احتجاجی، مظاہروں، دھرنوں سے نبٹنے کے لئے خصوصی فورس قائم

احتجاجی، مظاہروں، دھرنوں سے نبٹنے کے لئے خصوصی فورس قائم

  

لاہور پنجاب کا صو با ئی دارا لخلا فہ اورپاکستان کا نہایت اہم تاریخی اور اہمیت کا حامل شہر ہے اس شہر میں بہت سی قدیم ،تاریخی ،اہم سرکاری ،نیم سرکاری اور غیرسرکاری عمارات قائم ہیں لاہور میں سیاسی ،مذہبی اور دیگر مکتبہ فکر کے لوگ جلسے جلوسوں اور ریلیوں کا انعقاد کرتے رہتے ہیں جس کی وجہ سے شہرمیں لاء اینڈآرڈر کی صورتحال کوبرقرار رکھنا اب ایک چلنچ بن گیاہے احتجاج کی اس بڑھتی ہوئی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پنجاب نے ترقی کی حکومت کے تعاون سے لاہورمیں برصغیرکی پہلی اینٹی رائٹ فورس تیارکرنے کا فیصلہ کیاہے پنجاب حکومت کے اس منصوبے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے لاہور پولیس کی اعلیٰ قیادت نے لاہور سے چالیس افسران کو بطور ماسٹرٹرینر منتخب کیاجنہیں ترقی نے اینٹی رائٹ کے متعلق بین الاقوامی معیار کی جدید ٹریننگ کراوئی ترقی سے 21 دن کا کورس مکمل کرنے کے بعد پاکستان واپسی پر لاہور پولیس کی اعلیٰ قیادت میں ماسٹر ٹرنیرترقی کے ssp باریش صاحب کی زیرقیادت عباس پولیس لائنزمیں 1100کانسٹیبلان کو اینٹی رائٹس کی جدید ٹریننگ پر مامورکیا ہے ۔ مو جودہ فورس کا مقصد شہر میں بڑ ھتے ہو ئے احتجا ج کو روکنا اور شہر یو ں کو پر امن منتشر کر نا ہے ۔آئے روز کسی نہ کسی نئی فورس کو تو میدا ن میں اتا رنے کے فیصلے سا منے آتے ہیں ۔جو وقت کی ضرورت اور تقا ضا بھی ہے۔ اینٹی رائٹس فورس کے جوانوں نے دوران ٹرنینگ ماسٹرٹرنیرکی زیرنگرانی بہت سی اہم ڈیوٹیاں حا ل ہی می سرانجام دی ہیں۔ اٹک ڈیو ٹی کے دوران اینٹی رائٹس فورس کے افسران اورجوانو ں نے کے پی کے( kpk ) سے آنیوالے مشتعل مظا ہر ین کو روکے رکھا۔جس سے شہر میں امن امان کی صورتحا ل بھی برقرار رہی ۔چکوال ڈیو ٹی کے دوران اینٹی رائٹس فورس کے افسران اور جوانو ں کو چواسید ن شاہ ڈیو ٹی پر ما مور کیا گیا جہا ں سنگین نو عیت کا مذ ہبی مسلۂ درپیش تھا ۔دوران ڈیو ٹی اینٹی رائٹس فورس نے وہا ں امن واما ن برقرار رکھا اور کشید گی کے خا تمے تک ڈیو ٹی پر ما مور رہے اسی طر ح رحیم یا ر خا ں میں بلا ول بھٹو زرداری نے ایک بہت بڑے جلسہ عا م کا اعلان کر رکھا تھا ۔جہا ں لا ء اینڈ آرڈر کے مسلۂ کے درپیش آنے کی تو قع کی جا رہی تھی ۔لہذا افسرا ن با لا کی ہدایت پر اینٹی رائٹس فورس کے جوا نو ں نے اس جلسے کو نہ صر ف کا میا بی سے منعقد کروایا بلکہ شہر میں امن و اما ن کی صورتحا ل کو بھی برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔

اینٹی رائٹس فورس کے قیا م سے قبل لاء اینڈ آرڈر کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے تھا نہ جا ت سے نفر ی طلب کی جا تی تھی جس کی وجہ سے شہر میں جرائم کی شر ح اور وردا ت میں اضا فہ معمو ل تھا لیکن اب اس اینٹی رائٹس فورس نے لا ہو ر میں با قا عدہ کا م شروع کر دیا ہے ۔جس سے شہر میں امن وامان کی صورتحال میں ب بہتر ی آئی ہے ۔اور جرائم کی شر ح میں بھی نما یا ں کمی واقع ہو ئی ہے ۔

اینٹی رائٹس فورس نے پنجا ب یو نیو رسٹی میں طلبہ تنظیمو ں کے تصادم کے دورا ن امن و اما ن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ۔اس کے علا وہ تھانہ شا د با غ پر مشتعل مظا ہر ین کے حملے کو نہا یت پیشہ وارانہ انداز میں روکا ۔ اور تھا نہ شا د با غ کا دفا ع کیا۔9مئی کو منعقد ہو نیو الی ٹیچرز ریلی کے دوران بھی اینٹی رائٹس فورس کے جوا نو ں نے محنت اور دیا نت داری سے ڈیو ٹی کے فرا ئض سر انجا م دیے جسے افسرا ن با لا نے نہ صر ف خو ب سرا ہا بلکہ اینٹی رائٹس فورس کے جوا نو ں کو انعا ما ت سے بھی نوازنے کا اعلا ن کیا ۔ ایک سروے رپورٹ کے مطا بق اینٹی رائٹس فورس کے افسرا ن اور جوان پور ی محنت اور دیا نت داری کے سا تھ ڈیو ٹی سر انجا م دے رہے ہیں ۔اور شہر میں امن و اما ن سے متعلق کسی بھی غیر معمو لی سورتحال سے نمٹنے کے لیے ہر وقت تیا ر رہتے ہیں ۔حکو مت پنجا ب نے اینٹی رائٹس فورس کو جدید سا زو سا ما ن اور ہتھیا رو ں سے لیس کیا ہے ۔تا کہ ہر قسم کی صورتحا ل کا سا منا کیا جا سکے ۔ مستقل قر یب میں اینٹی رائٹس فورس میں مز ید افسرا ن اور جوا نو ں کو شا مل کیا جا ئے گا اس فورس کے جوا نو ں کے لیے علحید ہ ہیڈ کواٹر تعمیر کیا جا رہا ہے ۔جہا ں ملا زمین کو رہا ئش سمیت تما م سہو لیا ت میسر ہو نگی ۔ ایس پی اینٹی رائٹس فورس محمد نوید کا کہنا ہے کہ ان کی دعا ہے کہ یہ فورس محنت ،ایما نداری اور لگن سے کا م کر ے اور لا ہور پو لیس کا اور اینٹی رائٹس یو نٹ کا نا م روشن کر ے ۔ حکو مت کا یہ منصوبہ یقیناً ار بو ں روپے کی لاگت سے مکمل ہو گا ۔ نو جو انو ں کو روز گا ر تو اس سے ملے گا ۔ تا ہم ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک میں بڑھتے ہوئے ہنگا مے اور احتجا جی کا رروائیوں کو کیسے روکا جا ئے ۔ حقیقت میں ہمارے یہاں قومی اور حکومتی سطح پر نوجوانوں کی ذہن سازی اور کردار کی تشکیل ایسے اہم ترین کام پر اس طرح توجہ ہی نہیں ہے جس طرح ہونی چاہیے۔ اب سے اڑھائی تین عشرے پہلے تک اسکول، کالج اور یونی ورسٹی میں خصوصاً ایسے اساتذہ ہوا کرتے تھے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ ایسی سرگرمیوں کا بالالتزام اہتمام کیا جاتا تھا جو نوجوانوں کی ذہن سازی میں مفید ثابت ہوتی تھیں۔ یہی نہیں بلکہ سماجی سطح پر بھی عموماً ایسے ادارے اور افراد نمایاں طور سے موجود تھے جو یہ کام پوری ذمے داری سے کرتے تھے۔ آج ہمارے تعلیمی اداروں کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے۔ سرکاری اداروں میں اساتذہ کی سفارشی اور سیاسی بھرتیوں نے ان کی حیثیت اور کردار کو بالکل ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔ اب وہاں کردار سازی تو کیا ہوگی خود تعلیم ہی ابتری کے حال کو پہنچی ہوئی ہے۔دوسری طرف تعلیم کمرشیلائزڈ ہونے کے بعد وہ ادارے سامنے آئے ہیں جہاں اساتذہ اور طلبہ کا وہ رشتہ نہیں رہا جو ہونا چاہیے۔ پہلے اساتذہ راہ نما، مددگار اور نگراں ہونا پسند کرتے تھے۔ آج ان اداروں کے طلبہ اور اساتذہ میں آجر اور اجیر کا رشتہ اور دوستی کی فضا ہے۔ آج ایسے بیشتر اداروں میں درس و تدریس سے وابستہ اکثریت ایک ڈاکیے کا سا کردار ادا کرتے ہوئے کتابوں سے معلومات لے کر طلبہ تک پہنچانا کافی سمجھتی ہے۔ پہلے اساتذہ علم دیتے تھے جو شخصیت کی تعمیر کرتا تھا۔ آج اساتذہ ڈگری دلاتے ہیں جو ملازمت یا معاش کے حصول میں کام آتی ہے۔

آج ہمیں صرف مذہب کے نام پر دہشت گردی کا سامنا نہیں ہے۔ ہمارے یہاں روشن خیال، لبرل اور سیکولر رجحانات بھی اِسی شدت پسندی کا اظہار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جو طالبان سے مخصوص ہے۔ عدم برداشت کے رویے نے ان رجحانات کے فروغ اور شدت دونوں میں اضافہ کیا ہے۔ ہمیں نوجوان نسل کی بے راہ روی پر تشویش تو ہے، لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ اْن کے بھٹکنے میں ہماری قومی صورتِ حال نے کتنا غیرمعمولی کردار ادا کیا ہے۔ نئی نسل کو آج اپنے قومی شعور اور تہذیبی قدروں کی طرف واپس لانا دشوار تو بے شک ہے، لیکن ناممکن بہرحال نہیں ہے۔ اس قوت کو موٗثر انداز میں واپس مرکزی دھارے میں لانے کے لیے بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہم اْسے قومی شعور کا حامل متبادل بیانیہ پیش کریں۔ اس بیانیے کی تشکیل و ترسیل میں قومی ادارے اور سماجی ذرائع سب اپنا حصہ ادا کریں۔ آج سیا ست دا نو ں نے نو جوانو ں کی فلا ح و تعمیر کر نے کی بجا ئے انھیں مظا ہرو ں اور احتجا جو ں کی طر ف دھکیل دیا ہے ۔مرحلہ جنگ کا ہو یا سماجی تبدیلی کا، تہذیب کی بقا کا ہو یا ثقافت کے فروغ کا، فلاح و تعمیر کا ہو یا تخریب و یورش کی مدافعت کا، آزادی کی جستجو ہو یا دفاع کی مہم، یہ طے ہے کہ قوموں کی زندگی میں نوجوان ہمیشہ ایک موثر قوت کا کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ افسوس حکومتی سطح پر اس قوت کو مفید طریقے سے استعمال میں لانے کے لیے اقدامات تو رہے ایک طرف، قاعدے سے منصوبہ بندی تک نہیں کی گئی۔ ایسا نہیں کہ اس قوت نے ہمارے یہاں اس عرصے میں اپنے وجود کا احساس نہیں دلایا۔ یقیناًدلایا ہے، بابائے اردو کے جلوسوں سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو اور عمران خان کے جلسوں تک ہم اس قوت کے قابلِ لحاظ وجود کو دیکھتے آئے ہیں، لیکن ہمارے یہاں اس کا استعمال اْس طرح نہیں ہوا جیسا کہ ہونا چاہیے تھا۔ آج جب پا کستا ن میں احتجا ج بھی ایک کا روبا ر کی شکل اختیا ر کر گئے ہیں تو ایسے میں اس طر ح کی فورس کا وجود بھی نا گز یر ہو گیا ہے ۔ جس پر ارباب اختیا ر نے اس فورس کے قیا م کو ضروری تصور کیا ہے ۔ فی الحا ل یہ فورس لا ہور سے عمل میں لا ئی گئی ہے ۔وقت کے سا تھ اس کی کامیا بی کی صورت میں اس کی تعداد اور استعا عت بڑ ھائی بھی جا سکتی ہے ۔ ہم آپ کو یہ بتا تے چلیں کہ اینٹی رائٹس فورس کی نگرا نی کی زمہ داری ایک ایس پی عہدے کے پو لیس افسر کو دی گئی ہے جو پیشہ وارانہ مہارت محنت اور لگن کے حا مل افسر قرار دیے جا تے ہیں۔ بطور ایس پی سٹی ان کے تین سا ل بھی مثا لی تھے تا ہم آنیوالے وقتو ں میں جب فورس بڑھا دی جا ئے گی تو زمہ دا ری کے لئے یہ فورس کسی اس سے بڑھے افسر کے ماتحت بھی کی جا سکتی ہے ۔

مزید :

ایڈیشن 2 -