مستقل کے معماروں کا مستقبل خطرے میں

مستقل کے معماروں کا مستقبل خطرے میں

  

کرائم سٹوری

(محمد ارشد شیخ بیوروچیف )

سماج کے نام نہاد ٹھیکیداروں کی طرف سے بڑی ڈھٹائی سے کہا جاتا ہے کہ ہم معاشرتی اقتدار و احیاء کے تحفظ کے امین ہیں اور ہماری کوششوں سے معاشرہ بہتری اور بھلائی کی جانب گامزن ہے ، ارباب اختیار معاشرتی ترقی کے دعوؤں میں بے شرمی کی ساری حدیں پھلانگ کر بھی کہتے ہیں کہ معاشرہ مثبت سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، نام نہاد اصلاح کا ر کہتے ہیں ہمارا یہ اٹھایا گیا ایشو فلاں فلاں مثبت تنائج مرتب کرنے کا سبب ثابت ہوا ہے اب سوال یہ ہے کہ ان دعوؤں اور بیانات کی حقیقت کیا موجودہ معاشرتی صورتحال سے کسی طرح مطابقت رکھتی بھی ہے یا بات فقط دکھلاوا اور طفل تسلیوں تک محدود ہے لہذاٰ حقائق نہایت خوفناک اور دل دہلادینے والے ہیں ، خصوصاً مستقل کے معماروں کا اپنا مستقبل خطرے میں ہے ، تعلیم وہنر کے مواقعوں کا پہلے ہی فقدان ہے ، ذرائع روزگار تیزی سے کم ہورہے ہیں اور بعض سفاکانہ ذہنیت کے حامل لوگ نو عمر لڑکے لڑکیوں کو دہشت گردی جیسے مذموم مقاصد کی تکمیل کیلئے استعمال کررہے ہیں جبکہ ایک قبیح جرم بچوں پر جنسی تشدد کا بڑھتا رجحان بھی ہے جس کی شرح گزرتے وقت کیساتھ ساتھ تیزی سے بڑھ رہی ہے، بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والی غیر سیاسی تنظیم ساحل کی طرف سے بچوں پر جنسی تشدد کی جاری کردہ رپورٹ میں رونگٹے کھڑے کردینے والے انکشافات کئے گئے ہیں اور یہ واقعات کسی مخصوص علاقے ، مخصوص شعبے یا مخصوص لوگوں کی طرف سے نہیں بلکہ جامعات ، ہسپتالوں، ہوٹلز، ورکشاپوں، کلینکس ، کالجز ، فیکٹریز، جیل، پولیس اسٹیشنز ،شادی ہالز حتیٰ کہ قبرستانوں تک میں یہ شیطانی فعل کوسرزد کیا گیا، ’’ساحل‘‘ کے ریجنل کوآرڈینیٹر عنصر سجاد بھٹی اور دیگر عہدیداران میں شامل عاطف عدنان خان ایڈووکیٹ اور عفت سعید ایڈووکیٹ کی مرتب کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2016میں کل 4139بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا جو گزشتہ شرح سے 10فیصد زائد ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ روزانہ 11بچے پاکستان میں جنسی تشدد کا نشانہ بنتے ہیں جن میں کم عمری کی شادیوں کے 145واقعات جبکہ 16واقعات میں کم عمر بچیوں کو ونی کیا گیا ، 37بچے بچیوں کو جامعات میں جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا،رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بچوں پر جنسی تشدد کے سب سے زیادہ واقعات پنجاب میں رپورٹ ہوئے جن کی تعداد 2676ہے ، سندھ میں 987، بلوچستان میں 166، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 156، خیبر پختون خواہ میں141، گلگت بلتستان میں 4اور آزاد کشمیر میں 9بچیوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور اگر ضلع شیخوپورہ کی بات کی جائے تو شیخوپورہ میں جنسی تشد د کا نشانہ بننے والے بچوں کی تعداد2016میں 224ہے ، اسی طرح سال 2016 جنوری تا جون کے دوران بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات کی جاری کردہ رپورٹ ’’ظالم اعددا‘‘ کے مطابق 2127 بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، رپورٹ کے مطابق سال2016جنوری تاجون کے دوران 1277بچیاں جبکہ 850بچے جنسی تشدد کا شکار ہوئے۔پنجاب میں کل 1335بچے ، صوبہ سندھ 521بچے ، بلوچستان 96بچے ، وفاقی دارلحکومت اسلام آباد79بچے، خیبر پختونخواہ 88بچے ، گلگت بلتستان2بچے جبکہ آزاد کشمیر میں 6بچے جنسی تشدد کا نشانہ بنے، رپورٹ میںیہ مطالبہ بھی کیا گیا ہے کہ بچوں کو جنسی تشد سے بچاؤ کیلئے آگاہی مہم موثر حکمت عملی کے تحت چلائی جائے۔ حکومت بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے چائلڈ پروٹیکشن بل فوری طور پر پاس کرے، جنسی تشدد سے متاثرہ بچوں کی بحالی کیلئے موثر سپورٹ سسٹم قائم کیے جائیں،بچوں کی حفاظت پر مبنی پیغامات کو بچوں کے نصاب کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے، وفاقی کابینہ کے منظور کردہ نیشنل ایکشن پلان کے مطابق بچوں کا بے جا استعمال اور احتصال فوری بند کیا جائے اور متعلقہ ادارے اس پرعمل درآمد یقینی بنائیں ، مذکورہ رپورٹ میں بیان کردہ انکشافات بلاشبہ معاشرے کے اجتماعی ضمیر پر سوالیہ نشان ہیں تو دوسری طرف اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنسی