کوہاٹ ،کوتل پلازہ8 سال میں بھی مکمل نہ ہوسکا

کوہاٹ ،کوتل پلازہ8 سال میں بھی مکمل نہ ہوسکا

  

کوھاٹ (بیورو رپورٹ) کوتل پلازہ تعمیراتی منصوبہ 8 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہو سکا ٹھیکیدار مقررہ وقت پر پلازے کی تعمیر کرنے میں ناکام‘ نکاسی آب کا سسٹم نہ ہونے کی وجہ سے عمارت کی بنیادیں کھوکھلی ہونے کا خطرہ‘ نامکمل عمارت کے باوجود ٹی ایم اے نے اپنا 25 فیصد حصہ دکانداروں سے وصول کر لیا تفصیلات کے مطابق BOT اصول کے تحت زیر تعمیر کوتل پلازے پر تعمیراتی کام کے آغاز کو 8 سال سے زائد عرصہ ہونے کو آ رہا ہے مگر تاحال پلازہ 100 فیصد مکمل نہ ہو سکا البتہ نامکمل پلازے کے کئی بلاک فروخت کر کے ٹی ایم اے نے اپنا 25 فیصد حصہ وصول کر لیا جبکہ پلازے کے کنٹریکٹر کو بھی نامکمل پلازے سے کروڑوں کی وصولی ہو گئی پلازے میں سہولیات کی عدم فراہمی کی وجہ سے کئی افراد نے دکانیں لینے کے بعد مارکیٹ میں کاروبار کرنا گوارہ نہ کیا اور بین الاقوامی معیار کے زیر تعمیر پلازہ سبزی‘ فروٹ اور کباڑ کے کاروبار کے لیے فائدہ مند ثابت ہو رہا ہے سینکڑوں دکانوں پر مشتمل پلازے میں نہ توپینے کے صاف پانی کا کوئی انتظام ہے اور نہ کوئی واٹر ٹینک تعمیر کیا گیا ہے اسی طرح پلازے میں باقاعدہ مسجد کی تعمیر کرنا بھی گوارہ نہ کی گئی جبکہ نکاسی کا نظام نہ ہونے کی وجہ سے پلازے کی بنیادیں کھوکھلی ہونے کا اندیشہ ہے جو خدانخواستہ کسی حادثے کا باعث بھی بن سکتا ہے دوسری جانب پلازے کے سامنے ٹی ایم اے افسران کی مہربانی سے چھابڑی والوں کا قبضہ ہے تو پلازے کا اندرونی حصہ تاحال پختہ نہ کیا جا سکا اور کئی سالوں سے پارکنگ ایریا میں تعمیراتی میٹریل بھی پڑا ہوا ہے شہریوں نے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا اور ڈائریکٹر اینٹی کرپشن سے اپیل کی ہے کہ وہ ذاتی طور پر اس کیس کی انکوائری کریں کہ اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمین پر 33 سالوں کے لیے کنٹریکٹر کو حصہ دار بنانے کے باوجود پلازے کی تعمیر کیوں مکمل نہیں کی جا رہی اور ٹھیکیدار کی پشت پناہی کرنے والے وہ کونسے عناصر ہیں جس کی آشیرباد کی وجہ سے شہر کے وسط میں واقع پلازہ مکمل ہونے کا نام نہیں لے رہا۔

مزید :

کراچی صفحہ اول -