رمضان بازار شہریوں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام، یوٹیلیٹی سٹورز پر بھی ریلیف غائب

رمضان بازار شہریوں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام، یوٹیلیٹی سٹورز پر بھی ریلیف ...

  

ملتان ‘ ٹبہ سلطان پور ‘ گگو منڈی ‘ بہاولپور ‘ دھنوٹ ‘ ترنڈہ محمد پناہ ‘ صادق آباد ‘ کروڑ لعل عیسن ‘ فتح پور ( نیوز رپورٹر ‘ نمائندگان ) کروڑوں کے اخراجات سے قائم رمضان بازار شہریوں کی توجہ حاصل کرنے میں ناکام ‘ چینی اورآٹا کے سوا دیگر اشیاء غائب ‘ یوٹیلٹی سٹورز پر بھی سستی اشیاء کی فراہمی خواب بن کر رہ گئی ۔ اس سلسلے میں تفصیل کے مطابق ضلعی انتظامیہ کی جانب سے رمضان المبارک کے حوالے سے لگائے جانیوالے رمضان بازار شہریوں کی توجہ حاصل کرنے(بقیہ نمبر59صفحہ12پر )

میں مکمل طور پر ناکام ہو گئے ہیں ۔ جبکہ ائیرکنڈیشنڈ بازاروں میں اکا دکا صارف دیکھا جا سکتا ہے ‘ پچھلے چند سالوں سے کروڑوں روپے کے اخراجات سے رمضان بازاروں کا انعقاد سیاسی ٹھیکیداروں کیلئے تو باعث رحمت جبکہ عوام کیلئے ماسوائے زحمت ہی رہتا ہے ۔ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مارکیٹ کمیٹی کے مقررہ نرخوں پر اشیائے خورد ونوش کی فراہمی جس کے تحت ایک روپے سے لیکر 5 روپے تک کی رعایت دی جاتی ہے ‘ ماسوائے چینی اور آٹا کے جبکہ ایک رمضان بازار کے انعقاد پر ماہانہ کروڑوں روپے کے اخراجات اٹھتے ہیں ‘ عام سے مفہوم میں یہ کروڑوں روپے ٹھیکیدار کی جیب میں منتقل ہو جاتے ہیں ۔ لیکن اس پر لیبل رمضان بازار اور شہریوں کو ریلیف کا چسپاں کیا جاتا ہے ۔ پنجاب حکومت کو عوام کے ٹیکسز کے روپوں کا یوں ضیاع کرنے کی بجائے پرائس کنٹرول نظام کو مضبوط کرنے سمیت غلہ منڈی اور سبزی منڈیوں میں اپنی رٹ قائم کرنی چاہیے تاکہ رمضان بازاروں کے نام پر عوام کو مزید بے خوف بنانے کے تجربوں کی ضرورت پیش نہ آئے ۔ ملتان میں لگائے جانیوالے رمضان بازاروں میں سے متعدد ایسے ہیں جو ابھی تک مکمل فعال ہی نہیں ہو سکے اور جو فعال ہو چکے ہیں ان میں صارفین کیلئے چینی اورآٹا کے سوا کسی بھی چیز میں کوئی خاص دلچسپی نہیں دیکھی جا رہی ۔ ٹبہ سلطان پور سے نامہ نگار کے مطابق ٹبہ سلطان پور میں ماہ رمضا ن کے آتے ہی پھلوں کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگی ٹبہ سلطان پورمیں انار600 فی کلو ،سیب300 روپے ، آلو بخارہ 400 روپے، لو کاٹ روپے جبکہ لیموں 400روپے فی کلو مارکیٹ میں فروخت ہو رہا ہے۔ گگو منڈی سے نامہ نگار کے مطابق مقامی رمضان بازار میں برائلر کا گو شت 12روپے فی کلو مہنگافروخت ہو نے کی خبروں کی اشاعت پر آج2روپے فی کلو قیمت کم کر کے 190روپے مقر ر کر دی گئی جبکہ اوپن مارکیٹ میں 180روپے کلو ہے اور رمضان بازار میں 10روپے فی کلو مہنگا فروخت ہو رہا ہے ۔جبکہ رمضان بازار میں آڑو 145روپے کلو اور اس کے مقابلہ میں ما رکیٹ میں 120روپے کلو مل رہا ہے اور سبزیاں بھی با سی فروخت ہو رہی ہیں۔ بہاولپور سے بیورو رپورٹ کے مطابق عام مارکیٹ اورسستے رمضان بازاروں میں اشیاکی قیمتوں میں کوئی فرق نہیں بلکہ بعض اشیاجوعام مارکیٹ میں دستیاب ہیں وہ رمضان بازاروں میں زیادہ نرخوں پرفروخت کی جارہی ہیں رمضان بازاروں میں ہرچیز خواہ وہ پھل ہوں یاسبزیاں یادیگراشیائے ضروریہ ان کے نرخوں میں یکسانیت ہے اورجوچیزبازار میں جتنی قیمت پردستیاب ہے اتنی ہی قیمت پروہ سستے رمضان بازاروں میں فروخت کی جارہی ہے شہریوں شبیر خاکوانی، حنانسیم، نویداکبر، یعقوب خان، عاصم شہزاد، محمداکمل جنگی اوردیگرنے کہاکہ عوام کوسستے رمضان بازاروں کے ڈھونگ میں الجھاکر9 ارب روپے ہڑپ کرنے کاپروگرام بنایاگیاہے اورسسبڈی کے نام پرلوگوں کوبیوقوف بنایاجارہاہے ۔ دھنوٹ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق دھنوٹ شہر اور گردونواح میں سبزی فروشوں نے لوٹ مار کا ماحول گرم کر رکھا ہے ماہ رمضان کی آمد کے ساتھ ہی سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کرنے لگیں دکانداروں نے ریٹ لسٹ کو نظر انداز کرکے منہ مانگے دام وصول کرنا شروع کر دیئے ہیں ۔سبزیوں اور پھلو ں کے ریٹ میں خومانی 250سے 300،سیب 150سے 200روپے، آلو بخارہ 300سے 400روپے، آلو اوربھنڈی کے ریٹ بھی آسمانوں کو چھونے لگے۔ ترنڈہ محمد پناہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق غازی پور میں قائم یوٹیلٹی سٹور اورترنڈہ محمدپناہ میں قائم یوٹیلٹی فرنچائز پر عوام کوبنیادی ضروریات زندگی کی اشیاء پر کسی قسم کا کوئی رمضان ریلیف نہیں دیاجارہا بلکہ عام بازار کے نرخ پر اشیاء ضروریہ جن میں قابل ذکر گھی، کوکنگ آئل ،چینی، سرف، صابن، دالیں، چاول اوردیگراشیاء شامل ہیں ان میں سے کسی بھی چیز پر کوئی سبسڈی نہیں دی جارہی اورغریب لوگ ماہ مقدس میں بھی ان اشیاء کو مہنگے داموں خریدنے پر مجبورہیں۔ صادق آباد سے تحصیل رپورٹر کے مطابق عسکری پارک صادق آباد میں بنائے گئے سستے رمضان بازار میں عوام کو سہولیات نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے مقامی انتظامیہ کی طرف سے لگائی گئی الیکٹرک ریٹ ڈسپلے سکرین بھی بند پڑی ہے جبکہ عوام کی سیکورٹی کو فول پروف بنانے کے لیے لگائے گئے واک تھرو گیٹ بھی کام نہیں کر رہے اسی طرح شدید گرمی میں خریداروں کو گرمی سے بچانے کیلئے فرشی پنکھے بھی بند پڑے ہیں۔ کروڑ لعل عیسن سے نمائندہ پاکستان کے مطابق دنیا بھر میں رمضان سے قبل ہی عوام کو فائدہ پہنچانے کی خاطر اشیاء خوردوں نوش کی قیمتوں میں کمی کر کے عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جاتا ہے، مگر یہاں تو جیسے گنگا ہی الٹی بہہ رہی ہے، رمضان کی آمد کے ساتھ ہی منافع خور ایسے متحرک ہوئے کہ سب کچھ مہنگا کر ڈالا۔گرا فروشوں نے پہلا وار فروٹ چاٹ پر کیا، آم، سیب اور کیلا سب مہنگا کر ڈالا، 60 روپے درجن فروخت ہونے والا کیلا اب 100 روپے درجن میں فروخت ہورہا ہے، 150 روپے کلو والا سیب 300 روپے، آم 120 روپے کلو، خوبانی 200 روپے اور آلوچہ 400 روپے کلو میں فروخت ہورہا ہے۔ فتح پور سے نامہ نگار کے مطابق فتح پور میں غیر تصدیق شدہ گوشت دھڑلے سے فروخت کیا جا رہا ہے ۔کوئی پوچھنے والا نہیں لائیو سٹاک کے حکام لسی پی کر سو گئے ہے ۔ محکمہ لائیو سٹاک والوں کی طرف کسی قسم کی کوئی بھی تصدیق مہر ثبت نہیں کی گئی۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -