باجوڑ میں ناروا لوڈشیڈنگ ،عوام کی زندگی اجیرن

باجوڑ میں ناروا لوڈشیڈنگ ،عوام کی زندگی اجیرن

  

باجوڑ ایجنسی میں بجلی کے طویل لوڈشیڈنگ نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی ہے ہیڈکوارٹر خار میں صرف چار گھنٹے بجلی دی جا رہی ہے جبکہ ریاست خار کے دوسرے علاقوں لوئی سم،رشکئی،عنایت قلعہ بازار،جار ملا کلے اور حاجی لونگ میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 22 گھنٹے تک پہنچ چکا ہے اس کیساتھ ایجنسی کے دوسرے دور افتادہ تحصیلوں ،تحصیل ماموند، تحصیل سلارزئی، تحصیل چارمنگ، ناوگئی ،ارنگ اور برنگ کو ہفتوں بجلی کا لوڈشیڈنگ کیا جاتا ہے جسکیوجہ سے شدید گرمی اور حبس سے لوگ شدید متاثر اور بچے بیمار ہو رہے ہیں ایجنسی کے ہیڈکوارٹر ہسپتال خار میں بھی لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے مریضوں کیساتھ آنے والے لوحقین ہسپتال میں پینے اور وضوء بنانے کیلئے پانی کے عدم دستیابی پر احتجاج کر رہے ہیں چونکہ ایجنسی میں ذیادہ تر لوگ زرعی کاروبار سے و ابستہ ہیں اور کھیتوں میں سبزیاں آگانے کے علاوہ ایسے لوگ بھی ذیادہ ہیں جوسبز یوں کے ضروریات کو پورا کرنے کیلئے گھروں میں سبزیاں اُگاتے ہیں لیکن بجلی کے طویل لوڈشیڈنگ سے وہ بھی شدید متاثر ہوئے ہیں اور واپڈا حکام پر تنقید کر رہے ہیں کہ ہمیشہ رمضان کا مہینہ شروع ہوتے ہی بجلی غائب کی جاتی ہے جس سے ہمارے کھیتوں میں سبزیاں خُشک اورسوکھے ہو جاتی ہیں خار بازار کے مسجدوں میں پانی کے عدم د ستیابی سے لوگ دور نہروں میں وضو کیلئے جاتے ہیں جسکی وجہ سے رمضان کے مقدس مہینے میں اُن کے باجماعت نمازیں قضاء ہو جاتے ہیں عوام نے ٹیسکو حکام ،ایس ڈی او واپڈا سے پُر زور مطالبہ کیا ہے کہ رمضان کے مقدس مہینے میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم کریں اور پولٹیکل ا نتظامیہ سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ واپڈا حکام سے مل بیٹھ کر طویل لوڈشیڈنگ کو کم کرنے کیلئے کردار ادا کریں۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -