جے آئی ٹی نے طلب کیا تو وزیر اعظم پیش ہونگے,عدالت کے کہنے پر قطری شہزادے کو بھی پیش کیا جاسکتا ہے: حکومتی ذرائع

جے آئی ٹی نے طلب کیا تو وزیر اعظم پیش ہونگے,عدالت کے کہنے پر قطری شہزادے کو ...
جے آئی ٹی نے طلب کیا تو وزیر اعظم پیش ہونگے,عدالت کے کہنے پر قطری شہزادے کو بھی پیش کیا جاسکتا ہے: حکومتی ذرائع

  

اسلام آباد (ویب ڈیسک )کسی شخص نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار نہیں کیا، قطری شہزادے کو وارنٹ بھجوانے کی ضرورت نہیں جب عدالت کہے گی اسے پیش کیا جا سکتا ہے لاہور جے آئی ٹی میں منتخب وزیراعظم کو بھی طلب کیا گیا تو وہ بھی پیش ہونے کو تیار ہیں وہ اس عمل سے گھبرانے والے نہیں۔ دنیا کے جمہوری ممالک میں چیف ایگزیکٹو کی کسی عدالتی عمل میں شرکت اس ملک کے جسٹس سسٹم کی مضبوطی کی دلیل ہوتی ہے ، وزیراعظم نواز شریف پہلے بھی عدالت میں پیش ہوئے ہیں اور اب ہو سکتے ہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کسی شخص نے جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار نہیں کیا ، قطری شہزادے کو وارنٹ بھجوانے کی ضرورت نہیں ، جب عدالت کہے گی اسے پیش کیا جا سکتا ہے۔

سینرصحافی سلمان غنی نے روزنامہ دنیا میں لکھا کہ  حکومت کے ذمہ دار ترین ذرائع نےبتایا  کہ جے آئی ٹی کے عمل میں براہ راست قانونی معاونت دینے والے اعلیٰ ترین ذرائع نے بتایا کہ جے آئی ٹی جو پوچھے گی بتایا جائیگا اور یہ سارا عمل کسی دباو¿ کے تحت نہیں رضا کارانہ بنیادوں پر ہے اور یہ تاثر بے بنیاد ہے کہ شریف خاندان کسی قسم کی دستاویزات مہیا کرنے سے گریزاں ہے ، لہٰذا اپنے اثاثوں پر مبنی دستاویزات اور بیان حلفی جے آئی ٹی اور عدالت کو فراہم کیے جائیں گے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ البتہ نیشنل بینک کے صدر سعید احمد نے آنے سے انکار نہیں کیا بلکہ استفسار کیا کہ اس جے آئی ٹی کے سامنے کوئی دستاویزات کے ہمراہ پیش ہونا ہے ، لہٰذا وہ بھی جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

حکومتی ذرائع کے مطابق یہ خالصتاً قانونی معاملہ ہے بعض عناصرسیاسی بنا رہے ہیں اور ایک سیاستدان تو وزیر اعظم نواز شریف کی نااہلی کیلئے خود کو بھی نااہل قرار دینے کو تیار ہیں ، یہاں سے ان کی ذہنی حالت کا انداز کیا جا سکتا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف اور ان کی حکومت ملک میں آئین قانون کی بالا دستی اداروں کی مضبوطی کا عزم کیے ہوئے ہیں لہٰذا کوئی ہم سے یہ توقع نہ رکھے کہ ہم کسی غیر آئینی غیر قانونی عمل کا حصہ بنیں گے۔ عدالتوں کا احترام ملک میں موثر انصاف کے سسٹم کیلئے لازم ہے اور ہر حالت میں اسے مقدم رکھیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہمیں عدالت عظمیٰ پر بھرپور اعتماد ہے اور انشاءاللہ سرخرو ہوں گے ، البتہ جو لوگ قانون محاذ پر سیاسی مفادات کیلئے سرگرم ہیں ایک مرتبہ پھر انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مزید :

اسلام آباد -