توانائی بحران کاحل حکومت کی ترجیحات میں ہی نہیں‘ میاں مقصود

توانائی بحران کاحل حکومت کی ترجیحات میں ہی نہیں‘ میاں مقصود

  

ملتان(جنرل رپورٹر)امیرجماعت اسلامی پنجاب میاں مقصود احمد نے کہاہے کہ ایک طرف تاریخ میں پہلی بارملک کے مختلف علاقوں میں درجہ حرارت54سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا ہے لیکن دوسری جانب حکمرانوں کے لوڈشیڈنگ نہ کرنیکے تمام تر دعوؤں کے باوجود شارٹ فال 5ہزارمیگاواٹ سے تجاوز کرچکا ہے۔ملک میں بجلی کی طلب 22ہزارجبکہ پیداوار17ہزارمیگاواٹ ہے (بقیہ نمبر32صفحہ12پر )

جس کی وجہ سے دیہی علاقوں میں 14گھنٹے اور شہروں میں10گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔پنجاب سمیت پورے ملک میں عوام سراپا احتجاج ہیں۔رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں بھی کسی قسم کاکوئی ریلیف فراہم نہیں کیاگیا۔انہوں نے کہاکہ پورے ملک میں بجلی کی طویل بندش کاسلسلہ جاری ہے۔سحروافطار کے اوقات میں بھی بجلی میسرنہیں۔عوام کی زندگی اجیرن ہوچکی ہے۔توانائی بحران پر قابو پانا حکمرانوں کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں۔چھ ماہ میں لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے دعویدارحکمران اب2018میں لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی نوید سنارہے ہیں۔صنعتیں بند اور کاروبار ٹھپ ہوچکے ہیں۔بے روزگاری کی وجہ سے لوگ فاقہ کشی اور خودکشی پر مجبور ہیں مگراس معاملے میں حکمرانوں کی بے حسی شرمناک ہے۔انہوں نے کہاکہ رمضان المبارک کے بابرکت مہینے کے آغازپر ہی حسب روایت اشیائے ضروریہ خصوصاً کھانے پینے کی اشیاء کی قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں پرائس کنٹرول کمیٹیاں کہیں نظر نہیں آتیں۔شکایات سیل بھی محض کاغذی کاروائی تک محدود ہوچکے ہیں۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -