سحری و افطاری کے وقت توپ سے داغے جانیوالے گولے کے بارے میں توآپ نے سن رکھا ہوگا لیکن اس کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا؟ وہ بات جوآپ کو بھی جان لینی چاہیے

سحری و افطاری کے وقت توپ سے داغے جانیوالے گولے کے بارے میں توآپ نے سن رکھا ...
سحری و افطاری کے وقت توپ سے داغے جانیوالے گولے کے بارے میں توآپ نے سن رکھا ہوگا لیکن اس کا آغاز کب اور کہاں سے ہوا؟ وہ بات جوآپ کو بھی جان لینی چاہیے

  

قاہرہ (ڈیلی پاکستان آن لائن ) دنیا کے مسلم ممالک میں رمضان المبارک کے دوران لوگوں کو سحر و افطار کے وقت سے آگاہ کرنے کیلئے ےوپ کا استعمال کیا جا تا ہے مگر بہت کم لوگ یہ جانتے ہوں گے کہ اس روایت کا آغازمصر کے دارالحکومت قاہرہ سے ہوا اور پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہر ڈیرہ اسماعیل خان سمیت بعض علاقوں میں لوگوں کو جگانے اور افطاری کا اعلان کرنے کیلئے بھی یہی طریقہ رائج ہے ۔

”العربیہ “ کے مطابق مصری ماہر آثار قدیمہ کا کہنا ہے کہ قاہرہ میں افطار توپ کا سب سے پہلے استعمال ممالیک کے عہد میں 1439ءمیں یعنی آج سے6 سو سال پہلے ہوا۔ قاہرہ پہلا شہر تھا جس نے ماہ صیام کے دوران غروب آفتاب یعنی افطاری اور سحری کے اوقات میں توپ استعمال کرنا شروع کی۔ماہرین کے مطابق ماہ صیام کے اعلان اور عید کا چاند نظر آنے کے بعد اس کے اعلان کے لیے توپ کا استعمال 1455ءبمطابق 859ھ میں ملتا ہے۔ یہ ممالیک فرمانروا ’خوش قدم‘ کا دور تھا۔ مصری فرمانروا کو یہ توپ جرمنی کے ایک کارخانہ دار کی جانب سے تحفے میں پیش کی گئی تھی۔

توپ قاہرہ پہنچائے جانے کے بعد اس کے ذریعے پہلا گولہ داغے جانے کا وقت بھی غروب آفتاب ہی تھا۔ جب گولا داغا گیا تو اس کا مقصد غروب آفتاب یا افطار کا اعلان مقصود نہیں تھا مگر عام لوگوں نے اسے افطار کے اعلان کے طور پر سمجھا۔ اگلے روز شہریوں نے قاہرہ کے گورنر کا شکریہ ادا کیا۔

مصری ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر علی احمد طائش کا کہنا ہے کہ قاہرہ کے گورنر نے توپ کو افطاری اور سحری کے اوقات کے تعین کے لیے استعمال میں لانے کا باقاعدہ اعلان کیا جس کے بعد صدیوں تک رمضان توپ کا باقاعدگی سے نہ صرف سحر وافطار کے لیے استعمال ہوتا رہا بلکہ رمضان المبارک اور عیدالفطر کے اعلان کے لیے بھی توپ استعمال کی جاتی۔

ماہرین آثار قدیمہ نے بتایا کی تاریخی مصادر سے پتا چلتا ہے کہ قاہرہ میں سنہ859 ھ میں لائی گئی توپ کو اس وقت کے گورنر خ’’وش قدم ‘‘نے ایک گولہ داغے جانے کے بعد بند کردیا تو شہر کے علماءور سرکردہ شخصیات سلطان سے اپیل کی کہ وہ توپ کو باقاعدگی کے ساتھ سحر وافطار کےاوقات میں چلائیں تاکہ روزہ داروں کو سحر و افطار کے لیے سہولت میسر ہو۔ خوش قدم اس پر راضی نہ ہوا۔ انہوں نے یہ مطالبہ ملکہ الحاجہ فاطمہ کے سامنے رکھا اور ان سے کہا کہ وہ خوش قدم کو قایل کریں، الحاجہ فاطمہ نے اپنے شوہر کو سحر وافطار کے لیے توپ کے استعمال پر قائل کر لیا جس کے بعد آج تک رمضان توپ کا نام ’الحاجہ فاطمہ توپ‘ ہی مشہور رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تاریخی حوالوں سے پتا چلتا ہے کہ والی مصر محمد علی الکبیر نے مصری فوج کے لیے کئی توپیں خرید کی تھیں۔ ایک توپ کو ماہ صیام کے دوران تیار کیا جا رہا تھا کہ اس کا ایک گولہ افطاری کے وقت داغا گیا تو یہ افطاری کی ایک علامت بن گیا۔ اس کے بعد باقاعدگی سے توپ کو سحری اور افطاری کے اعلان کے لیے استعمال کیا جاتا رہا۔

مزید :

بین الاقوامی -