شانگلہ خوڑ اور دریاؤں میں مچھلیوں کی اموات بدستور جاری

شانگلہ خوڑ اور دریاؤں میں مچھلیوں کی اموات بدستور جاری

  

الپوری(ڈسٹر کٹ رپورٹر)شانگلہ خوڑ اور دریاؤں میں مچھلیوں کی اموات بدستور جاری،پر اسرار بیماری سے مچھلیوں کی نسل کشی ہورہی ہے، شانگلہ میں بہترین ٹراؤٹ فش کی نسل کنسرسے ختم ہونے کا انکشاف۔ اہل علاقہ نے بتایا کہ دریا ؤں کے پانی گندہ اور زہریلا ہو گیا ہے جس سے مچھلیوں کو کنسر لگ گیا ہے،لوئی خوڑ ،امنوی خوڑ،مخوزی پورن اور دیگر دریا مردہ مچھلیوں سے بھرے پڑے ہیں محکمہ فشریز نے خوڑوں سے ٹیست کیلئے مچھلیاں لیبارٹری بھجوا دی ہیں تاہم مزید کارروائی کا انتظار ہے ،ڈائریکٹر فشریز شانگلہ غائب ہے ، فشریز دیپارٹمنٹ صرف تنخواہوں اور مراعات لینے تک محدود۔دریاؤں میں مچھلیوں کو بچانے کیلئے سماجی حلقے حرکت میں اگئے، اہل علاقہ نے بتایا کہ گزشتہ کئی دنوں سے دریاؤں میں ایک بیماری پھیل گئی ہے جس سے مچھلیوں کی نسل کشی ہورہی ہے ،ان دریاؤں میں ٹھنڈے پانی کے بہترین ٹرائیوٹ مچھلی اور مقامی مچھلی کی نسلیں تباہ ہورہی ہیں، ان بے زبان مچھلیوں کی بچانے کیطرف کوئی توجہ دی گئی ہے ،یہ محکمہ فشریزکی نا اہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے، حکو مت سے لاکھوں کے تنخواہیں اور مراعات صرف ان مچھلیوں کے عو ض لے رہے ہیں، لیکن ان کی غفلت کی وجہ سے مچھلیوں کی اموات میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے،اہلیان علاقہ نے بتایا کہ وہ از خود جاکر فشریز حکام سے رابطہ کیا تو انہوں نے بتایا کہ خوڑ میں چونا اور نمک ملا دیجیئے اس سے بیماری کنٹرول ہو جائے گی ، شانگلہ کے دریاؤں میں مچھلیوں کی بیماری پر عوامی اور سماجی حلقوں نے حکومت خیبر پختونخوا سے محکمہ فشریز شانگلہ کی غفلت پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

مزید :

راولپنڈی صفحہ آخر -