اسرائیل ‘ دیواربراق تک رسائی کیلئے ریل کار کے نئے منصوبے پر کام شروع

اسرائیل ‘ دیواربراق تک رسائی کیلئے ریل کار کے نئے منصوبے پر کام شروع

  

مقبوضہ بیت المقدس (اے این این)اسرائیلی حکومت نے مسجد اقصی اور مقدس مقام میں واقع دیوار براق تک یہودیوں کی براہ راست رسائی کے لیے ریل کار کے ایک نئے منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیرسیاحت یاریو لیوین نے کابینہ میں ایک نیا بل پیش کیا ہے جس میں حرم قدسی کو فضائی ٹرین(ریل کار)سے منسلک کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اسرائیلی کابینہگزشتہ روز ہونے والے اجلاس میں اس پر بحث کرے گی جس کے بعد اسے منظور کیا جائے گا۔ دیوار براق تک یہودیوں کی براہ راست رسائی کے مزکورہ ریل کار منصوبے کی تکمیل کے نتیجے میں ہرہفتے 1 لاکھ 30 ہزار یہودیوں کو مسجد اقصی تک پہنچنے کا موقع ملے گا۔اخباری رپورٹ کے مطابق مستقبل میں تیار ہونے والے ریل کار منصوبے کا ایک اسٹیشن جبل الزیتون ہوگا اور دوسرا مسجد اقصی کے مراکشی دروازے سے ملایا جائے گا۔ اس دوران یہ ریل گاڑی فضا سے سفر کرے گی اور پورے بیت المقدس کا نظارہ ممکن ہوجائے گا۔منصوبے کے مطابق ریل کار کے فضائی روٹ کی لمبائی 1400 سو میٹر ہوگی جس میں 40 بوگیاں ہوں گی۔ ہر ڈبے میں 10 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش ہوگی جو 21 کلو میٹر فی گھنٹہ کی روفتار سے چلے گی۔یہ ریل گاڑی چار اسٹیشنوں سے گذرے گی۔ اس کا پہلا پڑا ریلوے اسٹیشن ہوگا۔ اس کے بعد شاہراہ ھمفکید اسٹیشن، جبل صہیون اور دیوار براق اسٹیشن۔ اس میں سفر کرنے والے یہودیوں کو ایک عام بس کے مساوی ٹکٹ ادا کرنا ہوگا۔مسجد اقصی تک ریل کار کا منصوبہ نیا نہیں۔ اس کیبارے میں خبریں پہلے بھی آچکی ہیں۔ فرانس کی ایک تعمیراتی کمپنی اس کا ٹھیکہ لینے کے بھی تیار تھی تاہم فرانس میں سیاسی دبا کے بعد کمپنی کو فیصلہ واپس لینا پڑا۔اسرائیل میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی اس منصوبے کی مخالفت کی جاتی ہے۔ مخالفت کی وجہ مختصر فاصلے پرریل کا ٹریک بچھانے کے لیے دیو ہیکل ستون کھڑے کرنا بتایا جاتا ہے، مذہبی حوالے سے یہ ایک حساس معاملہ ہے کیونکہ پرانے بیت المقدس میں عیسائیوں اور یہودیوں کی بھی متعدد عبادت گاہیں اس ٹریک کی زد میں آ رہی ہیں۔اگرچہ اسرائیلی وزارت سیاحت اس منصوبے کے لئے عوامی اور سیاسی سطح پر لابنگ کررہی ہے۔ وزارت سیاحت کا کہنا ہے کہ ریل کار کا منصوبہ بیت المقدس کے تمام باشندوں کے لیے یکساں مفید ہے۔

اس منصوبے کی تکمیل سے مقامات مقدسہ تک رسائی آسان ہوگی اور وقت کی بچت ہوگی۔ زمینی راستوں پر رش کم ہوگا اور ٹرانسپورٹ پر دبا میں بھی کمی آئے گی۔

مزید :

عالمی منظر -