں ہوں یا کرّہ جنوبی میں، ماہ رمضان کے تقاضوں پر پورا اترتے ہیں۔ مجھے کئی بار بیرون ملک روزے گزارنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے۔ گو وہاں بھی سحر و افطار میں اعزہ و اقارب پاس ہوتے ہیں لیکن جو لطف ایسے موقعوں پر اپنے وطن میں حاصل ہوتا ہے اس کی بات ہی کچھ اور ہے۔ گھروں میں بنائی گئی چیزوں سے افطار میں ایک خاص مزہ ہے جو ریستورانوں اور کھانے پینے کی دوسری جگہوں پر نہیں ملتا۔اس برس کے روزوں سے جو جون کے مہینے میں نازل ہوئے ہیں، انسانی برداشت کے ایک نئے امتحان کا آغاز ہوا ہے۔کچھ برس اب اسی نوع کے دن گزارنا ہوں گے اور پھر سردیوں کے روزے وہ دیکھیں گے جو قسمت اور نصیب والے ہوں گے۔

میری دعا ہے کہ رب کریم ہمیں ماہِ صیام میں روزے رکھنے کی توفیق عطا فرمائے ،ہمیں اپنی رحمتوں اور برکتوں سے نوازے اور ہماری مغفرت فرمائے۔ میں اپنی بزرگ خواتین، ماؤں ،بیٹیوں اور بہووں کے لئے بھی دعا گو ہوں کہ اللہ پاک ان کو ہمت و استقامت بخشے، انہیں حالات کی سختیوں سے دور رکھے اور انہیں اپنے اہل خانہ کے روزوں کے اہتمام کرنے کے لئے صحت اور تندرستی سے نوازے۔

***

مزید :

ایڈیشن 1 -