داعش کیخلاف جنگ میں شہریوں کی ہلاکتیں ناگزیر ہیں،جیمز میٹس

داعش کیخلاف جنگ میں شہریوں کی ہلاکتیں ناگزیر ہیں،جیمز میٹس

  

واشنگٹن(آن لائن)امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس نے کہا ہے کہ داعش کے خلاف جنگ میں شہریوں کی ہلاکتیں ناگزیر ہیں لیکن اس کے باوجود امریکا عام شہریوں کی ان ہلاکتوں سے بچنے کے لیے انسانی طور پر ہر ممکن اقدام کررہا ہے۔ شہریوں کی ہلاکتیں اس طرح کی صورت حال میں زندگی کی ایک حقیقت ہیں ایک انٹرویو میں امریکی وزیر دفا ع کا کہنا تھا کہ ہم شہریوں کی زندگیوں کو بچانے کے لیے انسانی طور پر ہر ممکن اقدام کرتے ہیں اور کسی بھی قیمت پر شہریوں کی ہلاکتوں سے بچنے کی کوشش کی جاتی ہے انہوں نے کہا کہ امریکا کی قیادت میں داعش مخالف اتحاد میں شامل ممالک کے لڑاکا طیارے سنہ 2014ء4 سے شام اور عراق میں اس سخت گیر جنگجو گروپ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کررہے ہیں۔ان حملوں میں جنگجوؤں کے علاوہ عام شہریوں کی بھی ہلاکتیں ہورہی ہے۔بعض غیر سرکاری تنظیموں ( این جی اوز ) اور انسانی حقوق کے گروپوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد داعش کے خلاف حملوں میں تیزی کو شہریوں کی زیادہ تعداد میں ہلاکتوں کا ایک سبب قرار دیا ہے۔ امریکا کی قیادت میں اتحاد نے سرکاری طور پر داعش کے خلاف گذشتہ قریباً تین سال سے جاری مہم کے دوران میں ساڑھے چار سو سے زیادہ ہلاکتوں کی ذمے داری قبول کی ہے۔

ان میں 105 شہری عراق کے شمالی شہر موصل میں 17 مارچ کو ایک حملے میں مارے گئے تھے مگر امریکا نے اس فضائی حملے کا یہ جواز پیش کیا تھا جو مکانات فضائی بمباری میں ہدف بنے تھے ،وہاں داعش نے اسلحہ چھپا رکھا تھا۔

مزید :

عالمی منظر -