تشدد کی روک تھام کے سلسلہ میں موثر میکنزم موجود نہیں جس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، بچوں کو جنسی تشدد سے بچانے کیلئے آگاہی مہم موثرچلانے اور نئے قوانین بنانے سمت نافذ شدہ قوانین میں مزید بہتری لانے کی ضرورت ہے جبکہ متاثرہ بچوں کی بحالی کیلئے موثر سپورٹ سسٹم کا قیام ناگزیر ہے تاکہ بچوں کے تحفظ کے سلسلہ میں باقائدہ نصابی کتب میں اس مسئلہ کو اجاگر کیا جائے اور وفاقی کابینہ کا منظور کردہ بچوں پر جنسی تشدد کے متعلق نیشنل ایکشن پلان کے جزویات پر عملدر آمد یقینی بنایا جائے تاکہ بچوں پر جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات کی روک تھام ممکن ہوسکے ،مذکورہ رپورٹ کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جہاں ہم بطور معاشرہ اور بہت سی خرافات کا شکار اور جرائم میں گھرے ہوئے ہیں وہاں بچوں پر جنسی تشدد کا معاملہ بھی بری طرح گلے پڑا ہوا ہے حالانکہ یہ معاشرتی برائی بھی ہے اور اسلام بھی اسے کبیرہ قرار دیتا ہے جبکہ ملکی قوانین میں اس کی سخت سزائیں بھی موجود ہیں مگر اس کے باوجود بچوں پر جنسی تشدد کے واقعات کی شرح میں ہرسال اضافہ پایا جانا یقیناًلمحہ فکریہ ہے، واضح رہے کہ بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنیوالی تنظیم ساحل نے 1996میں یہ ڈیٹا مرتب کرنے کا کام شروع کیا اور ہر سال اپنی رپورٹ شائع کرنے سمیت میڈیا ہاؤسز اور اخبارات کے دفاتر کوپہنچاتی ہے اور یہ رپورٹ اخبارات و جرائد اور پرنٹ میڈیا کے توسط سے حکومتی شخصیات ، ارباب اختیار اور متعلقہ اداروں سمیت عام عوام تک بھی پہنچتی ہے مگر لگتا ہے اسے کبھی سنجیدہ نہیں لیا گیا یہی وجہ ہے کہ بچوں پر جنسی تشدد کے بڑھتے واقعات کی روک تھام کیلئے کوئی موثر حکمت عملی ابھی تک سامنے نہیں آئی، اکا دکا واقعات کو وقتی طور پر اٹھایا جاتا ہے اور پھر کچھ دیر کے شور وغل کے بعد تمام چیزیں منظر نامے سے اوجھل ہوتی چلی جاتی ہیں ، کہنے کو قوانین بھی موجود ہیں مگر عملدر�آمد کا فقدان پایا جاتا ہے، جس معاشرے میں بچے گھروں، ہسپتالوں، تعلیمی اداروں اور مساجد و جامعات تک میں محفوظ نہیں وہ معاشرہ کن اقدار و احیاء کی بات کرنے کا اہل ہے، صورتحال اس قدر تشویشناک ہے کہ بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانے والوں میں تقریباً ہر عمر و نسل اور طبقے و علاقے کے لوگ شامل ہیں جو اجتماعی معاشرتی تباہی کا کھلا اظہار ہے ، لہذاٰ مذکورہ صورتحال تعجب اور تشویش کے اظہار سے کہیں بڑھ کر خوفناک ہے جس کے تدارک کیلئے فقط حکومت سے مطالبات اور اقدامات کی اپیلوں تک محدود رکھی نہیں جاسکتی ، احوال حاضر کا تقاضا ہے کہ ہم بچوں کو جنسی تشدد کے حوالے سے آگاہ کرنے سمیت ایسے عناصر کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں جو اس جرم میں ملوث پایا جائے معافی تلافی یا بدنامی کے ڈر سے منہ بند رکھنا مسئلے کا حل نہیں جبکہ بطور معاشرہ ہمیں اپنا اجتماعی کردار ادا کرتے جنسی تشدد کی روک تھام کیلئے کام کرنیوالے سماجی اداروں اور این جی اوز کا ساتھ دینا ہوگا تاکہ موثر اور بھرپور آواز اٹھائی جاسکے اور اس سلسلہ میں مجموعی موقف کھل کر سامنے آسکے، ہونا تو یہ بھی چاہئے کہ پنجاب حکومت دیگر حکومتی منصوبوں کی طر ح اس اہم ایشو پر بھی توجہ دے کیونکہ پنجاب پاکستان میں بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں پہلے نمبر ہے اور بلاشبہ بچوں سے جنسی زیادتی پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ ہے جس سے عالمی سطح پر بھی ملکی امیج خراب ہو رہا ہے اور اس میں بھی دو رائے نہیں کہ بچوں کو ہر طرح کا تحفظ فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے اور چونکہ جنسی زیادتی کے بڑھتے ہوئے واقعات سے عالمی سطح پر ہمارا چہرہ مسخ ہو رہا ہے اس کے باوجود اس سلسلہ میں موثر اقدامات کا فقدان دکھائی دے رہا ہے اور دیکھا جائے تو بچوں سے جنسی زیادتی کے واقعات میں اضافے کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ جو بچے گھروں بھاگ جاتے ہیں وہ ایسے گروہوں کے ہاتھ لگ جاتے ہیں جو بچوں کو مسلسل زیادتی کانشانہ بنتے ہیں اور اس تناظر میں ارباب اختیار کا فوکس ان گروہوں پر بھی ہونا چاہئے جو بچوں کو بھیک مانگنے اور جنسی زیادتی پر مجبورکرتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیخوپورہ:محمد ارشد شیخ

بیوروچیف روزنامہ ’’پاکستان‘‘

مزید :

ایڈیشن 2 -