بیوہ کے ساتھ فراڈ‘ ڈائریکٹر ایف آئی اے ملتان سے جواب طلب

بیوہ کے ساتھ فراڈ‘ ڈائریکٹر ایف آئی اے ملتان سے جواب طلب

  

مظفرگڑھ(نامہ نگار)ایڈیشنل سیشن جج مظفرگڑھ فر قان احمد نے مظفرگڑھ کی نواحی بستی دنیا پور موضع مراد آباد کی رہائشی اور ملٹری اکاؤنٹس برانچ ملتان میں تعینات اکاؤنٹ آفیسر محمد عباس مرحوم کی بیوہ رابعہ عباس کی طر ف سے اندراج مقدمہ کی دائر درخواست پر ڈائریکٹر ایف آئی اے ملتان سے 31مئی تک رپورٹ طلب کر لی ہے ۔درخواست میں رابعہ عباس نے مو قف اختیار کیا تھا کہ میراخا وند سال 2011ء (بقیہ نمبر42صفحہ12پر )

دوران ڈیو ٹی فوت ہو گیا تھا جسکی وفات کے کچھ عرصہ بعد ملٹری اکاوئنٹ برانچ ملتان میں تعینات اسسٹنٹ اکاؤنٹس آفیسر اور یونین عہدیدار عبدالمجید ان کے گھر مرادآباد (مظفرگڑھ)آئے اور بتایا کہ گورنمنٹ کی طرف سے ملٹری آفیسرز کی بیواؤں کے لئے پندرہ ہزار روپے کا چیک آپ کے لئے آیا ہے اور مزید بتایا کہ حکومت نے ایک ہاؤسنگ سکیم اسلام آباد میں شروع کی ہے جس میں بیواؤں کو پلاٹ دئیے جائیں گے ۔جس کے لئے انہوں نے مجھ سے سادہ کاغذ پر دستخط کرا ئے اور تصاویر کیساتھ قومی شنا ختی کارڈ کی کاپی بھی لے گئے وہ ایک سال کے بعد دوبارہ میرے گھر آیا اور ایک لاکھ روپے کا امدادی چیک دیکر مجھے مبارکباد دی کہ آپ کا پلاٹ بھی نکل آیا ہے پلاٹ کی قیمت چایس لاکھ روپے ہے جو کہ فیڈرل گورنمنٹ ہاؤسنگ ایمپلائز فاؤنڈیشن جی ۔10/4اسلام آباد میں دفتر میں فارم درخواست جمع کرائیں اور پلاٹ کی اقساط چار یا پانچ بار قیمت ادا کرنی ہے ۔عبدالجمید نے رو برو گوا ہان پسران سہیل عباس اور عبدالقیوم پندرہ لاکھ روپے کی رقم جو کہ میرے مرحوم خاوند محمد عباس کی گریجوایٹی ،پینشن وغیرہ ملی تھی مجھ سے وصول کی اور چلا گیا ۔اس دوران میں نے اپنے بیٹے سہیل عباس کو اسلام آباد تصدیق کے لئے بھیجا تو وہاں فائل پلاٹ چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ اس میں تصویر اور فائل تو رابعہ عباس کے نام کی تھی لیکن پتہ مکان نمبر 85گلی نمبر27-10/2Gاسلام آباد درج تھا اور کسی مشتاق قریشی کا ای میل ایڈریس بھی درج تھا ۔جس کی نشا ہدہی پر فاؤنڈیشن حکام نے فائل پر پتہ تبدیل کرتے ہو ئے میرا درست پتہ دنیا پور موضع مرادآبا ضلع مظفرگڑھ درج کردیا جس کے بعد میں پلاٹ کی دوسری قسط دس لاکھ روپے جمع کرادی ۔لیکن عبدالمجید نے پتہ تبدیل کا علم ہونے پر سنگین نتائج کی دھکمیاں دینا شروع کردیں ۔وہ نہ تو پچاس ہزار ممبر شپ کی رسید اور نہ دس لاکھ روپے پہلی قسط کی رقم کی رسید دے رہا ہے اور نہ ہی پانچ لاکھ روپے جو اس نے پلاٹ کے نام پر فراڈ سے بٹورے وہ واپس دے رہا ہے ۔ سائلہ نے ڈائریکٹر ایف آئی اے و دیگر حکام کودرخواستیں دیں لیکن تا حال شنوائی نہیں ہوئی بلکہ کار روائی سے انکار کر دیا گیا ۔جس پر فاضل جج نے ایف آئی اے حکام سے رپورٹ طلب کر لی ہے ۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -