رمضان المبارک میں چوری ڈکیتی ‘ قتل وغارت گری کی وارداتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو گیا ہے

رمضان المبارک میں چوری ڈکیتی ‘ قتل وغارت گری کی وارداتوں میں بے تحاشا اضافہ ...

  

گجرات میں قتل و غارت گری کا بازار گرم ہے قتل کی وارداتوں میں جب پولیس تفتیش کرتی ہے تو اس شعر کا متبادل نظر آتا ہے ‘ دیکھا تو تیر کھا کے کمین گاہ کی طرف ‘ تو اپنوں سے ہی ملاقات ہو گئی ‘ گجرات میں قتل ہونیوالی 95فیصد وارداتوں کے پیچھے خواہ وہ اندھے قتل ہو یا نامزد اپنوں کا ہی ہاتھ ہوتا ہے کہیں بھتیجے نے چچی سے عشق کیا اور چچی نے کسی اور سے عشق میں اندھا ہو کر بھتیجا کو زہر کا ٹیکہ لگا کر موت کے گھاٹ اتار دیا کچھ ایسا ہی ایک واقعہنیامت پورہ میں پیش آیا جہاں پراسرار طور پر قتل ہونیوالے نوجوان کے مقدمہ میں گرفتار حقیقی چچی نے دوران تفتیش انکشاف کیا ہے کہ بھتیجے کے بعد وہ اپنے خاوند کو بھی ٹھکانے لگانے کا پروگرام بنا چکی تھی تاہم پولیس کی مداخلت کے باعث اسکا منصوبہ ادھورا رہ گیا ہے تفتیشی آفیسر کے مطابق محلہ نیامت پورہ کے رہائشی نوجوان مقتول سمیع اللہ کے بازو پر چچی اور چچی کے بازو پر مقتول بھتیجے کا نام درج تھا ملزمہ کے مطابق اس نے سمیع اللہ کو قتل کرنے کیلئے ڈاکٹر طارق کو پچاس ہزار روپے دیے اور اسے اپنے کیے پر کوئی شرمندگی نہیں تاہم وہ اپنے دو بچوں کا مستقبل تباہ ہونے پر افسردہ ہے 34سالہ ملزمہ ناظمہ بی بی کے مطابق وہ اپنے مقتول بھتیجے سے محبت کرتی تھی اور اسے بے وفائی پر قتل کیا یہ امر قابل ذکر ہے کہ سمیع اللہ کی پراسرار ہلاکت کے بعد اسکی نعش گھر کے قریب سے برآمد کی گئی تھی مقتول کی چچی کو شامل تفتیش کرنے پر کئی راز افشا ہو گئے پولیس نے ملزم کو جیل منتقل کر دیا اس سے قبل بھی ایسی قتل کی پے در پے وارداتیں ہوئی ہیں جنہیں سن کر انسانی روح کانپ جاتی ہے بیدری کے ساتھ قتل و غارت گری کے واقعات کا گجرات میں پے در پے ہونا پولیس کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہیں بوری بند نعش ملنے پر مسلم لیگ ق کے چیئرمین یونین کونسل 6سلیم کمبوہ اور ان کے بھتیجے آصف کمبوہ کو حراست میں لیا گیا کچھ عرصہ قبل تھانہ اے ڈویژن کے علاقے میں سیوریج نالے سے ٹکڑوں میں بٹی ہوئی ایک نامعلوم شخص کی نعش برآمد کی گئی جس کے ڈی این اے ٹیسٹ میں اسکی شناخت عمران کمبوہ کے نام سے ہوئی مقتول کو بدترین تشد دکے بعد قتل کر کے نعش کے ٹکڑے کیے گئے تھے ڈی پی او سہیل ظفر چٹھہ کے حکم پر جاری تحقیقات کے دوران پولیس نے چیئرمین سلیم کمبوہ جو ان کے بھتیجے آصف کمبوہ سمیت حراست میں لیکر تحقیقات شروع کر دی ہیں سلیم کمبوہ کے اہل خانہ کا موقف ہے کہ انہیں تھانہ اے ڈویژن میں اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ نجی کام کے لیے پولیس اسٹیشن پہنچے تھے اسی طرح تھانہ کنجاہ کے علاقے منگوال کے نواحی گاؤں کوٹ گھگہ میں ہوئی جہاں پر نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کر کے میاں بیوی اور ان کے بیٹے کو موت کے گھاٹ اتار دیا ویسے تو رمضان المبارک رحمتوں اور برکتوں کا مہینہ ہے اور اس مہینے میں شیطان کو جکڑ دیا جاتا ہے مگر جب انسان ہی خود شیطان بن جائے تو اسے کون جکڑے اس کے لیے فوجداری قانون موجود ہیں یہ امر قابل ذکر ہے کہ رمضان المبارک میں قتل وغارت گری ‘ ڈکیتی ‘ چوری اور راہزنی کی واردتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو جاتا ہے جس کی سمجھ نہ پولیس کو آئی ہے تو دیگر قانون نافذ کرنیوالے ادروں کو آتی ہے ماہ رمضان المبارک کے آغاز پر تھانہ کنجاہ کے نواحی گاؤں کوٹ گکھہ میں ایسے ہی درندہ صفت افراد کی طرف سے خون کی ہولی کھیلی گئی جس میں ایک ہی گھر کے تین افراد ماں باپ اور ان کے جوانسالہ بیٹے کوبیدری کے ساتھ موت کے گھاٹ اتار دیاگیا فیاض احمد اسکی بیوی سکینہ بی بی اور بیٹا سجاد حیدر رات گئے گہری نیند سو رہے تھے جب مسلح افراد نے ان کے گھروں کی دیواریں پھلانگیں اور ان پر گولیوں کی بارش کر دی جس سے فیاض احمد موقع پر ہی دم توڑ گیا جبکہ اسکی اہلیہ اور جوانسالہ بیٹا زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہسپتال میں دم توڑ گئے پولیس نے مقتول فیا ض احمد کے دامان عرفان ارشد کی رپورٹ پر نامزد ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کر کے تحقیقات شرو ع کر دی گئی ہیں مقتولین کو مقامی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا مقتول فیاض احمد کے دو بیٹے بسلسلہ روزگار بیرون ملک مقیم ہیں پولیس محرکات کا جائزہ لینے کے لیے مختلف پہلوؤں پر تفتیش کر رہی ہے مقدمہ کے مدعی عرفان ارشد کے مطابق وہ اپنی بیوی شازیہ اور مقتولہ سکینہ بی بی کا چچا زا د بھائی محمد اسلم بھی گھر میں موجود اور علیحدہ کمروں میں سوئے ہوئے تھے کہ ملزمان نے ان کے گھر میں داخل ہو کر اندھادھند فائرنگ کر دی فائرنگ کی آواز سے پورا علاقہ گونج اٹھا ودسری طرف نامزد ملزمان نے خود کو بیگناہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انکا قتل کی واردات سے کوئی تعلق نہیں ہے اس لرزہ خیز قتل کی واردات میں 8بچے یتیم ہو گئے ہیں مقتول فیاض احمد ایک بیٹی اور تین بیٹوں کا باپ جبکہ سجاد حیدرتین بیٹیوں اور دو بیٹوں کا باپ تھا ایف آئی آر کے مطابق مرکزی ملزم افضال عرف بھگو اور مقتول فیاض احمد کے درمیان چند یوم قبل معمولی بات پر تلخ کلامی ہوئی جس پر ملزم نے اپنے دیگر چار ساتھیوں کے ہمراہ ایک ہی گھر کے تین افراد کو قتل اور 8بچوں کے سر سے سایہ شفقت چھین لیا گجرات کے معروف ترین چوک جہاں نصف شب کو بھی دن کا سماں ہوتا ہے میں ایک چوک پاکستان میں واقع کرنسی ایکسچینج میں معروف تاجر خان شبیرخان کی کرنسی ایکسچینج کی دوکان میں سب سے پہلی واردات کے دوان نامعلوم چوروں نے چھت پھاڑکر لاکھوں روپے مالیت کی ملکی و غیر ملکی کرنسی لوٹ لی اور فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھانہ بی ڈویژن پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے مرکزی انجمن تاجران کے سرپرست حاجی ارشد محمود اور جنرل سیکرٹری ملک جاوید اختر اعوان نے واقعہ کی بھر پور مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ تاجروں کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جائے چوروں کو فوری طور پر کٹہرے میں کھڑا کر کے لوٹا ہوا مال واپس نہ دلایا گیا تو تاجر برادری احتجاج پر مجبور ہو جائیگی میئر گجرات حاجی ناصر محمود اور ایم پی اے حاجی عمران ظفر نے بھی واقعہ کی مذمت کی ہے۔

مزید :

ایڈیشن 2 -